کراچی (ھمگام نیوز) انسانی حقوق کی کارکن سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں گزشتہ ایک ماہ سے اور حالیہ دنوں میں گرفتاری اور قید کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو انہیں اپنے والد کی جبری گمشدگی کے 17 سال مکمل ہونے کے موقع پر ریکارڈ کرنی تھی، تاہم دھمکیوں اور دباؤ کے باعث انہوں نے اسے ایک روز قبل جاری کیا۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ گزشتہ رات ان کے گھر کے باہر سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں آئیں، ان کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 17 سال سے اپنے والد کی جبری گمشدگی کے بعد سے مشکلات، دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرتی آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ماضی میں بھی گرفتار کیا گیا اور جیل کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ ان کے مطابق وہ اپنے والد کی بازیابی اور انصاف کے حصول کے لیے ان مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
سمی دین بلوچ نے مزید کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اگر اسی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ جیل میں بھی اپنے والد سمیت دیگر لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال اٹھاتی رہیں گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے والد کو بازیاب کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔


