کوئٹہ (ھمگام نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے نواحی علاقوں، جن میں لاغ دو، لنجہ، گنجہ، نیلغ، شیشی، موندانی مٹ اور دیگر دیہات شامل ہیں، میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی جانب سے مقامی آبادی کی اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضوں کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی باشندوں کو اپنی آبائی زمینیں خالی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے علاقے میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ مقامی آبادی کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے ماری انرجیز لمیٹڈ کی جانب سے متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو بھاری رقوم فراہم کی گئی ہے تاکہ مقامی لوگوں کو ان کی آبائی اراضی سے ہٹا کر کمپنی کے سروے اور تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یہ اقدامات بلوچ سرزمین کے قدرتی وسائل کے استحصال اور کئی دہائیوں سے جاری معاشی لوٹ مار کے تسلسل کا حصہ ہیں۔
شیر محمد بگٹی نے کہا کہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں 1952ء سے پی پی ایل اور بعد ازاں او جی ڈی سی ایل قدرتی وسائل کو لوٹ رہی ہیں، مگر اس تمام عرصے کے باوجود مقامی آبادی آج بھی پینے کے صاف پانی، معیاری صحت، بجلی، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بلوچ عوام مزید کسی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جس کا مقصد وسائل کا استحصال ہو جبکہ مقامی آبادی کو اس کے بنیادی حقوق اور ترقی سے مسلسل محروم رکھا جائے۔
بلوچ ریپبلکن پارٹی ہر اس منصوبے کی بھرپور سیاسی مزاحمت کرے گی جسے وہ بلوچ وسائل اور سرزمین کے استحصال کا ذریعہ سمجھتی ہے۔


