Homeخبریںجج عبدالحکیم کاکڑ کا قتل، مسافر بس پر حملہ اور کرفیو بلوچستان...

جج عبدالحکیم کاکڑ کا قتل، مسافر بس پر حملہ اور کرفیو بلوچستان کی حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی

کوئٹہ(ھمگام نیوز ) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے کہا ہے کہ مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل، سوراب میں مسافر بس پر حملے اور کھڈ کوچہ میں مسلسل کرفیو جیسے واقعات بلوچستان میں جاری تشدد اور بدترین جبر کی عکاسی کرتے ہیں۔

کمیٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران حساس نوعیت کے مقدمات، خصوصاً جبری گمشدگیوں سے متعلق کیسز کی سماعت کرتے رہے اور متعلقہ اداروں سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ بیان کے مطابق ان کا قتل بلوچستان میں ججوں اور وکلا کو نشانہ بنانے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چند روز قبل سوراب میں ایک مسافر بس پر حملہ کیا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے۔ کمیٹی کے مطابق ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں نہ مسافر محفوظ ہیں، نہ عدلیہ سے وابستہ افراد اور نہ ہی عام شہری۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مزید کہا کہ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مسلسل تین روز سے نافذ کرفیو کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بیان کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سخت سیکیورٹی پابندیاں معمول بن چکی ہیں، جہاں بعض مقامات پر لوگوں کو اپنے ہی علاقوں میں آمد و رفت، شادی، تعزیت اور دیگر سماجی تقریبات کے لیے بھی پیشگی اجازت لینا پڑتی ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال اور جبر نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور کوئی بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لیں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز