کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے کوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشن کے دوران نہتے لوگوں کی ہلاکت و زخمی ہونے اور سینکڑوں دیہاتوں کے جلانے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستا ن میں فوجی کاروائیوں کی وجہ سے روزانہ نہتے لوگوں کے گھر لوٹے و جلائے جارہے ہیں۔عام آبادیاں مسمار ہو رہی ہیں اور بغیر کسی مقدمہ وبہ گناہ کے ثبوت کے نہتے لوگوں کو گھروں ، بازاروں ، و ان کے کھیتوں سے اغواء کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان ریاستی طاقت کے بے جا و بے دریغ استعمال کی وجہ سے انسانی حقوق کی صورت حال کے لئے انتہائی سنگین خطہ بن چکا ہے۔ بلوچستان میں میڈیا و صحافتی اداروں کی اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں سے روگردانی اس مسئلے کو مہذب ممالک و انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی نظروں سے اوجھل کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ بی ایچ آر او کے رہنماؤں نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگوں کے دوران نہتے لوگوں کی حفاظت، چاردیواری کا احترام، زخمیوں اور خواتین و بچوں کا احترام ایک ناقابل تردید قانون ہے، لیکن اس کے برعکس بلوچستان میں جاری جنگ سے نہ خواتین و بچوں کو استثنیٰ حاصل ہے اور نہ ہی چاردیواریوں کے تقدس کا خیال کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ نہتے لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر اغواء و لاپتہ کرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی ہیں۔ بلوچستان حکومت کے دعوؤں کے برعکس بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی حد تک سنگین ہے، گزشتہ سال کے آخری مہینوں سے لیکر تاحال بلوچستان بھر میں پہلے سے جاری آپریشن کی لہر میں انتہائی شدت لایا گیا ہے۔ آپریشن کے اس حالیہ شدت سے پہلے کی طرح نہتے و عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔گزشتہ پانچ دنوں سے آواران کے مختلف علاقوں میں شروع ہونے والے آپریشن کا دائرہ کولواہ و بالگتر تک پھیلایا گیا ہے۔ آواران میں ہزاروں نفوس کی آبادی پر مشتمل کئی دیہات مکمل طور پر جائے جا چکے ہیں، ان متاثرہ علاقوں کے مکین بچوں و خواتین سمیت شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران درجنوں لوگ آواران، مشکے، سبی ، گومازی سمیت بلوچستان بھر سے اغواء کیے جا چکے ہیں، جبکہ رواں مہینے ایک درجن کے قریب مسخ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد میں روزانہ درجنوں کا اضافہ نہ صرف بلوچ عوام کے لئے بلکہ تمام سنجیدہ طبقہ فکر کے لوگوں کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ کیوں کہ ریاستی ادارے بغیر کسی تحقیق و عدالتی کاروائی کے قابو میں لئے ہوئے نہتے لوگوں کو قتل کرکے تسلسل کے ساتھ ان کی لاشیں پھینکنے میں ملوث ہیں۔ بی ایچ آر او نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان اب بھی میڈیا و انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ایک غیر اہم مسئلہ رہا تو یہ انسانی تاریخ کی ایک سنگین غلطی ہوگی۔کیوں کہ انسر جنسی کو کاؤنٹر کرنے کی ریاستی پالیسیاں جنگی قوانین، انسانی حقوق، و انسانی احترام کے روایات کو بالائے طاق رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی ہلاکتیں و نہتے لوگوں کے معاشی نقصانات پریشان کن ہیں۔


