Homeخبریںبلوچستان: کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ: تربت اور کوئٹہ میں سیکیورٹی...

بلوچستان: کئی بڑے شہروں میں کرفیو نافذ: تربت اور کوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

شال/ تربت(ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع خضدار، قلات، نوشکی، سوراب اور تحصیل زہری میں کرفیو باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہیں، جبکہ کوئٹہ اور تربت میں فورسز حکام کی جانب سے سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان حکومت نے فورسز حکام کی ہدایات پر بلوچستان کے مختلف بڑے شہروں میں کرفیو یا سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جبکہ کوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کے تحت ریڈ زون کو سیل کردیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان نے شہروں میں کرفیو کے نفاذ کی میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے، تاہم مقامی سطح پر انتظامیہ کو ہدایات جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں کہ وہ شام 6 بجے سے قبل دکانیں اور کاروباری مراکز بند کرا دیں۔

قلات شہر میں حکام نے شام ہوتے ہی دکانیں بند رکھنے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ شہر میں پاکستانی فورسز کی بھاری نفری موجود ہے اور داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

قلات سے اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے شہر کے کئی اہم شاہراہوں پر خندقیں کھود دی ہیں، جبکہ فورسز کی جانب سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بھی خندقیں کھودنے اور ٹریفک معطل کئے جانے کے اطلاعات ملی ہیں۔

گزشتہ روز خضدار میں بھی شام 6 بجے کے بعد کاروباری مراکز بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کا نفاذ تاحکمِ ثانی جاری رہے گا۔

اسی طرح آج تربت میں سیکیورٹی تھریٹ کے باعث ایف سی اور پولیس کی اضافی نفری شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی اور چیکنگ کا عمل مزید سخت کردیا گیا ہے، تربت میں گزشتہ کئی روز سے دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں مزید ایف سی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ شہر کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں گزشتہ روز پولیس حکام نے تھریٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے چار ہزار جنگجو شہر کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تاہم بعد ازاں حکومتی ترجمان نے پولیس کے اس نوٹیفکیشن کی میڈیا رپورٹس میں تردید کردی تھی۔

ادھر ضلعی انتظامیہ سوراب نے ضلع میں سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر 6 اگست 2026 کی شام 6 بجے سے 8 اگست کی صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دکانیں اور کاروباری مراکز بند کرا دیے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور سیکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔

مزید برآں بلوچستان کے ضلع نوشکی اور تحصیل زہری گزشتہ کئی ماہ سے کرفیو کی زد میں ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بھی کرفیو نافذ کردیا گیا

تھا جو تاحال جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز