Homeخبریںکوئٹہ اور کراچی سے پانچ افراد جبری گمشدگی کا شکار

کوئٹہ اور کراچی سے پانچ افراد جبری گمشدگی کا شکار

کوئٹہ (ہمگام نیوز) کوئٹہ اور کراچی میں پانچ افراد کے جبری گمشدگی کا شکار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں ایک 17 سالہ طالب علم بھی شامل ہے، جبکہ ایک شخص گزشتہ دو سال سے لاپتہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے کلی الماس ایئرپورٹ روڈ سے 17 سالہ طالب علم اسفند بلوچ ولد دوست محمد بلوچ کو 4 اگست 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے پاکستانی خفیہ اداروں آئی ایس آئی، سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکار اپنے ہمراہ لے گئے، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

کوئٹہ ہی سے واجد بلوچ ولد محمد انور بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ 27 سالہ طالب علم واجد بلوچ کو 10 اگست 2024 کی شب تقریباً ایک بجے قمبرانی روڈ، کشمیر آباد سے سی ٹی ڈی اہلکار اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ دو سال گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

ادھر کراچی کے علاقے حاجی شاہ علی ٹاؤن، شرافی ملیر سے دو افراد، 26 سالہ مزدور اسامہ ولد صادق اور 25 سالہ مزدور نیاز ولد رشید، کو یکم اگست 2026 کی شب تقریباً 1:30 بجے رینجرز اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص، شاہد ولد عبد الحمید، بھی اسی رات جبری گمشدگی کا شکار ہوئے۔ شنبے گوٹھ، شرافی ملیر کراچی کے رہائشی شاہد پیشے کے اعتبار سے مکینک ہیں اور انہیں بھی یکم اگست 2026 کو رات تقریباً 1:30 بجے رینجرز اور سی ٹی ڈی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بیشتر واقعات ریاستی دباؤ اور خوف کے باعث بروقت منظر عام پر نہیں آتے، جس کے نتیجے میں متعدد کیسز کئی روز ،کئی ہفتوں اور سال بعد رپورٹ کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز