شال(ہمگام نیوز) بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے میڈیا میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے ہمارے سرمچاروں نے کوئٹہ میں سریاب مل کے مقام پر 10 اگست کی
شام سات بجے آپریشن گوبٹ یعنی گوئیٹ کے تحت قابض پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی سرپرستی میں چلنے والی ڈیتھ سکواڈ کے ایک اہم کارندہ فاروق محمد حسنی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔
ریاستی مخبر اور ڈیتھ سکواڈ کا یہ کارندہ 2015 اور2016 سے بلوچستان کے علاقوں گیشک، قلات، منگچر، جوہان، ناگاہو اور مضافات میں بلوچ جہد کاروں کے خلاف فوجی آپریشنوں ، بلوچ آبادیوں میں چھاپوں اور بلوچ دشمن سرگرمیوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔
بلوچستان میں آپریشنوں کےدوران انہوں نے پاکستان کی خفیہ اداروں اور قابض فوج کی سربراہی میں کئی جگہوں پر آپریشنوں کے دوران قابض پاکستان کی سہوللت کاری کی اور بلوچ جہد کاروں کے جبری اغوا اور جانی نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ قابض پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے انہیں قلات اور منگچر میں اسلحہ ، گاڑیاں اور دیگر لاجسٹک اور انٹیلیجنس مدد مہیا کرتی رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی انٹیلیجنس ان کا کافی عرصہ سے پیچھا کررہی تھی۔ ہمیں انفارمیشن ملی تھی کہ وہ منگچر سے کوئٹہ پہنچ گئے ہیں جس پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے ہمارے سرمچاروں نے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا ہے ۔ بی ایل اے کا ہمیشہ یہ واضح اور دوٹوک موقف رہا ہے کہ بلوچستان کی تحریک آزادی کے خالف سرگرم ریاستی مخبر ، آلہ کار ہمارے نشانے پر ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری
رہیگی۔


