Homeخبریںبلوچستان میں قبائل اور علما کی مولوی عبدالحمید سے حمایت، اغوا اور...

بلوچستان میں قبائل اور علما کی مولوی عبدالحمید سے حمایت، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف مشترکہ مؤقف

زاہدان(ہمگام نیوز ) 15 اگست 2026: ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں مختلف بلوچ قبائل، علما، قبائلی عمائدین اور مقامی معتبرین نے زاہدان کی مکی مسجد میں مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی سے ملاقات کرکے ان کے سماجی اور سکیورٹی سے متعلق مؤقف کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یہ ملاقاتیں ایرانی حکام کی جانب سے مولوی عبدالحمید کے حالیہ بیانات پر تنقید کے بعد سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ دنوں کبدانی، شاہوزہی اور کہرازی قبائل سمیت دیگر بلوچ قبائل نے مکی مسجد میں ان سے ملاقات کی۔ اس سے قبل شہ بخش، براہوی، نارویی، گمشادزہی اور بریچی قبائل بھی ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قبائلی نمائندوں نے خاص طور پر اغوا، یرغمال بنانے، بھتہ خوری اور مسلح ڈکیتی کی مخالفت کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی دوران گلشن (جالق)، سراوان اور بم پشت کے علما، طلبہ، قبائلی عمائدین اور شہریوں کے ایک وفد نے بھی مکی مسجد میں مولوی عبدالحمید سے ملاقات کرکے ان کے مؤقف سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب 12 اگست 2026 کو گلستان کے آزادشہر میں بدیچی اور شیرزہی قبائل کے درمیان تقریباً دو سال سے جاری اختلاف بھی علما، قبائلی عمائدین اور مقامی معتبرین کی ثالثی سے ختم ہوگیا۔ جامع مسجد آزادشہر میں ہونے والی صلح کے دوران دونوں قبائل نے باہمی اختلافات ختم کرنے، ایک دوسرے کو معاف کرنے اور مستقبل میں تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

مولوی عبدالحمید نے حالیہ خطبے میں مقبوضہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے اغوا اور یرغمال بنانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اغوا کاروں کی حمایت کو عوام سے خیانت قرار دیتے ہوئے علما اور قبائلی عمائدین سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ ایسے عناصر کی حمایت نہ کریں۔

ایرانی اہلکار کا مؤقف

ان حمایتوں کا سلسلہ 7 اگست 2026 کو بلوچستان میں ایرانی رہبر اعلیٰ کے نمائندے مصطفیٰ محامی کے خطبے میں مولوی عبدالحمید پر کی گئی تنقید کے بعد شروع ہوا۔ محامی نے ان کا نام براہِ راست لیے بغیر ان پر ’’وہابی نظریات‘‘ کے فروغ، مسلمانوں کی تکفیر اور بلوچستان میں بدامنی کے لیے ماحول پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

اس کے بعد مولوی عبدالحمید نے اپنے حالیہ خطبے میں کہا کہ بلوچستان اور ملک میں انتہاپسندی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئی اور آئندہ بھی نہیں ہوگی، جبکہ بلوچستان جیسے متنوع خطے کے لیے اعتدال، تدبر، میانہ روی، دوراندیشی اور عوام کے احترام کو ضروری قرار دیا۔

مولوی عبدالحمید کے مؤقف کے بعد مختلف بلوچ قبائل، علما اور مقامی معتبرین کی مسلسل مکی مسجد آمد اور حمایت کو بلوچستان میں جاری اغوا، بھتہ خوری اور امن و امان کے مسائل کے حوالے سے ان کے مؤقف کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز