Homeخبریںنذر مری کی ایک سالہ جبری گمشدگی خاموشی نہیں، انصاف کا سوال...

نذر مری کی ایک سالہ جبری گمشدگی خاموشی نہیں، انصاف کا سوال ہے: بی وائی سی

کوئٹہ(ہمگام نیوز ) 27 اگست 2026: بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچ سیاسی کارکن نذر مری کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہ آنا انسانی حقوق اور انصاف کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق نذر مری کو 27 اگست 2025 کو کوئٹہ کے گولیمار چوک سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتا کیا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود نذر مری کے مقام، حالت اور سلامتی کے بارے میں ان کے خاندان کو کوئی واضح اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔

بی وائی سی نے کہا کہ نذر مری ایک پرامن بلوچ سیاسی کارکن ہیں، جنہوں نے اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق، انسانی وقار اور سیاسی آزادی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ تنظیم کے مطابق ان کی گمشدگی محض ایک فرد کو اس کے خاندان سے جدا کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ آزادیِ اظہار اور سیاسی اختلاف کے حق سے متعلق بھی ایک اہم سوال ہے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی ایسے شخص کو لاپتا کرنا جو پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتا ہو اور اس کے خاندان کو طویل عرصے تک بے یقینی میں رکھنا انسانی حقوق اور انسانی وقار کے منافی ہے۔

بی وائی سی کے مطابق نذر مری کی جدوجہد صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر انسان کے اس بنیادی حق کی جدوجہد ہے کہ وہ اپنی بات کہہ سکے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے اور ناانصافی کے خلاف پرامن انداز میں کھڑا ہو سکے۔

بی وائی سی نے کہا کہ خوف، جبر اور جبری گمشدگیوں کے ذریعے سیاسی شعور کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مکالمے اور پرامن سیاسی عمل کو اختیار کرنے پر زور دیا۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ اگر پرامن سیاسی کارکنوں کی آوازوں کو دبانے اور مکالمے کے راستے محدود کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے معاشرے میں مزید بے یقینی اور کشیدگی پیدا ہوگی۔

بی وائی سی نے مطالبہ کیا کہ نذر مری کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر وہ کسی ریاستی ادارے کی تحویل میں ہیں تو ان کے مقام اور قانونی حیثیت کے بارے میں اہلخانہ کو آگاہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز