ایرانشہر(ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق ہفتہ 29 اگست 2026 کی شام تقریباً 17 سالہ ستائش بامری کو ایک روز حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ستائش بامری کو گزشتہ روز 28 اگست 2026 کو ایرانشہر کے علاقے غریب آباد، رازی اسٹریٹ میں واقع ایک رہائشی مکان پر قابض ایرانی سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ستائش بامری عبدالغفور کی بیٹی، ضلع دلگان سے تعلق رکھنے والی اور ایرانشہر کی رہائشی ہیں۔ وہ مذکورہ خاندان کی بہو ہیں۔ اس خاندان کی دو دیگر خواتین، 25 سالہ شیما بامری اور 23 سالہ صائمہ بامری، جو دونوں سلیمان کی بیٹیاں اور ایرانشہر کی رہائشی ہیں، بدستور زیرِ حراست ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق ستائش بامری کی رہائی کے بعد ان کے چہرے پر نیل اور تشدد کے واضح نشانات دیکھے گئے۔
پچھلے رپورٹ کے مطابق 28 اگست 2026 کو تقریباً دوپہر 2 بجے قابض ایرانی سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں، جن میں سادہ لباس اہلکار بھی شامل تھے، نے ایک مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کے لیے مذکورہ گھر پر چھاپہ مارا۔ بتایا گیا ہے کہ اس شخص کے خلاف ایک نجی فریق کی شکایت درج تھی اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ اہلکاروں نے خاندان کے افراد پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مطلوب شخص کو گھر میں چھپا رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق گھر میں داخل ہونے کے بعد اہلکاروں نے اہل خانہ، بالخصوص وہاں موجود خواتین کو گالم گلوچ اور نازیبا الفاظ کے ذریعے مبینہ طور پر ہراساں کیا۔ خواتین نے اس رویے پر احتجاج کرتے ہوئے اہلکاروں کو جواب دیا، جس کے بعد تلخ کلامی شروع ہوگئی اور مبینہ طور پر اہلکاروں نے خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران مرد اہلکاروں نے کسی خاتون اہلکار کی موجودگی کے بغیر، گھر میں موجود بچوں کے سامنے تین خواتین کو مکوں، لاتوں اور اسلحے کے بٹ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں تینوں خواتین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تشدد کے دوران شیما بامری کے سر پر شدید چوٹ آئی اور ممکنہ طور پر ان کی کھوپڑی میں فریکچر ہوا ہے، جبکہ صائمہ بامری اور ستائش بامری کے چہروں پر بھی نیل اور دیگر زخم آئے۔
تینوں خواتین کی گرفتاری کے بعد ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے ان کی صورتحال جاننے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا۔ رشتہ داروں کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ شیما، صائمہ اور ستائش بامری کو “سرکاری اہلکاروں کو گالیاں دینے” کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق گھر میں داخلے کے دوران توہین آمیز زبان کا استعمال مبینہ طور پر اہلکاروں کی جانب سے شروع ہوا تھا، جبکہ خواتین نے اسی رویے کے ردعمل میں اہلکاروں کو جواب دیا۔
اطلاعات کے مطابق مطلوب شخص کی گرفتاری کے لیے سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کا اس گھر پر یہ دوسرا چھاپہ تھا۔ مذکورہ شخص کے مقدمے اور اس کی موجودہ قانونی صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
ستائش بامری کی رہائی کے باوجود شیما بامری اور صائمہ بامری بدستور زیرِ حراست ہیں۔ ان کے اہل خانہ کو تاحال ان کے حراستی مقام، جسمانی حالت اور مقدمے کی قانونی کارروائی کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دی گئی ہیں۔
خاندان اور رشتہ دار دونوں خواتین کی صورتحال اور حراستی مقام معلوم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ تشدد کی اطلاعات کے باعث انہیں بالخصوص ان کی جسمانی صحت کے حوالے سے شدید تشویش ہے۔
ذرائع نے شیما اور صائمہ بامری کے حراستی مقام، جسمانی حالت اور قانونی صورتحال کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ چھاپے اور گرفتاری کے دوران تینوں خواتین کے ساتھ سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کے مبینہ سلوک کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر ان دونوں خواتین کی صورتحال یا ان کے بارے میں مزید قابلِ تصدیق معلومات موصول ہوئیں تو مزید تفصیلات شائع کی جائیں گی۔


