شال (پریس ریلیز)، یکم ستمبر، 2026: بلوچ لبریشن آرمی نے کل اکتیس اگست شام چھ بجے کے وقت چاغی دشت گوران میں نادر آباد کے مقام پر ناکہ بندی اور سنیپ چیکنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس دوران پاکستان کی قابض فوج کے آٹھ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ وہاں پہنچی جنہیں علاقہ کے ڈیتھ سکواڈ عناصر کی مدد بھی حاصل تھی۔
بی ایل اے کے سرمچاروں نے جنگی حکمت عملی کے تحت مورچہ سنبھال کر دشمن پر شدید نوعیت کے حملے شروع کردیے۔ ہمارے جانباز وطن کے ثپوت انتہائی بہادری، دلیری اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہوکر قابض پاکستانی فورسز پر کاری ضربیں لگاتے رہے۔ اس دوران دشمن کے چار گاڑیاں ہمارے گھیرے میں آگئے جنہیں شدید نقصان پہنچایا گیا اور ان میں سوار تمام اہلکار ہلاک ہوگئے۔ راکٹ اور جدید ہتھیاروں کے استعمال نے دشمن کو بھاگنے کا راستہ بھی نہیں دیا۔ ہمارے ماہر نشانہ باز سرمچاروں نے دشمن کے ایک گاڑی کو راکٹ سے نشانہ بناکر مکمل طور پر تباہ کردیا جس سے دشمن کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔ اس مذکورہ گاڑی کو بعد میں کرین کے ذریعے اٹھا کر لے جایا گیا ہے۔ دشمن تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ہمارے بہادر سرمچاروں کا مقابلہ نہ کرسکی۔
بی ایل اے کے اس موثر جوابی کاروائی نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا ہے۔ ہمارے بہادر سرمچاروں کے حملے سے قابض پاکستانی فوج کے بیس اہلکاروں میں کیپٹن عبید (147/ ایل سی، سابقہ 69 /پی آر، 60/ڈبلیو) بھی شامل ہیں۔ دشمن پاکستانی فوج کا یہ وطیرہ رہی ہے کہ وہ اپنے ہلاک سپاہیوں اور آفسرز کی اصل تعداد کو چھپاتی ہے اس واقعہ میں بھی وہ حسب روایات اپنی ہلاک، زخمی اہلکاروں اور لاجسٹک نقصانات کو چھپارہی ہے۔
دشت گوران چاغی کے اس معرکہ میں بی ایل اے کے دو عظیم بیٹے اپنے وطن پر قربان ہوگئے۔ شہید سنگت ناصر عر ف بابا اور شہید سنگت بشیر عرف شوکت نے دلیری، بہادری کی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے دشمن کے گھیرے میں آنے کے باوجود انتہائی جنگی مہارت، حکمت عملی اور بہادری سے دشمن کے سینکڑوں قبضہ گیر فوج کے اہلکاروں کو لوہے کے چنے چبوائے۔ شام ساڑھے چھ بجے سے رات چار بجے تک وقفے وقفے سے جاری رہنے والی اس لڑائی میں دشمن کو تاریخی شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ دشمن رات دیر تک اپنی تباہ شدہ گاڑیاں، اور زخمیوں کو وہاں سے لے جانے میں مصروف تھی۔ علاقہ کے مقامی لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ جائے وقوعہ سے درجنوں ایمبولینس دشمن کی لاشوں کو اٹھاتے رہے۔ قابض پاکستانی فوج کو دوران لڑائی ڈرون طیاروں کی مدد بھی حاصل تھی۔
دشت گوران چاغی میں نمیران ہونے والے سنگت ناصر عرف بابا کا تعلق بلوچستان کے علاقے منگچر سے ہے آپ نے 2014میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کیا۔ آپ انتہائی بہادر، جفا کش اور جنگی میدان میں بے مثال مہارتوں کے مالک سرمچار تھے۔ آپ نے بارہ سالہ جدوجہد میں شور پارود، ناگاہو، چاغی،دالبندین کے علاقوں میں کئی اہم فیصلہ کن معرکوں میں قلیدی کردار ادا کیا۔ دشمن کے اوپر قہر برپاکرنے میں آپ کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائیگا۔
سنگت شہید بشیرعرف شوکت کا تعلق گزگ ضلع قلات سے ہے آپ نے 2015میں بی ایل اے کی پلیٹ فارم سے اپنی قومی ذمہ داریوں کا آغاز کیا تھا۔ آپ نے بھی بلوچستان کے علاقے نرمک، ناگاہو، چاغی، سارون، شور پارود اور دیگر علاقوں میں دشمن پر کاری ضربیں لگائیں اور بلوچ سرمچاروں کے آپریشنوں میں ہر اول دستے کے طور پر شامل رہے ہیں۔ آپ کی بہادری، حکمت عملی اور وطن کے لئے قربانی کا بے مثال جذبہ بلوچ نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
بی ایل اے اس عہد کو دہراتی ہے کہ ہماری جنگ قابض پاکستان کی بلوچ سرزمین سے مکمل انخلا اور بلوچستان کی آزادی تک شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔


