ماسکو (ہمگام نیوز) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد روسی فوج کو یوکرین کے توانائی نظام پر بڑے حملوں کی تیاری کا حکم دیا، جس کا انہوں نے جواز یوکرین کی روسی انفراسٹرکچر پر حملوں کو قرار دیا۔ پیوٹن نے یوکرینی صدر زیلنسکی کے روسی فضائی حدود بند کرنے کے اعلان کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے بھی ملاقات کا انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی مسلح افواج کو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری اور کارروائیوں کا حکم دے دیا۔

روسی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم  کے سربراہی اجلاس کے بعد کہا کہ روسی افواج کو یوکرین کی توانائی تنصیبات کے خلاف بڑے حملے کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

پیوٹن کے مطابق یہ اقدام روسی شہری انفراسٹرکچر اور آئل ریفائنریز پر یوکرینی مسلح افواج کے حملوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔

روسی صدر نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے روسی فضائی حدود کو بند کرنے سے متعلق بیان پر بھی ردعمل دیا۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کا فوج کو روس پر روزانہ ایک ہزار ڈرون حملے کرنے کا حکم

روسی آرمی چیف کی یوکرین محاذ پر سپاہیوں سے ملاقات

روسی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کار بم دھماکے میں ہلاک؛ اہلیہ بال بال بچ گئیں

پیوٹن نے کہا کہ اگر ایسی بات کھلے عام کی جاتی ہے تو یہ ریاستی دہشت گردی کے اعلان کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کیے جاتے، ہم اس کا جواب دینے کا راستہ تلاش کرلیں گے۔

دوسری جانب روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات سے بھی انکار کردیا۔

رپورٹس کے مطابق جب ماسکو کو ان کے دورے کے مقصد سے متعلق معلومات ہوئیں تو پیوٹن نے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔