Homeخبریںکرمان جیل میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی، بلوچ قیدی جمعہ ناروئی...

کرمان جیل میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی، بلوچ قیدی جمعہ ناروئی دم توڑ گیا

کرمان(همگام نیوز ) اطلاع کے مطابق، اتوار 30 اگست 2026 کو کرمان سینٹرل جیل میں قید ایک بلوچ شہری دل کا دورہ پڑنے کے بعد بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔

متوفی قیدی کی شناخت 35 سالہ جمعہ ناروئی ولد شہباز کے نام سے ہوئی ہے، جو شادی شدہ اور پانچ بچوں کا والد تھا اور زاہدان کا رہائشی تھا۔

 ذرائع کے مطابق، جمعہ ناروئی 2024 سے کرمان جیل میں منشیات سے متعلق ایک مقدمے کے الزام میں قید تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، تقریباً دو سال کی حراست کے باوجود اس کے خلاف عائد الزام کے حوالے سے تاحال حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق، حال ہی میں عدالت کی جانب سے اس کی رہائی کے لیے ضمانتی مچلکے (وثیقہ) قبول کیے گئے تھے اور توقع تھی کہ تقریباً دو سال بعد وہ ضمانت جمع کرانے کے بعد جیل سے رہا ہوجائے گا۔ خاندان کو امید تھی کہ رہائی کے بعد اس کا علاج جیل سے باہر جاری رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، اتوار 30 اگست کو جمعہ ناروئی جیل کے عمومی وارڈ میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے بے ہوش ہوگیا۔ اسے وارڈ سے جیل کے طبی مرکز منتقل کیا گیا، تاہم بروقت اور مؤثر طبی امداد نہ ملنے کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکا۔

خاندان کے قریبی ذرائع نے جیل میں دورانِ حراست اس کی طبی نگہداشت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب طبی توجہ اور علاج کی عدم فراہمی اس کی جسمانی حالت بگڑنے کے عوامل میں شامل تھی۔

ذرائع کے مطابق، جمعہ ناروئی کو پہلے سے دل کا عارضہ لاحق تھا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران وہ شدید قلبی تکلیف اور بگڑتی ہوئی جسمانی حالت کا شکار تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق جیل حکام کی جانب سے اس کے لیے ضروری طبی اقدامات اور علاج فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ یہ طے تھا کہ ضمانت پر رہائی کے بعد وہ جیل سے باہر اپنا علاج جاری رکھے گا۔

رپورٹ کے مرتب کیے جانے تک جمعہ ناروئی کی میت اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی تھی۔

ذرائع نے قیدی کی موت کی اصل وجہ سامنے لانے، دورانِ حراست فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی آزادانہ تحقیقات اور جمعہ ناروئی کی موت تک پیش آنے والے حالات پر متعلقہ حکام سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز