ہمگام نیوز | 12 ستمبر 2026
زاہدان، جیرفت، ایرانشہر اور زابل: ایران میں کم از کم پانچ بلوچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق، ان تمام قیدیوں کو اس سے قبل منشیات سے متعلق الزامات میں گرفتار کرکے سزائے موت سنائی گئی تھی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ان پانچ بلوچ قیدیوں کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاہدان، جیرفت، ایرانشہر اور زابل کی جیلوں میں پھانسی دی گئی۔ ذرائع ان تمام قیدیوں کی شناخت پہلے ہی کی تھی۔
پھانسی دیے گئے قیدیوں کی شناخت
1. یوسف آبیل، 27 سالہ، ولد امان اللہ، شادی شدہ اور دو بچوں کے والد، زابل کے رہائشی تھے۔
2. اصغر پیشآہنگ، 34 سالہ، ولد داداللہ، شادی شدہ اور تین بچوں کے والد، زرآباد ضلع کے گاؤں دارنگو کے رہائشی تھے۔
3. امان اللہ نظرخانی، ولد کریم، زہک ضلع کے گاؤں نادر کے رہائشی تھے۔
4. ہاشم رخشانی، 34 سالہ، شادی شدہ اور دو بچوں کے والد، زہک کے رہائشی تھے۔
5. محمد موسیٰ زہی، 34 سالہ، ولد سید امیر، شادی شدہ اور دو کم عمر بچوں کے والد، زاہدان کے رہائشی اور ایرانشہر میں مقیم تھے۔
طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے کے بعد سزائے موت
ذرائع کے مطابق، ان قیدیوں کو مختلف اوقات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
محمد موسیٰ زہی کو نومبر 2023 میں ایرانشہر میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں بعد ازاں مقامی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔
ہاشم رخشانی کو 2023 کے اوائل میں زابل میں منشیات سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور بعد میں سزائے موت سنائی گئی۔
امان اللہ نظرخانی کو بھی 2023 کے اوائل میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ تقریباً تین سال تک زیرِ حراست رہے، جس کے بعد انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
اصغر پیشآہنگ کو 2022 میں کنارک کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔
جبکہ یوسف آبیل کو مئی 2024 میں جیرفت میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں بھی منشیات سے متعلق الزامات میں سزائے موت سنائی گئی۔
مزید رپورٹ کے مطابق ان پانچوں قیدیوں کی سزائے موت پر 12 ستمبر 2026 کی صبح ایران کی مختلف جیلوں میں عمل درآمد کیا گیا۔
بلوچ شہریوں میں سزائے موت پر تشویش
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق بلوچ شہری ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروہوں میں شامل ہیں ۔
رپورٹس کے مطابق بلوچ قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو منشیات سے متعلق الزامات میں سزائے موت دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ پھانسی پانے والوں میں بڑی تعداد معاشرے کے کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہوتی ہے، جن میں کئی اپنے خاندانوں کے واحد کفیل ہوتے ہیں۔
انسانی حقوق کے خدشات
حق زندگی بنیادی ترین انسانی حقوق میں شمار ہوتا ہے اور اسے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق سمیت متعدد بین الاقوامی دستاویزات میں تسلیم کیا گیا ہے۔
متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں ایران سمیت دنیا بھر میں سزائے موت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کی مسلسل رپورٹس، خصوصاً ایسے مقدمات جن میں عدالتی کارروائی کی شفافیت پر سوالات، مؤثر قانونی نمائندگی تک محدود رسائی یا دباؤ کے تحت اعترافات حاصل کیے جانے کے خدشات موجود ہوں، انس
انی حقوق کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔


