Homeخبریںسپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی رہائی کا حکم

سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی رہائی کا حکم

اسلام آباد (ہمگام نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی 17،17 سال قید کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے دونوں کو دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا اپیلوں کے فیصلے تک منظور کی ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پر مبینہ ’’ریاست مخالف ٹویٹ‘‘ کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17،17 سال قید اور مجموعی طور پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

دونوں نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تاہم فروری 2026 میں ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں ہائی کورٹ میں اپیلوں کی سماعت مقرر نہ ہونے پر ان کے وکیل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپیلوں کی جلد سماعت کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ میں متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز