Homeخبریںمہگس میں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی، فائرنگ سے دو بلوچ...

مہگس میں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی، فائرنگ سے دو بلوچ شہری شہید

مہگس (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع مہگس میں قابض ایرانی فورسز کی کارروائی کے دوران شہید ہونے والے دو بلوچ شہریوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 18 ستمبر 2026 کو بتایا گیا کہ دونوں بلوچ شہری 6 ستمبر 2026 کو ضلع مہگس کے آشار سیکٹر کے گاؤں ودگر میں فورسز کی کارروائی کے دوران ایک رہائشی مکان پر فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے ۔

ذرائع نے شہید ہونے والے شہریوں کی شناخت محمد دلمرادی (نتوزہی)، ولد شیرخان، ساکن آشار، مہگس، اور سلمان درازہی، ولد عبدالناصر، ساکن گاؤں گشتگان، بم پشت سراوان کے طور پر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ 6 ستمبر کی رات تقریباً 3 بجے درجنوں فوجی گاڑیاں گاؤں میں داخل ہوئیں، جن میں پاسداران انقلاب، انٹیلی جنس اور پولیس کے اہلکار سوار تھے۔ فورسز کے پاس ہلکے اور بھاری ہتھیار بھی موجود تھے۔ گاؤں کو گھیرے میں لینے کے بعد ایک رہائشی مکان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فائرنگ اور جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور تقریباً صبح 10 بجے تک جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران قریبی دیہات کے بعض رہائشی بھی متاثر ہوئے، جو ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گاؤں میں موجود تھے۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فائرنگ کے دوران کچھ فوجی اہلکار بھی گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی یا ہلاک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق معلومات کی مزید جانچ جاری ہے، اس لیے واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے شہریوں، گرفتار افراد اور ممکنہ طور پر سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔

بلوچستان میں شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار

ذرائع کی جانب سے 2025 میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق فوجی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے براہِ راست فائرنگ، گھروں پر چھاپوں، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور شہریوں پر تشدد کے واقعات سے بلوچستان میں کم از کم 173 افراد متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان میں 107 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 خواتین اور ایک بچہ شامل تھے، جبکہ زخمیوں میں 16 خواتین اور 4 بچے بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز