زاہدان(ہمگام نیوز ) گزشتہ دنوں 18 ستمبر 2026 ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں جمعہ کی صبح سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں دو بلوچ شہری شہید، جبکہ ایک شہری زخمی ہونے کے بعد گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جھڑپ کا آغاز 18 ستمبر کی رات تقریباً 12:30 بجے زاہدان کی یونیورسٹی اسٹریٹ اور دانشجو اسٹریٹ کے اطراف میں ہوا اور تقریباً دو گھنٹے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق شدید فائرنگ کی آواز شہر کے مختلف علاقوں میں بھی سنی گئی۔
مزید اطلاع مطابق جھڑپ کے دوران بڑی تعداد میں قابض ایرانی سکیورٹی اہلکار، سول کپڑوں میں اہلکار اور مختلف سکیورٹی اداروں کے دستے علاقے میں تعینات کیے گئے۔ متعدد مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کی گئیں، جبکہ کئی ایمبولینسیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ کچھ دیر کے لیے زاہدان کے داخلی اور خارجی راستوں پر آمدورفت محدود کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔
دو بلوچ شہری شہید، ایک زخمی گرفتار
مقامی ذرائع نے بعد میں شہید ہونے والے دو بلوچ شہریوں کی شناخت زکریا شہ بخش ولد غلام نبی اور مہراللہ شہ بخش ولد بجار کے نام سے کی۔ دونوں کا تعلق زاہدان کے علاقے گلوگاہ سے بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امید شہ بخش ولد عزیز، ساکن زاہدان، بھی اس جھڑپ میں زخمی ہوئے اور بعد ازاں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرلیا۔
ذرائع کے مطابق یہ تینوں افراد ایک گاڑی میں موجود تھے جسے قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ گاڑی پر متعدد گولیاں لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
قابض ایرانی پولیس کا مؤقف
ایرانی مقبوضہ بلوچستان پولیس کے شعبہ اطلاعات نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کی زمینی فورس کے قرارگاہ قدس کے اہلکار زاہدان کی یونیورسٹی اسٹریٹ کے علاقے میں گشت کر رہے تھے کہ انہیں ایک گاڑی مشکوک محسوس ہوئی۔
پولیس کے مطابق گاڑی میں سوار افراد اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی، جس میں دو مسلح افراد مارے گئے اور ایک شخص گرفتار کیا گیا۔
ایرانی حکام نے مارے گئے اور گرفتار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
دوسری جانب، ذرائع نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ جھڑپ کے دوران کم از کم ایک سکیورٹی اہلکار بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں سے متعلق ابتدائی اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ذرائع نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ جھڑپ کے دوران شہری علاقوں میں شدید فائرنگ ہوئی اور متعدد ایمبولینسیں موقع پر پہنچیں۔
واقعے کی تفصیلات پر اختلاف
ایرانی سرکاری ذرائع نے واقعے کو سکیورٹی فورسز اور ایک مشکوک گاڑی میں موجود مسلح افراد کے درمیان جھڑپ قرار دیا ہے، جبکہ مقامی ذرنے مارے جانے والے افراد کی شناخت بلوچ شہریوں کے طور پر کی ہے۔
تاحال کسی مسلح گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ واقعے کی مکمل تفصیلات، مارے گئے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اور جھڑپ کے حالات کے بارے میں مزید
معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔


