Homeخبریںسراوان: گرلز اسکول میں فاطمیون کی مبینہ عسکری تربیت کی ویڈیو سامنے...

سراوان: گرلز اسکول میں فاطمیون کی مبینہ عسکری تربیت کی ویڈیو سامنے آگئی ۔ رپورٹ

سراوان (ہمگام نیوز) حالوش نیوز کی رپورٹ کے مطابق گشت کے علاقے میں ایک نو تعمیر شدہ گرلز مڈل اسکول کے اندر مسلح افراد کو فوجی مشق کرتے دیکھا جا سکتا ہے

ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع سراوان کے علاقے گشت سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر فاطمیون سے وابستہ مسلح افراد کو ایک گرلز مڈل اسکول کے اندر ہتھیاروں کے ساتھ عسکری تربیت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیو، جو مقامی ذرائع نے انسانی حقوق کی نیوز ویب سائٹ حالوش کو فراہم کی، مبینہ طور پر 21 ستمبر 2026 کو ریکارڈ کی گئی تھی۔ حالوش کے مطابق ذرائع کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے ویڈیو میں موجود آواز کو تبدیل کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں متعدد مسلح افراد اسکول کی عمارت کے اندر موجود دکھائی دیتے ہیں اور ہتھیاروں کے ساتھ مختلف عسکری مشقیں کرتے نظر آتے ہیں۔ حالوش کے مطابق یہ اسکول نیا تعمیر کیا گیا گرلز مڈل اسکول ہے اور علاقے میں شیعہ برادری کی مسجد کے عقب میں واقع ہے۔

فاطمیون کی مبینہ بڑھتی ہوئی موجودگی

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون کے ارکان کی مبینہ تعیناتی، نقل و حرکت اور گشت سے متعلق متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے حوالے سے حالوش نے رپورٹ کیا ہے کہ ان مسلح گروہوں کے ارکان کی موجودگی بعض دیہی علاقوں اور بلوچ آبادیوں تک بھی پھیل رہی ہے۔

زاہدان کے علاقے کورین کے سمسور سے بھی فاطمیون کے ارکان کی مبینہ موجودگی اور مقامی شہریوں کو ہراساں کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان میں ایک بلوچ خاتون کے مبینہ تعاقب اور اس سے عارضی شادی یا ’’صیغہ‘‘ سے متعلق سوالات کیے جانے کی اطلاع بھی شامل ہے۔

اسی علاقے سے بچوں سے مبینہ طور پر جنسی نوعیت کے مطالبات، مقامی لوگوں کے مویشیوں پر قبضے اور مویشیوں کو مبینہ طور پر ہلاک کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

حالوش کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے متعلق معلومات مقامی ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں اور ان کی مزید تحقیق اور دستاویز بندی جاری ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مختلف علاقوں میں تعیناتی کی اطلاعات

مقامی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فاطمیون کے سینکڑوں ارکان مبینہ طور پر زاہدان، میرجاوہ، راسک، گشت، سراوان، زابل، سیب و سوران، چابہار، کنارک، زرآباد اور ایرانشہر کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔

ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شمالی علاقے میں میرجاوہ کے لادیز، پشتِ سد گزو اور جون آباد، بخش لار کے پدگ، کورین کے بعض علاقوں اور زاہدان کے حصاروئیہ میں رودماہی سمیت مختلف مقامات پر فاطمیون کی مبینہ موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بلوچستان کے مرکزی اور جنوبی علاقوں میں ایرانشہر کے شہر دراز اور اس کے اطراف، چابہار، کنارک اور زرآباد میں بھی ان کی مبینہ موجودگی کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

بسیج اڈوں کے مبینہ حوالے کیے جانے کی اطلاعات

حالیہ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بعض مقامی بسیج اڈے فاطمیون اور زینبیون کے ارکان کے استعمال کے لیے حوالے کیے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق کچھ ایسے مقامات، جو پہلے مقامی فورسز کے زیر استعمال تھے، مبینہ طور پر ان گروہوں کے حوالے کیے گئے ہیں۔ ہمگام نیوز ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

فاطمیون اور زینبیون کیا ہیں؟

فاطمیون اور زینبیون ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح تنظیمیں ہیں۔ فاطمیون بنیادی طور پر افغان شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل ہے، جبکہ زینبیون میں بنیادی طور پر پاکستانی شیعہ جنگجو شامل رہے ہیں۔ دونوں گروہوں نے شام کی جنگ کے دوران بشار الاسد حکومت کی حمایت میں عسکری کردار ادا کیا۔

گشت میں گرلز اسکول کے مبینہ استعمال سے متعلق ویڈیو، اگر اس کی آزادانہ تصدیق ہو جاتی ہے، تو سیستان و بلوچستان میں ان گروہوں کی سرگرمیوں اور شہری و تعلیمی مقامات کے ممکنہ استعمال کے بارے میں مز

ید تحقیقات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز