Homeخبریںفنوچ میں بلوچ عالم دین قتل، ایرانشہر-نیکشہر حادثے میں دو افراد ہلاک،...

فنوچ میں بلوچ عالم دین قتل، ایرانشہر-نیکشہر حادثے میں دو افراد ہلاک، مہریز میں فورسز کی فائرنگ سے بلوچ خاندان کا سربراہ جاں بحق، اہلیہ اور دو بچیاں شدید زخمی

زاہدان (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان اور یزد میں پیش آنے والے تین مختلف واقعات میں مجموعی طور پر چار بلوچ شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک خاتون اور دو کمسن بچیاں شدید زخمی ہو گئیں۔

بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن نیٹ ورک (شبکہ اسناد حقوق بشر بلوچستان) کی رپورٹس کے مطابق ہفتہ 7 نومبر 2026 کو فنوچ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک بلوچ سنی عالم دین جاں بحق ہوگئے، جبکہ جمعرات 5 نومبر کو ایرانشہر سے نیکشہر جانے والی شاہراہ پر ٹریفک حادثے اور مہریز میں قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے دو الگ واقعات میں مزید تین بلوچ شہری جان کی بازی ہار گئے۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ 7 نومبر 2026 کو فنوچ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مولوی شمس الحق (یوسف) قاضی جاں بحق ہوگئے۔ وہ حاجی الیاس کے صاحبزادے اور فنوچ کے علاقے محترم آباد کے امام جمعہ تھے۔

ذرائع کے مطابق مولوی شمس الحق محترم آباد سے فنوچ کی جانب سفر کر رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں گاڑی بے قابو ہوکر سڑک سے ہٹ گئی اور رک گئی۔

تاحال حملہ آوروں کی شناخت اور فائرنگ کے محرکات سامنے نہیں آسکے۔

دوسری جانب جمعرات 5 نومبر 2026 کو ایرانشہر سے نیکشہر جانے والی شاہراہ پر ایک تیل بردار نیسان پک اپ اور چاول سے لدے ٹرالر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق جاں بحق ڈرائیور کی شناخت 43 سالہ عزیز مرہ ای ولد قیس الدین کے نام سے کی ہے، جو شادی شدہ اور بچوں کے والد تھے اور ضلع زابل کے علاقے زہک کے رہائشی تھے۔

اس سے قبل تیل بردار نیسان پک اپ کے ڈرائیور کی شناخت امیرحسین شبانکار ولد نادر کے نام سے ہوئی تھی، جو ضلع قلعه گنج کے علاقے رمشک کے رہائشی تھے۔

اس کے علاوہ ایک اور واقعے میں جمعرات 5 نومبر 2026 کی شب مہریز کے داخلی چیک پوسٹ پر قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک بلوچ خاندان کا سربراہ شہید جبکہ ان کی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیاں شدید زخمی ہوگئیں۔

رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والے شہری کی شناخت 30 سالہ عبدالقادر خارکویی ولد شیخ احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی اہلیہ 28 سالہ مریم گورگیج اور ان کی دس سالہ جڑواں بیٹیوں ملیکا اور سارینا بھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئیں۔ یہ خاندان زاہدان سے تعلق رکھتا تھا اور مہریز میں رہائش پذیر تھا۔

ذرائع کے مطابق خاندان زاہدان سے واپس مہریز جارہا تھا کہ مہریز کی داخلی چیک پوسٹ پر قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بغیر کسی پیشگی انتباہ یا رکنے کا اشارہ دیے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ گولیاں لگنے سے ڈرائیور گاڑی پر قابو کھو بیٹھا اور گاڑی سڑک سے ہٹ کر الٹ گئی۔

اس واقعے میں خاندان کے چاروں افراد شدید زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق عبدالقادر خارکویی کے جسم کے مختلف حصوں، خصوصاً سینے اور پیٹ میں تقریباً 15 گولیاں لگیں، جس سے ان کے جگر سمیت اندرونی اعضا کو شدید نقصان پہنچا۔ انہیں مہریز کے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ان کی اہلیہ اور دونوں دس سالہ بیٹیاں تاحال اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز