اسلام آباد ( ہمگام نیوز ) پاکستان کے شہر اسلام آباد میں گڈ گورننس اینڈ ری بلڈنگ کولیپس سسٹم سے متعلق منعقدہ پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سنئیر وکیل لطیف کھوسہ اور سابق پاکستانی نگران وزراعظم انوار الحق کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ پہلے خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاتا تھا، لیکن آج ماہ رنگ بلوچ کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کو جعفر ایکسپریس کے واقعے سے جوڑا گیا، لیکن اسے سزا گوادر کے واقعے میں دی گئی۔
جس پر انوار الحق کاکڑ نے دعویٰ کیا کہ یہ سنی سنائی باتیں ہیں۔اس پر لطیف کھوسہ نے کہا، ’’یہ سنی سنائی بات نہیں، میں بلوچ ہوں۔‘‘
جس پر انوار الحق کاکڑ نے کہا، ’’آپ بلوچ ہیں، لیکن بلوچستان کے نہیں۔ میں بلوچ نہیں ہوں، لیکن بلوچستان کا ہوں۔‘‘
سابق نگران وزیراعظم انوار الحق نے دعویٰ کیاکہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پیش آیا تو اس میں چھ، سات دہشت گرد مارے گئے۔ ان دہشت گردوں کی لاشیں ریکور کرکے سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئیں۔ اس موقع پر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ فورسز ان لاشوں کو ریکور کرنا چاہتی ہیں۔
کاکڑ دعوی کیا کہ اس سے پہلے بھی ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں بی ایل اے کے عسکریت پسندوں کے مارے جانے کے بعد ماہ رنگ بلوچ انہیں ریسیو کرتی ہیں۔ ڈیڈ باڈیز کو بی ایل اے کے جھنڈوں میں لے جا کر دفن کیا جاتا ہے اور لوگ ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگجو ہونے کے لیے صرف گولی چلانا ضروری نہیں ہے۔ شن فین اور آئی آر اے دونوں کے مقاصد ایک تھے، لیکن ان کے طریقۂ کار مختلف تھے۔
واضح رہے کہ کاکڑ نے بعص مواقع پر ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی پر ایسے الزامات لگائے ہیں لیکن ابھی تک انکی طرف سے کوئی الزام ان پر ثابت نہیں گیا ہے ۔


