نیکشہر(ہمگام نیوز) جمعرات، 8 اکتوبر 2026ء کو نکشهر کے علاقے “کرین دوک” میں قابض ایرانی پروردہ فاطمیون ملیشیا کی دو گاڑیوں پر ہونے والے مسلح حملے میں شدید جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو چابہار اور کنرک کے طبی مراکز منتقل کرنے کے لیے آئی آر جی سی (سپاہ پاسداران) کے دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایئر لفٹ آپریشن کیا گیا۔
عینی شاہدین اور زمینی ذرائع کے مطابق، کرین دوک بیس سے نکلنے والی فاطمیون ملیشیا کے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی دو گاڑیوں—ایک ٹویوٹا ہائی لکس اور ایک مینی بس/وین—کا مسلح افراد نے تعاقب کیا اور ان پر شدید فائرنگ کی۔
مستقل ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں گاڑیوں میں سوار تمام اہلکار ہلاک یا شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
جانی نقصان کی بڑی تعداد کے باعث سپاہ پاسداران کے ہیلی کاپٹروں کو نجی اور فوجی ہسپتالوں تک لاشوں اور مجروحین کی منتقلی کے لیے استعمال کرنا پڑا۔
میڈیا سنسرشپ اور ہلاکتوں کے متضاد اعداد و شمار
دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا نے فوج کی 88 ویں آرمرڈ ڈویژن کے شعبہ تعلقات عامہ کا اعلامیہ شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اہلکار آرمی کے تھے اور حملے میں صرف ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، مقامی لوگوں کے مشاہدات، ہیلی کاپٹروں کی کثرت سے پروازوں اور آزادانہ ذرائع کے مطابق سرکاری موقف اور حقائق میں شدید تضاد ہے۔
رپورٹس کے مطابق، سرکاری میڈیا کی جانب سے فاطمیون فورسز کی حقیقی شناخت چھپانا نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل 1 اکتوبر 2026ء کو بھی جب روڈ ماہی کے علاقے “کلاہ پدہ” میں فاطمیون کے اہلکاروں پر حملہ ہوا تھا، تو سرکاری ذرائع ابلاغ نے بلوچستان میں اس شبه نظامی گروپ کی موجودگی اور جانی نقصان پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں سپاہ پاسداران کا رکن ظاہر کیا تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں، بشمول نصرت آباد (زاہدان) اور جالق (گلشن) میں بھی فوجی و انتظامی فورسز پر متعدد مسلح حملے ہو چکے ہیں۔
اس واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے دقیق اعداد و شمار کی حتمی تصدیق کے لیے تفتیش کا سلس
لہ جاری ہے۔


