کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بلوچ سرمچاروں نے 15 اکتوبر کو قابض پاکستان ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کا اہم کارندہ قمبر خان اور ان کے بیٹے پسند خان کے گھر سے دو کلومیٹر دور واقع ان کے مرکزی اڈے پر آپریشن کے دوران پاکستانی قابض فوج اور ان کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی و ایم آئی کے متعدد اہلکار مار دینے اور ان کے ٹھکانے سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ قمبر خان اور ان کے گروہ کے افراد ہمارے سرمچاروں کے حملوں کے دوران اپنی دو موٹر سائیکلیں اور گاڑی چھوڑ کر بھاگ گئے، جنہیں ہمارے سرمچاروں نے اپنے قبضے میں لے کر ضبط کر لیا ہے۔ یہ آپریشن صبح چھ بجے شروع ہو کر شام چار بجے تک جاری رہا۔ بی ایل اے قابض پاکستانی ڈیتھ سکواڈ کے خلاف دس گھنٹے تک جاری اس آپریشن کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
یاد رہے کہ بی ایل اے نے کچھ عرصہ قبل قمبر خان اور ان کے بیٹے پسند خان کے ڈیتھ سکواڈ گروہ سے منسلک کچھ کارندوں کو قلات میں گرفتار کرکے تفتیش کے عمل سے گزارا تھا۔ ان گرفتار ریاستی کارندوں اور مخبروں نے دورانِ تفتیش پاکستانی خفیہ اداروں اور پسند خان کی سربراہی میں بلوچ جہدکاروں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اقبالِ جرم کیا تھا۔ ان میں سزائے موت پانے والے مخبر عبدالرسول، سعید احمد، جمیل احمد اور بارو شامل تھے۔ ان کے اعترافی ویڈیو بیانات ہماری تنظیم نے 12 اکتوبر کو اپنے آفیشل چینل پر شائع کیے تھے۔
ان سے دورانِ تفتیش حاصل ہونے والی اہم معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بی ایل اے کے سراغ رساں ادارے نے قمبر خان اور ان کے بیٹے پسند خان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارنے کا منصوبہ ترتیب دیا۔ بی ایل اے کے پاس قمبر خان اور ان کے گروہ کی بلوچ دشمن سرگرمیوں سے متعلق ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں، جن میں پاکستان کی ملٹری انٹیلیجنس اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر علاقے کے لوگوں کو ہراساں کرنا، ان کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنا، علاقے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں سرانجام دینا، لوگوں کو تشدد و قیدوبند میں رکھنے کے لیے خفیہ مراکز میں اذیتیں دے کر شہید کرنا، پاکستانی قابض فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر بلوچ آزادی پسند جہدکاروں کے خلاف منصوبے ترتیب دینا اور بلوچ جہدکاروں کے خلاف فوجی آپریشنوں میں براہِ راست حصہ لینا شامل ہیں۔
قابض پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے اس گروہ کو ہر ممکن تحفظ، فوجی کمک، افرادی قوت اور مراعات دے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل قمبر خان کے دو بیٹوں، پسند خان اور بالاچ خان، نے ڈیرہ بگٹی کے بدنامِ زمانہ ڈیتھ سکواڈ کے سرغنہ اور کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ سرفراز کے اہم مہرے غلام نبی شمبانی کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔
قابض دشمن اور ان کے کارندوں کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے بی ایل اے کے بہادر سرمچاروں نے دشت گوران کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے لگا کر علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ہماری مربوط جنگی حکمتِ عملی کے سامنے بے بس قمبر خان کے ڈیتھ سکواڈ اہلکاروں نے اپنے آقا پاکستانی فوج سے عسکری کمک طلب کی۔ ان کی مدد کے لیے پاکستان کی اسپیشل کمانڈو یونٹس، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، بھاری توپ خانے، بکتر بند گاڑیوں اور بڑی تعداد میں پیدل فورس کو علاقے میں بھیجا گیا۔
بی ایل اے کے تربیت یافتہ بہادر سپوتوں نے ضمیر فروش ڈیتھ سکواڈ اور ان کے آقا پاکستانی فوج کے خلاف دس گھنٹے سے بھی زائد وقت تک دلیرانہ انداز میں مقابلہ کیا۔ ہمارے سرمچاروں کی بہترین جنگی حکمتِ عملی اور دوبدو لڑائی کی مہارت نے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔
علاقائی لوگوں کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمن فوج کے ساتھ گٹھ جوڑ کے تحت چلنے والے اس گروہ کا قلع قمع کرنے کے لیے کارروائی ناگزیر تھی۔ ہمارے اس آپریشن میں قمبر خان کے آٹھ قریبی ساتھی مارے گئے، جن میں احمد نواز عرف کمندان بھی شامل تھا۔ مجموعی طور پر آٹھ اہلکار مارے گئے، جبکہ باقی فرار ہوگئے۔ ریاستی کارندے اپنے آقا پاکستانی فوج کی طرح اپنے مارے گئے اہلکاروں کی تعداد حسبِ روایت چھپا رہے ہیں۔
تلاشی کے دوران ان کے ٹھکانے سے بھاری تعداد میں ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ یہ ہتھیار انہیں بلوچ تحریکِ آزادی کے خلاف استعمال کرنے کے لیے قابض پاکستانی فوج کی طرف سے مہیا کیے گئے تھے۔ ان ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کو ہمارے سرمچاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ضبط کرلیا ہے۔ دریں اثنا، لڑائی کے دوران قابض پاکستان کی فوج کے ایک ڈرون طیارے کو بھی ہمارے سرمچاروں نے مار گرایا ہے، جو ان کی فوج کو براہِ راست انٹیلیجنس مہیا کر رہا تھا۔
ریاستی کارندوں اور ڈیتھ سکواڈ قمبر خان کے ٹھکانے پر حملے کے دوران آزادی کا لبادہ اوڑھنے والے کچھ لوگوں کی طرف سے قمبر خان کے لیے نرم گوشہ رکھنا بلوچ شہدا کے لہو کے ساتھ ناانصافی ہے، اور ان کا یہ فیصلہ غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔
ہماری جنگ بلوچستان کی مکمل آزادی اور قابض ریاستی فورسز کے کارندوں اور استحصالی منصوبوں کے خلاف مزید شدت کے سات
ھ جاری رہے گی۔


