کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6394ویں روز بھی جاری رہا۔ اس موقع پر 13 جنوری 2015 کو نیو کاہان، ہزار گنجی سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے عبدالرحمن مری کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔
لواحقین نے بتایا کہ عبدالرحمن مری کو لاپتہ ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اب تک نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث پورا خاندان شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ عبدالرحمن مری کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو آگاہ کیا جائے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے عبدالرحمن مری سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کے معاملے کو آئین و قانون کے مطابق حل کیا
جائے۔


