Homeخبریںاصغر خان اچکزئی کی گرفتاری سیاسی انتقام اور جمہوری آوازوں کو دبانے...

اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری سیاسی انتقام اور جمہوری آوازوں کو دبانے کے مترادف ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

شال (ہمگام نیوز ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام، سیاسی مخالفین کو دبانے اور جمہوری سیاسی ماحول کو آلودہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے بجائے سیاسی اختلافات کا مقابلہ جمہوری اصولوں، سیاسی مکالمے اور عوامی فیصلے کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق، جس مقدمے میں اصغر خان اچکزئی کو گرفتار کیا گیا ہے، اس کے مدعی کی جانب سے عدالت میں اسٹامپ پیپر پر ایک تحریری بیان جمع کرایا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر اصغر خان اچکزئی کو اپنے بیٹے کے قتل کے مقدمے میں ملوث نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں ان کی گرفتاری نے سیاسی حلقوں میں سنجیدہ سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس صورتِ حال کو محض ایک معمول کی کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے سیاسی پس منظر اور اثرات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

پارٹی نے کہا کہ پشتونخوا اور بلوچستان میں جمہوری سیاسی قوتوں نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، عوام کے حقِ حکمرانی، قومی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے لیے جدوجہد کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی آوازوں کو دبانے، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو خوف زدہ کرنے یا سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی، اس سے جمہوری عمل کمزور اور عوام کا اداروں پر اعتماد متاثر ہوا۔ اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری بھی ایسے ہی خدشات کو تقویت دیتی ہے، جنہیں دور کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ سیاسی اختلاف کو جرم سمجھنا اور سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانے کے لیے گرفتاریوں کا سہارا لینا جمہوری رویہ نہیں۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے خلاف کارروائی کی جائے تو اس میں شفافیت، غیر جانب داری اور انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ کسی بھی کارروائی کو سیاسی انتقام کا تاثر نہ ملے۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے خلاف اقدامات کا جائزہ ان کے سیاسی پس منظر اور جمہوری ماحول پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں بھی لیا جانا چاہیے۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کے پس منظر اور اس کے محرکات کو واضح کیا جائے، سیاسی انتقام کے خدشات کو دور کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی بھی رہنما یا کارکن کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کو آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے، عوام کے مسائل اجاگر کرنے اور اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کرنے کا مکمل موقع ملنا چاہیے۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ جمہوریت محض انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں، بلکہ اس کا بنیادی تقاضا سیاسی آزادی، اختلافِ رائے کا احترام، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور عوام کی منتخب سیاسی قوتوں کو بلاخوف و خطر کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ سیاسی انتقام کی روش جمہوری اداروں کو کمزور کرتی اور معاشرے میں بے اعتمادی کو فروغ دیتی ہے۔

پارٹی نے تمام جمہوری قوتوں، سیاسی جماعتوں اور باشعور عوام پر زور دیا کہ وہ سیاسی انتقام، جمہوری آزادیوں پر قدغن اور سیاسی رہنماؤں کو دباؤ میں لانے کے رجحانات کے خلاف اصولی مؤقف اختیار کریں، تاکہ ملک میں جمہوری اقدار، سیاسی رواداری اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز