ایرانشہر(ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایرانی پولیس کے ریٹائرڈ کرنل علی صیادی ہلاک ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق، جمعرات 22 اکتوبر 2026 کو علی صیادی ایرانشہر کے نواحی علاقے شہردراز کے چوک میں اپنے گھر کے سامنے موجود تھے کہ ایک گاڑی میں سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق، علی صیادی کا تعلق زابل سے تھا اور وہ ایرانشہر میں رہائش پذیر تھے۔ واقعے کے وقت وہ دو دیگر افراد کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے فائرنگ سے قبل ان دونوں افراد کو گولیوں کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے وہاں سے دور جانے کو کہا۔ ان کے ہٹنے کے بعد مسلح افراد نے علی صیادی کو نشانہ بنایا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، علی صیادی علاقے میں ایرانی پولیس کے معروف اہلکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ماضی میں ایرانشہر کے تھانہ نمبر 13 اور چابہار کے تھانہ نمبر 11 کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔
ایرانشہر کے پولیس کمانڈر کرنل قاسم اسماعیل زادہ نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے علی صیادی کو ایک عام شہری قرار دیا۔ ان کے مطابق، نامعلوم وجوہات کی بنا پر گاڑی میں سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد اہلکاروں کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب، علی صیادی کی بمپور میں پولیس سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی کے دوران ان کی مبینہ سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ ان رپورٹس میں ان پر ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں تیل بردار گاڑیوں کے ذریعے ایندھن کی ترسیل کرنے والے افراد، جنہیں مقامی طور پر ’سوختبر‘ کہا جاتا ہے، کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں بعض افراد زخمی ہوئے جبکہ کچھ گاڑیاں آگ لگنے یا الٹنے کے واقعات کا شکار ہوئیں۔
رپورٹ کے اختتام تک حملہ آوروں کی شناخت اور فائرنگ کے محرکات کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آئی تھیں، جبکہ کسی بھی مسلح گروہ نے حملے کی ذمہ داری قب
ول نہیں کی۔


