چابہار (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر چابہار میں سادہ لباس اہلکاروں نے ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر دو بلوچ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق، اتوار 1 نومبر 2026 کو صبح تقریباً 8 بجے سادہ لباس میں سادہ لباس ملبوس قابض ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں نے چابہار کے علاقے مرادآباد میں ایک گھر پر دھاوا بولا، جہاں سے تقریباً 18 سالہ دو بلوچ نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتار ہونے والے نوجوانوں کی شناخت بنیامین بلوچ ولد موسیٰ اور مرتضیٰ سازواری ولد امام بخش کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق چابہار سے ہے۔
ذرائع کے مطابق، اہلکاروں نے اس وقت گھر پر چھاپہ مارا جب دونوں نوجوان اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے۔ انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے گرفتاری کے وقت نہ کوئی عدالتی وارنٹ پیش کیا اور نہ ہی نوجوانوں کو ان کی گرفتاری کی وجوہات یا الزامات سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ مرتب کیے جانے تک دونوں نوجوانوں کی گرفتاری کی وجوہات، ان پر عائد کیے جانے والے ممکنہ الزامات اور ان کی موجودہ حراستی جگہ کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔ ان کے اہل خانہ بھی تاحال اپنے پیاروں کی خیریت اور صورتحال سے بے خبر ہیں۔
واضح رہے کہ عدالتی وارنٹ کے بغیر شہریوں، خصوصاً کم عمر نوجوانوں کو گرفتار کرنا، انہیں الزامات سے آگاہ نہ کرنا، اہل خانہ کو ان کی حراست سے بے خبر رکھنا اور قانونی حقوق تک رسائی سے محروم کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور من مانی گرفتاری کے زمرے میں آتا ہے۔


