Homeخبریںایرانی مقبوضہ بلوچستان میں چار مختلف واقعات میں دو بلوچ شہری قتل،...

ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں چار مختلف واقعات میں دو بلوچ شہری قتل، 13 سالہ بچے اور بینک ملازم سمیت دو افراد اغوا

زاہدان (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے چار الگ الگ واقعات میں دو بلوچ شہریوں کو قتل کر دیا گیا، جبکہ ایک 13 سالہ بچے اور زرعی بینک کے ایک ملازم کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ اغوا ہونے والے افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی سلامتی اور بازیابی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، جمعرات 5 نومبر 2026 کی شام ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع سراوان کے علاقے کور کہنوک میں ایک بلوچ شہری کی لاش ملی، جسے مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر میں قتل کرنے کے بعد وہاں چھوڑ دیا تھا۔

مقتول کی شناخت تقریباً 25 سالہ اسماعیل منصوری ولد ابراہیم کے نام سے ہوئی ہے، جو سراوان کے گاؤں محمدی کے رہائشی، شادی شدہ اور ایک کمسن بیٹی کے والد تھے۔ وہ سراوان میں بلوچ زہی فارمیسی کے سامنے فلافل فروخت کرنے کا ایک چھوٹا اسٹال چلاتے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، واقعے کے وقت اسماعیل گھر میں اکیلے تھے، جبکہ ان کی اہلیہ اپنے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے اہواز گئی ہوئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کام سے واپس گھر پہنچے تو انہیں نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔

اہلخانہ کے مطابق، قتل کے بعد ان کی لاش کو کور کہنوک کے علاقے میں منتقل کیا گیا، جبکہ ان کی گاڑی بھی وہیں چھوڑ دی گئی تاکہ واقعے کو کسی دوسری واردات کا رنگ دیا جا سکے۔

قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مقتول کے جسم پر گولیوں کے نشانات موجود تھے، جن میں منہ پر لگنے والی ایک گولی کا زخم بھی شامل تھا۔ ان کے مطابق، مقتول کا موبائل فون اور گاڑی بھی چوری نہیں ہوئے، جس سے ڈکیتی کی واردات کا امکان کمزور پڑتا ہے۔

اہلخانہ نے مزید بتایا کہ پولیس، متعلقہ تھانے اور ہلال احمر سے رابطہ کرنے کے باوجود کئی گھنٹوں تک کوئی متعلقہ اہلکار جائے وقوعہ پر نہیں پہنچا۔ بالآخر خاندان کے افراد نے خود ایک پک اپ گاڑی کے ذریعے لاش کو سرد خانے منتقل کیا۔ ان کے مطابق، ایمبولینس موقع پر پہنچی تھی لیکن لاش منتقل نہیں کی گئی۔

تاحال اسماعیل منصوری کے قتل کے محرکات، حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کی اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

ایک دوسرے واقعے میں ہفتہ 7 نومبر 2026 کو ضلع ایرانشہر کے علاقے چاہ جمال میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک 13 سالہ بلوچ بچے کو اغوا کر لیا۔

ذرائع کے مطابق، اغوا ہونے والے بچے کی شناخت فاروق ناروئی ولد جمشید کے نام سے ہوئی ہے، جو چاہ جمال کے رہائشی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بچے کو ہفتے کی صبح تقریباً 11 بجے شہید مرادی 24 اسٹریٹ سے سفید رنگ کی پیجوٹ پارس گاڑی میں سوار افراد نے اغوا کیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔

تاحال بچے کے اغوا کاروں کی شناخت، اس کے اغوا کے محرکات اور موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق، ان کی کسی فرد یا گروہ کے ساتھ سابقہ دشمنی یا تنازع نہیں تھا اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے بچے کو کس وجہ سے اغوا کیا گیا ہے۔ خاندان اپنے بچے کی سلامتی کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہے۔

دریں اثنا، چابہار میں زرعی بینک کے ایک بلوچ ملازم کے اغوا کو پانچ روز گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

 رپورٹ کے مطابق، اغوا ہونے والے شہری کی شناخت تقریباً 45 سالہ حفیظ اللہ بزرگ زادہ ولد میر جلال خان کے نام سے ہوئی ہے، جو اصل تعلق ایرانشہر سے رکھتے ہیں اور چابہار میں رہائش پذیر تھے۔ وہ چابہار میں زرعی بینک کے نائب سربراہ کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق، انہیں پیر 2 نومبر 2026 کو گھر سے نکلنے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

واقعے کے پانچ روز گزرنے کے باوجود اہلخانہ کو ان کے ٹھکانے، صحت اور زندگی کے حوالے سے کوئی مستند اطلاع نہیں ملی۔

اہلخانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس، سکیورٹی اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں، ان کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں بحفاظت گھر واپس لایا جائے۔

ایک اور واقعے میں جمعرات 5 نومبر 2026 کی علی الصبح دشتیاری کے گاؤں ریکوکش میں ایک بلوچ شہری کو ان کے گھر میں چاقو کے وار کرکے قتل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، مقتول کی شناخت تاج محمد آرا ولد فتحی محمد کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق ضلع قصرقند کے علاقے تلنگ کے گاؤں دیرمان سے تھا اور وہ چابہار میں رہائش پذیر تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، تاج محمد اپنے اہلخانہ کے ساتھ چابہار میں رہتے تھے، تاہم ریکوکش گاؤں میں بھی ان کا ذاتی مکان موجود تھا۔ واقعے کے وقت وہ گھر میں اکیلے تھے، جبکہ ان کے اہلخانہ چابہار میں موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق، واقعے کی صبح ایک نامعلوم شخص گھر میں داخل ہوا اور تاج محمد کے ساتھ جھگڑے کے بعد ان پر چاقو کے متعدد وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور مبینہ طور پر واردات کے بعد مکان کی چھت کے راستے فرار ہو گیا اور گھر کا دروازہ اندر سے بند کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کی کسی کے ساتھ کوئی معلوم دشمنی یا سابقہ تنازع نہیں تھا۔

تاحال حملہ آور کی شناخت، قتل کے محرکات اور واقعے کی دیگر تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز