یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبی ایل ایف نے کاروائیوں کی سہ ماہی روپورٹ جاری کر دی

بی ایل ایف نے کاروائیوں کی سہ ماہی روپورٹ جاری کر دی

کوئٹہ(ہمگام نیوز)بی ایل ایف کے ترجمان گہرام بلوچ نے میڈیا میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی،انہوں نے کہا کہ (جنوری تا مارچ 2016) کی رپورٹ پارٹی کے مرکزی ترجمان آشوب کے نام سے شائع کر دی گئی ہے اور یہ سلسلہ اب ہر تین مہینے تنظیم کی مکمل کارروائیوں کے ساتھ بلوچ عوام کے ہاتھوں میں ہوگا اور میڈیا میں بھی جاری کر دیا جائے گا،بی ایل ایف کی جانب سے جنوری تا مارچ2016ء کے تمام کاروائیوں کا مکمل رپورٹ جو الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں رپورٹ ہوئے وہ ’’ آشوب‘‘میں شائع کئے جارہے ہیں جلد 2015کی مکمل رپورٹ بھی شائع کی جائے گی جنوری 2016 سے مارچ2016 تک ان تین مہینوں میں فورسز پر 111 حملے کئے گئے جس میں200 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے اور127 سے زائد زخمی ہوگئے۔ان حملوں میں فورسز کی52 گاڑیوں اور 7 موٹر سائیکلوں جبکہ عسکری تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیواو کی16 گاڑیوں کو نقصان پہنچایاہے۔ان حملوں میں15 ریاستی مخبروں کو ہلاک کیاگیا۔ منشیات کے تین اڈوں کو نشانا بنایاگیا جبکہ پانچ سرمچار ، غنی جان، نوشاد بلوچ، دلشاد بلوچ، واحد بلوچ، اور کمانڈر نذیر بلوچ سرزمین کی دفاع میں شہید ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ 31 دسمبر کو سرمچاروں نے مند میں شہید سالم کوہ میں فورسزکی چیک پوسٹ پر دو راکٹ فائر کئے جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔تمپ میں رود بن چیک پوسٹ پر اسنائپر اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیا،تمپ کالج کے انتخابی پولنگ اسٹیشن پر راکٹوں سے حملہ کرکے فورسز کو نقصان پہنچایا۔گومازی میں فورسز کے قافلے پر گومازی کور میں خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی کیے،30 دسمبر کو بالگتر سہاکی میں گوادر کاشغر سڑک پر کام کرنے والی ملٹری کنسٹرکشن کمپنی ایف ڈبلیو او کی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا اس کے بعد فورسزنے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی تو فورسزکے ساتھ جھڑپ میں دوفورسز کے ہلاک اور دو زخمی ہوئے اور سرمچار بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔2جنوری کو سرمچاروں نے گومازی میں فورسزکی چیک پوسٹ پر دو راکٹ فائر کئے، جس سے فورسز کو مالی و جانی نقصان ہوا ہے۔ تین جنوری کو سرمچاروں نے تمپ میں آزیان چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کرکے فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 3 جنوری کی صبح بالگتر میں سہاکی کے مقام پر گوادر چائنا سڑک پر کام کرنے والی ملٹری کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی کیمپ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ کیمپ کے قریب بلڈوزر اور ڈمپر گاڑی کو بھی نشانہ بنا کر ڈرائیوروں سمیت چار کارندے ہلاک اور دو زخمی ہوئے ۔ تین جنوری کو دشت میں پٹوک کے مقام پر نئی قائم شدہ فورسزکی چیک پوسٹ پر راکٹ اور جدید ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔کولواہ کے علاقے بزداد لدھ میں فورسزکی چیک پوسٹ پر بی ایم 12 اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کوجانی و مالی نقصان پہنچایا۔یکم جنوری کو مشکے کے علاقے ملیشبند میں فورسزکی چوکی پر راکٹ اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیا۔ یکم جنوری ہی کو مشکے اور جھاؤ کے درمیانی علاقے دراج کور میں فورسز پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ان علاقوں میں عام آبادیوں پر آپریشن کی تیاری میں پہنچ رہے تھے حملے میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ۔
5جنوری کوجگور اور بالگتر کے درمیانی علاقے لشکران کور میں ملٹری کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اورفورسزکے قافلے پر حملے کرکے ایک وین گاڑی کو نقصان پہنچاکر اس میں سوار چار انجنےئروں کو ہلاک کیا۔ حملے میں فورسز کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا کر متعدد فورسز کے اہلکاروں کو بھی ہلاک و زخمی کیا۔7جنوری کو ہوشاپ اور بالگتر کے درمیان ملٹری کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)کے مورچے پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا، حملے میں گوادر کاشغر سڑک پر کام کرنے والے ایف ڈبلیواوکا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ 8جنوری کی صبح دس بجے سرمچاروں نے ہوشاپ کے علاقے سوراپ کور میں ملٹری کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے کارندوں پر حملہ کرکے پانچ کارندوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کیا۔ آواران کہن زیلگ میں زیارت ڈن کے مقام پرفورسزکی گشتی ٹیم پر اس وقت حملہ کرکے بھاری نقصان پہنچایا جب وہ قریبی علاقوں میں گھس کر گھروں میں توڑ پھوڑ کے بعد واپس کیمپ کی جانب جا رہا تھا۔ 9 جنوری کو سرمچاروں نے گومازی میں فورسز پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک نئی چوکی کی تعمیر میں مصروف تھے حملے میں چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔تمپ کے علاقے آسیہ آباد میں فورسز کی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا، اتوار 10 جنوری کو تمپ میں فورسز کی دو چوکیوں آسیہ آباد اور رود بن چوکی پر سرمچاروں نے خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچایا ۔ جھاؤ کا سرمچار دینار عرف حسین دو مہینوں سے آزاد خیالی اور نشہ کی جانب راغب ہونے لگا تھااور مشکوک حرکات کی وجہ سے دوستوں نے اس پر کڑی نظر رکھ کر اس کے کرتوتوں کی نشاندہی کی،تحقیقات کے مطابق حسین اور اس کا ساتھی سرمچار پُلی عرف جورک کیمپ میں دوستوں کو سرنڈر ہونے کیلئے راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے انہیں گرفتار کرکے تفتیش اور اقبال جرم کے بعد ہلاک کیا۔ تفتیش میں انہوں اعتراف کیا کہ حسین نے ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرکے تین سرمچاروں کو سرنڈر کرانے کیلئے ایک مقامی معتبر کے ذریعے فورسزکے کیمپ بھیجا ہے اور خود کچھ دنوں بعد باقاعدہ سرکار کیلئے کام کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔ انہوں نے ہمارے ایک دوزواہ اور روشن فکر بلوچ سیدمحمد نور کو ذاتی مفادات کیلئے قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا۔ دونوں نے سرنڈر ہونے پر مائل کرانے والے معتبر ودھمکی دینے والوں کی نشاندہی کی ہے ان کا نام صیغہ راز میں ہے مگرجلد قومی جہد کے خلاف کام کرنے والے ایسے کارندوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔12جنوری کوہو شاپ میں ملٹری کنسٹریکشن کمپنی (FWO ) کے اہلکاروں کواُس وقت نشانہ بنایا جب وہ ملٹری کیمپ کے تھوڑے فاصلے پر ٹینکر میں پانی بھر رہے تھے ،ٹینکر سوار اہلکار مووقعہ پرہلاک ہوا۔ایف ڈبلیو او اورفورسز کے کیمپ سے فائرنگ اور گولہ بھاری کی گئی مگر سرمچار بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔تمپ دازن گومازی کراس پر فورسزی کے اہلکاروں کو سرمچاروں نے اس وقت بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جب و نئی چوکی کے لیے کام کر رہے تھے جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان ہوا۔پسنی میں اکبر کلانچی اور طارق نلینٹی کے منشیات کے اڈوں پر حملہ کرکے انکو نقصان پہنچایا۔13جنوری کی صبح سرمچاروں نے مشکے میں اُوگار کے مقام پرفورسز کے قافلے پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا حملے میں گاڑیوں کو نقصان اور کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ 14جنوری کو جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں فورسز کی چوکی پر بدھ کے روز اسنائپر رائفل سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔15جنوری کوکیچ کے علاقے گورکوپ میں سرمچاروں نے فورسزمی کے قافلوں پر تین مقامات پر حملہ کرکے تین گاڑیوں کو نقصان اور کئی اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔ گومازی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔16جنوری جمعہ کی شام سرمچاروں نے گیشکورمیں فورسز کے کیمپ پر دو اطراف سے بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ 13 جنوری کو فورسز نے کیچ کے علاقے تجابان میں ہمارے ایک سائیڈ کیمپ پر ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی اور زمینی فورسزنے کیمپ کا گھیراکرنے کی کوشش کی تو زمینی فورسزکے ساتھ جھڑپ میں فورسز کے کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور بی ایل ایف کے دو سرمچار غنی جان اور نوشاد جان سرزمین کی دفاع میں فورسز سے لڑ کر شہید ہوئے اور اپنے ساتھی سرمچاروں کو گھیراؤ سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئے۔بی ایل ایف شہید سرمچاروں کو بہادری ، سرزمین کی دفاع، اور دشمن کو شکست دینے پر خراج تحسین اور سرخ سلام پیش کرتا ہے، جو اپنی آخری سانس تک دشمن سے نبر د آزما ہو کر آزادی کی جنگ میں شہید ہوگئے۔18جنوری کو آواران تیرتیج میں باروی سرنگ کی زر میں آ کر دو اہلکار ہلاک ہوئے، روز دری کور کے مقام پر فورسز کے قافلے کے راستے پر ایک بارودی سرنگ بچھائی گئی تھی جسے فورسزنے پھٹنے سے پہلے قبضے میں لیکر ناکارہ بنانے کی کوشش کی تو بارودی سرنگ موقع ہی پر پھٹنے ہی سے دو اہلکار ہلاک ہوئے ۔21جنوری کو مشکے بازار میں فورسز کا ٹرک اور ویگو کو شہدائے مشکے چوک پر پہنچتے ہی خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا حملے میں فورسز کے چھ اہلکار ہلاک اور دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔ 22جنوری کو مشکے میں منجو کے مقام پر فورسز پر اس وقت حملہ کیا جب وہ منجو میں عام آبادیوں پر آپریشن کرکے گھروں کو جلانے کے بعد واپس جارہاتھا۔ آپریشن میں پیدل اور موٹرسائیکل سوارفورسز کے اہلکار حصہ لے رہے تھے۔ سرمچاروں نے راستے میں چھ موٹرسائیکلوں کو نشانہ بنا کر کئی اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔فورسز کے پیدل اہلکاروں نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی تو دو گھنٹے کی جھڑپ کے بعد سرمچاروں نے متعدد اہلکاروں کو ہلاک کرکے دشمن کو اس جھڑپ میں شکست دیکر بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ 23جنوری کو مشکے میں سرمچاروں نے منجو میں صمد ولد براہیم کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔ صمد کل منجو آپریشن کے علاوہ کئی اور آپریشن اور بلوچوں کی مخبری میں ملوث تھا۔ کل منجو آپریشن کے بعدفورسزپر کامیاب حملہ کے بعد جنگی ہیلی کاپٹروں اور کئی گاڑیوں میں سوار سینکڑوں فورسز کے اہلکاروں نے منجو و گرد و نواح کو گھیرے میں لیا، جس سے ہمارا کچھ سرمچاروں سے رابطہ منقطع ہوا ہے،۔ فورسزنے منجو میں کئی گھروں کو جلا کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔فورسز تمام جنگی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہے۔ پاکستان کا بلوچستان پر قبضہ کے بعد اس طرح کے مظالم کا اقوام متحدہ اور تمام ذمہ دار اداروں کو نوٹس لینا چاہئے ،اور پاکستان کو بلوچستان سے بے دخل کیا جائے۔ 24جنوری کو کو سرمچاروں نے گیشکورمیں فورسزکے کیمپ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔ جھاؤ میں کچ کے مقام پر فورسز کی دو گاڑیوں کو اس وقت نشانہ جب وہ گشت کے بعد کیمپ کی جانب جارہے تھے، حملے میں دونوں گاڑیوں کو نقصان اور کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔21 اور 23 فروری کو جھاؤ ہی میں فورسز کی نوندڑہ چیک پوسٹ پر خود کارہتھیاروں سے حملہ کرکے بھاری نقصان پہنچایا۔ خاران میں سرمچاروں نے ریاستی مخبرحافظ احمد کو کچھ عرصہ پہلے گرفتار کیا تھا گرفتاری کے بعد دوران تفتیش انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔وہ سرکار کا ایک اہم کارندہ تھااور خفیہ ایجنسی کی دی ہوئی بلوچ دشمن منصوبوں پر کام کر رہاتھا اس کا بیان تنظیم کے پاس محفوظ ہے،جسے بوقت ضرورت شائع کیا جائے گا۔اقبال جرم اور اعترافی بیان میں حافظ احمد نے خاران میں اپنے نیٹ ورک کے ساتھیوں کے علاوہ دوسرے علاقوں کے مخبروں کے نام بھی فاش کیے ہیں، جو خفیہ اداروں کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ان میں علاقے کی کچھ اہم شخصیات بھی شامل ہیں، مگر کوئی بلوچ دشمن کتنا بھی بااثر شخصیت ہو، اسے معاف نہیں کیا جائیگا۔۲۲ جنوری کو سرمچاروں نے پسنی وارڈ نمبر 6 میں خفیہ اداروں کے گروہ لشکر خراسان کے نیٹ ورک کمانڈر انیل کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا وہ بلوچ فرزندوں کے اغوا و شہادت میں براہ راست ملوث تھا۔ ان کے باقی کارندے بھی ہمارے نشانے پر ہیں مذکورہ مخبر مقامی مذہبی شدت پسند ملا ذاکر اور حافظ سعید کا خاص کارندہ تھا۔
21 جنوری کو فورسز اور نیشنل پارٹی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے بی ایل ایف کے دو سرمچاروں دلشاد بلوچ اور واحد بلوچ کو مشکے منجو میں گھیر کر شہید کیا۔ ہم ان سرمچاروں کو بلوچ سرزمین کی دفاع و آزادی کی جنگ میں بیش بہا قربانیوں پر سرخ سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے آخری دن تک بلوچ سرزمین کی جد وجہدِ آزادی سے منسلک ہوکر اپنی جانوں کی قربانی دی ۔ 22 جنوری کو اسی علاقے میں آپریشن میں کئی گھر جلائے گئے، واپسی پر سرمچاروں نے فورسز کو گھیر کر کئی اہلکاروں کو ہلاک کیا اس کے رد عمل میں جنگی ہیلی کاپٹروں اور کئی گاڑیوں میں سوار سینکڑوں اہلکاروں نے کئی علاقے کو گھیرے میں لے ،مگر وہ عام آبادی میں گھروں کو جلانے کے سوا کچھ نہیں کرسکے۔ 27جنوری کوفورسز نے تمپ میں کوشقلات جنگل کا محاصرہ کرکے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی تو سرمچاروں نے دشمن کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے فورسزکو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اس جھڑپ میں فورسز کے تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔فورسز پیدل اور کئی گاڑیوں میں سے حملہ آور ہوا، لیکن سرمچاروں کی مثبت حکمت عملی کی وجہ سے یہ حملہ پسپا کیاگیا۔ جنگ کے دوران دشمن کے مخبر رحمدل و لد اسماعیل سکنہ کوشقلات کو ہلاک کیا گیا، ان کا نام پہلے ہی مشکوک افراد کی فہرست میں تھا۔تاہم آج اسے کوشقلات جنگل میں فورسزکی مدد کیلئے ایک پستول کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا مگر حالت جنگ کی وجہ سے انہیں مزید قید نہیں رکھ سکے تاہم گرفتار ہوتے ہی اس نے اپنے جرم کا اقرار کیاہے ۔ 24 جنوری کو گدر ،کلی عالم زئی میں فورسز کی کارروائی سے بی ایل ایف کا ایک کمانڈر کامریڈ نذیر بلوچ سکنہ مشکے شہید ہوئے ، وہ ایک انتہائی نڈر ایک جنگجو کمانڈر تھے۔ہم انہیں ایک عرصے سے بلوچستان کی جہد آزادی میں گراں قدر خدمات پر خراج تحسین اور سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔ان کی شہادت میں ملوث مخبر کا نام اور تفصیل معلوم ہوچکے ہیں۔ بالگتر میں سہاکی اور نلی کے درمیانی علاقے میں چین پاکستان اقتصادی راہدار ی منصوبے پر کام کرنے والے عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو پکٹ سیکورٹی فراہم کرنے والی فورسز پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 25 جنوری کو تمپ آزیان میں فورسز کی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملے میں ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 24 جنوری کو جھاؤ نوندڑہ میں فورسز کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 28جنوری کو تمپ کے علاقے آزیان سے گومازی میں فورسز کی چوکی پر فورسز کیلئے راشن لینے جانے والی گاڑی کو بارودی سرنگ کا نشانہ بنایا۔جس سے ایک شخص ہلاک اور ایک رخمی ہوا ہے۔بی ایل ایف کئی دفعہ گاڑی مالکان کو فورسز کی مدد نہ کرنے کی اپیل کرچکا ہے، مگر اس کے باوجود بعض اشخاص یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ فورسز کا معاون کار کوئی بلوچ ہو یا غیر بلوچ، اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ 24 جنوری کو ریاست کیلئے مخبری اور فورسز کو راشن سپلائی کرنے کی جرم میں سلیم ولد محمد کو مند کلگ میں نشانہ بنا کر ہلاک کیا ۔29جنوری کوبالگتر میں چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پر کام کرنے والی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے کارندوں پر سہاکی کے مقام پر حملہ کرکے تین کارندوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کیا۔ حملے میں ایک گاڑی اور ایک لوڈر کو بھی نقصان پہنچایا۔کل شام آواران شہر میں فرنٹیر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز پر بی ایم 12 فائر کرکے فورسز کو نقصان پہنچایا۔
کل تمپ میں ریاستی مخبر فاضل ولد بشیر کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔ مزکورہ مخبر آزادی پسندوں کی مخبری، آپریشن اور گھروں کو جلانے میں ملوث ریاست کا کارندہ تھا اسے ایک دفعہ پہلے گرفتار کرکے تنبیہ اور سرزنش کے بعد رہا کیا تھا کہ وہ مزید بلوچ دشمن کاموں میں حصہ نہ لے مگر وہ اپنی حرکات سے باز نہیں آئے۔ اس پر کڑی نظر اور دوسرے مقید مخبروں کی نشاندہی کے بعد انہیں سزا کے طور کل تمپ میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔ 30جنوری کو تمپ میں آزیان میں فورسز چیک پوسٹ پر اسنائپر رائفل سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔31جنوری کو سرمچاروں نے گومازی میں فورسزکے قافلے پر دو مقامات پر حملہ کیا۔ صبح دس بجے گومازی میں قافلے پر حملے کے بعد فورسز نے عام آبادی کو نشانہ بنایاکئی گھر اور جھونپڑیاں جلائی گئیں اسی قافلے پر واپسی پر چار بجے ایک اور حملہ کیا گیا۔ تمپ میں آزیان اور دازن کے درمیان ایک اور حملہ کیا گیا ان حملوں میں ایک ایک درجن کے قریب فورسزکے ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ان میں ایک کرنل بھی شامل ہے حملوں میں دو گاڑیوں کو بُری طرح نقصان پہنچایا۔ ہفتے کے دن تمپ کے علاقے آزیان میں فورسزکی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔
مشکے میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کیمپ پرحملہ کیا ہے حملے میں ایک کارندہ ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں یہ ڈیتھ اسکواڈ نیشنل پارٹی کے علی حیدر محمد حسنی کی سربراہی میں ریاستی کمک و ایما پر بلوچوں کے قتل میں ملوث ہے حال ہی میں اسی ڈیتھ اسکواڈ نے علی حیدر محمد حسنی کی سربراہی میں غریب بلوچ عوام سے تین سو بھیڑ بکریاں چرائی ہیں فورسز کی سربراہی میں بلوچ دشمن کردار ادا کرنے والے ہمارے نشانے پر ہیں، انہیں معاف نہیں کیا جائے گا ۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔ یکم فروری اتوار کے روز کیچ کے علاقے آسیہ آباد میں فورسز چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔2فروری کو کیچ کے علاقے رودبن میں اتوار کی رات فورسز کی چوکی پر اسنائپر رائفل سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔گزشتہ شب زعمران کے علاقے جالگی میں ڈرگ مافیا اور سرمچاروں کا سامنا ہوا جھڑپ میں ڈرگ مافیا کا ایک کارندہ ہلاک جبکہ چار کو سرمچاروں نے گرفتار کر لیا اور باقی بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔3فروری کوآواران، دراسکی کور میں پرانا پمپ کے قریب سرمچاروں نے فورسز کے تین گشتی گاڑیوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے دو گاڑیاں حملے کی زد میں آگئے ،حملے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔4فروری کوسرمچاروں نے بالگتر اور پنجگور کے درمیانی علاقے پیری میں چائنا پاکستان اقتصادی رہداری پر کام کرنے والی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی دوگاڑیوں پر حملہ کیا۔ حملے کی زد میں آکر ایک گاڑی کو نقصان پہنچا، جس میں تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔بلوچ قوم کی منشاء اور بلوچستان کی آزادی تک پاکستان سمیت کسی غیر ملکی منصوبے پر کام کرنے کی اجازت نہیں دینگے فورسز بلوچستان میں خون کی ہولی کھیل کر ترقی کے نام پر بلوچ نسل کشی اور بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی پالیسیوں میں مصروف ہیں۔ جنہیں بلوچ سرمچار ہروقت نشانہ بنا کر بلوچ وطن و وسائل کی حفاظت کریں گے۔ کولواہ کے علاقے بزداد میں پمپ کور کے مقام پرفورسزکی چار گاڑیوں پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ کل جھاؤ کے علاقے نوندڑہ میں فورسز نے عام بلوچوں کے گھروں میں قیمتی سامان لوٹ کر گھروں کو نقصان پہنچایا، واپسی پر سرمچاروں نے خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔کل ہی جھاؤ واجہ باغ میں فورسزکے کیمپ پر حملہ کیا گیا۔ ان حملوں میں فورسز کو بھاری نقصان پہنچا۔5فروری کو سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے نوندڑہ میں فورسزکی گشتی ٹیم پر اس وقت حملہ کیاجب وہ کلنجی گاؤں کا گشت کرکے واپس کیمپ جا رہے تھے حملے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا، دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہواہے۔ 7فروری کو ہفتہ کے روز سرمچاروں نے دشت زرین بگ میں فورسزکے مورچے پر اسنائپر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک کیافورسز نے حواس باختہ ہوکر عام آبادی کو نشانہ بنایا، اور زیارتی کے علاقے میں آبادی پر دھاوا بول کر تین گاڑیوں اور ایک موٹر سائیکل کوچرا کر لے گئے۔ 8فروری اتوار کی شام سرمچاروں نے بل نگور میں فورسز کے کیمپ پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا سرمچاروں نے تین راکٹ فائر کئے جو کیمپ میں جا گرے، جس سے کیمپ میں کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔9فروری کی رات دشت درچکو میں سرمچاروں نے فورسزکی چوکی پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ٓواران کے علاقے گیشکور میں میں فورسز کی جک چوکی پر اسنائپر رائفل سے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔10فروری کو مشکے میں ریاستی مخبر نبی داد عرف جمشید کو ہلاک کیا وہ پہلے ایک مسلح تنظیم کا رکن تھا، اُس نے سرنڈر کرکے نیشنل پارٹی کے ڈیتھ اسکواڈ میں شامل ہو کر بلوچوں کے خلاف کام کرنا شروع کیا تھا اس نے نیشنل پارٹی کے علی حیدر کی سربراہی میں بلوچ قومی تحریک آزادی کے خلاف فورسزکے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ میں شمولیت کی تھی۔ آج مشکے کے علاقے گجلی میں سرمچاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔ کولواہ کے علاقے بزداد میں فورسز کی لدھ چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 8 فروری کو آواران میں پیراندر چوکی پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کوجانی نقصان پہنچایا۔11فروری کو دشت میں باہوٹ چھات کے مقام پر فورسز کی چار گاڑیوں نے روڈ بلاک کرنے کے ساتھ علاقے کو گھیرئے میں لیا،سرمچاروں نے ایک گاڑی کو قریب سے خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر فورسز کے کئی اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔12فروری کوعسکری تعمیراتی کمپنی (ایف ڈبلیو او) کو سیکورٹی فراہم کرنے والے ایک اہلکار کو بالگتر ہنگول کے پہاڑی سلسلے میں جمعہ کی صبح سات بجے اسنائپر رائفل سے نشانہ بنا کر ہلاک کیا جب وہ عسکری تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیواو کو سیکورٹی فراہم کر رہا تھا۔13فرور کوہفتہ کے روز سرمچاروں نے بالگتر سری میتگ میں عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی ایک ٹرک اور لوڈر و کارندوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سری میٹگ میں ٹرک میں مٹی بھر رہے تھے۔حملے میں چھ کارندے ہلاک اور دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔آواران تیرتیج میں جک چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے کئی اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔ 14فروری اتوار کے روزسرمچاروں نے تمپ میں آزیان اور دازن کے درمیان فورسز کے قافلے پر حملہ کیاحملے کے بعد فورسز کے قافلے کے لیے فورسزکی کمک کو آنے والے اہلکاروں نے سرمچاروں کا پیچھا اور گھیراؤ کرنے کی کوشش کی اور پہاڑوں کی جانب پیش قدمی کی، سرمچاروں کے ساتھ دو بدو جھڑپ ہوا، یہ جھڑپ چار گھنٹے جاری رہی اور ایک درجن سے زائد اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے پانچ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔ سرمچار دشمن کو شکست دیکر بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔جھاؤ کے علاقے زیلگ میں مورچے پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 15فروری کو مشکے ،نلی میں فورسز کے کیمپ پر دو راکٹ فائر کیے، ایک راکٹ کیمپ کے اندر گرا جبکہ دوسرا راکٹ مین گیٹ کے پاس گرا،اسکے ساتھ سرمچاروں نے دو اطراف سے کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے بھی نشانہ بنایا جس سے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔13فروری کی شام چار بچے جھاؤ کے علاقے زیلگ میں فورسزکی ایک گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کھڑی تھی ،خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک دو کو زخمی کیا ۔22فروری پیر کی صبح گیارہ بجے کپ کپار اور بل دشت کے درمیان فورسز کی ایک ویگو گاڑی کو ریمورٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا ،بم کی زد میں آ کرگاڑی مکمل تباہ ہوئی جس میں سوار تمام اہلکار ہلاک ہوئے۔ جمعہ کے روز19 فروری کو جھاؤ کے علاقے کورک میں ریاستی مخبر ابراہیم ولد گل داد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا،مذکورہ شخص جھاؤ مشکے دراج کور اور منجھو سمیت دیگر کئی آپریشنوں و بلوچ فرزندوں کی مخبری میں ملوث تھا۔24فروری کوگیشکورمیں فورسزی کیمپ پر سرمچاروں نے خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے فورسز کو جانی نقصان پہنچایا۔ جھاؤ کے علاقے کھچ میں فورسز کے قافلے پر حملہ کر کے فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔21 فروری کو جھاؤ نوندڑہ فورسز کی چوکی میں ایک اہلکار کو اسنائپرا رائفل سے نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کے ساتھ خود کار ہتھیاروں سے چوکی میں موجود دیگر اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس سے انکو جانی نقصان کا سامناکرنا پڑا ۔25فروری جمعرات کی صبح سرمچاروں نے دشت کے علاقے پٹوک میں فورسز کے کانوائے کو سیکورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں پر دو مقامات پر حملہ کیا، جس میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہواہے۔ 26فروری کوبلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے گزشتہ دنوں شائع ہونے والی ایمنسٹی انٹر نیشنل کی سالانہ رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 اپریل 2015 کو تربت میں ہمارے سرمچاروں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کو سویلین قرار دینا بلوچستان کے مسائل سے چشم پوشی کے مترادف ہے مزکورہ افراد فورفسزکی عسکری تعمیراتی ونگ فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے اہلکار تھے اور چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر میں مصروف تھے اس راہداری کے نام پر اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد بلوچوں کو بے گھر کیا گیا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کا ذکر اس رپورٹ میں شامل نہ ہو سکا۔ ہر انسان کی جان قیمتی ہے مگر یہ منصوبہ ہماری قومی بقاء، شناخت و ثقافت کو ختم کرنے کی سازش سے جڑا ہوا ہے جس کی تعمیر کیلئے ہم فورسزیا کسی اور طاقت کو قطعی طور پر اجازت نہیں دے سکتے۔ اس منصوبے کے نام پر گوادر کو بلوچوں کیلئے نوگو ایریا بنا دیا گیا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے ذریعے بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی سے کئی گنا زیادہ غیر بلوچوں کو یہاں پر لاکر آباد کرنے اور بلوچوں کو انکی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے اور اس کی آڑ میں یہاں ڈیموگرافک تبدیلی لاکر بلوچوں کو اپنی ہزاروں سالہ سرزمین پر انکی ملکیت کے حق سے محروم کرنے کی پالیسی بھی انہی پاکستانی منصوبوں میں شامل ہیں جنہیں ہم بلوچ قوم کے ساتھ مل کر ہر صورت ناکام بنائیں گے۔ بلوچ قوم کو ایسی ترقی قبول نہیں جو بلوچوں کی لاشوں پر سے گزار کر پایہ تکمیل تک پہنچائی جارہی ہو۔ اس اقتصادی راہداری کے منصوبے کی راہ پر واقع تمام گاؤں ملیامیٹ کرکے لوگوں کو بے گھر (آئی ڈی پیز) کیا گیا ہے۔ جنوری کے مہینے میں مشکے سنیڑی میں ایک گھر پر حملہ کرکے ایک خاتون، ایک بارہ سالہ بچے سمیت سات افراد کو ہلاک کیا گیا، گزشتہ سال جولائی میں ضلع آواران کے علاقے کولواہ میں دو درجن سے زائد دیہاتوں کو جیٹ جہازوں اور زمینی فورسز سے حملہ کرکے صفحہ ہستی سے مٹایا گیا اور دو سو کے قریب نہتے بلوچ مرد، خواتین و بچوں کو قتل و زخمی کیا گیا، اور علاقے کو ایک مہینے تک محصور کرکے تمام ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی۔ کئی لاشیں بارش کا پانی بہا لے گئیں جن میں سے ایک لاش ایک مہینے بعد مسخ شدہ حالت میں ایک پہاڑی برساتی نالے سے برآمد ہوئی۔ آپریشن کے پہلے دن عیدالفطر کے روز علاقے کے مکین صرف چھ لاشیں نکالنے میں کامیاب ہوئے اور یہ جو ان کی زبانی بیانات کی ریکارڈنگ میں موجود ہیں جسے کوئی میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے منظر عام پر نہیں لاسکتے۔ کیونکہ ایسے تمام لوگوں کو پاکستانی ادارے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فورسز اور اس کے کنٹرولڈ میڈیا رپورٹوں کے سہارے تربت واقعے میں ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں کو سویلین قرار دیا جبکہ یہ اعتراف ریکارڈ میں موجود ہے کہ اس منصوبے پر عسکری تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیو او کام کر رہی ہے جس کے افسران سے لیکر عام کارندے تک فورسز سے لیے جاتے ہیں۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ، اپریل کے مہینے میں مشکے گورجک سے ایک شادی کی تقریب پر دھاوا بول کر سات بلوچوں کو اغوا کیا گیا، جن میں تین دولہے شامل تھے: چھ گھنٹے بعد چار کو قتل کرکے لاشیں مقامی انتظامیہ کے حوالے کی گئیں، جن میں تینوں دولہے بھی شامل تھے۔ اپریل ہی کے مہینے میں کیچ کے علاقے گیبن میں پانچ لاپتہ بلوچوں کو جعلی انکاؤنٹر میں مارا گیا، ان میں ایک معذوربلوچ فرزند بھی شامل تھا جنہیں گھر سے اٹھا کر شہید کیا گیا۔ اپریل ہی میں ممتاز انسانی حقوق کے کارکن سبین محمود کو خفیہ اداروں نے اس لئے قتل کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بات کرنے کی جرات کرتی تھیں۔ جون کے مہینے میں مشکے میں ایک جنازے پر بمباری کرکے تیرہ بلوچوں کو شہید کیا گیا، نومبر کے مہینے میں آپریشن کے دوران بولان سے دو درجن سے زائد خواتین کوفورسز نے اغوا کیااور دس لاپتہ بلوچوں کی لاشیں ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کرکے انکاؤنٹر میں مارنے کا ڈرامہ دہرایا گیا۔ بلوچستان میں ہزاروں لاپتہ اور مسخ شدہ لاشوں کو بالائے طاق رکھ کر بیس فورسزکے اہلکاروں کو سویلین قرار دیکر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بلوچ قوم کی انسانی حقوق کے اداروں پراعتماد، امید و توقعات کو مدھم کردیا ہے۔ ایسی کئی مثالیں اور ریکارڈ ایمنسٹی انٹر نیشنل و دوسرے اداروں کو فراہم کرسکتے ہیں جس میں پاکستان بلوچوں کی نسل کشی جیسے اقدامات میں ملوث ہے۔ ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دوسرے اداروں اور میڈیا کو بلوچستان کادورہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور ان کو ماضی کی طرح یقین دہانی کراتے ہیں کہ انہیں بلوچ آزادی پسندوں کی طرف سے کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہم انہیں سیکورٹی فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنا فرض ادا کریں۔25 فروری کو تمپ میں فورسز کی آزیان چوکی پر اسنائپر رائفل سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 26 فروری کو سرمچاروں نے فورسز کے دو اہلکاروں کو اس وقت بارودی سرنگ کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا جب وہ گومازی چیک پوسٹ سے پیدل نکل کر آزیان تمپ چیک پوسٹ کی طرف جارہے تھے۔ سرمچاروں نے بارودی سرنگ ان کے راستے میں نہنگ کور میں نصب کی تھی۔بلیدہ میں ریاستی مخبرمسلح دفاع کے کارندے نوکاپ عرف نوکو کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کیا جب سرمچار اسے گرفتار کرنے کیلئے راستے میں کھڑے تھے، مگر اس نے گرفتاری دینے کے بجائے بندوق نکال کر فائر کرنے کی کوشش کی۔ ہلاکت کے بعد سرمچاروں نے بندوق قبضے میں لے لی۔ نوکاپ عرف نوکو پہلے دوستک کے نیٹ ورک میں کام کرتا تھا، اب بلیدہ میں ایک گروہ کے ساتھ کام کر رہاتھا۔ اس گروہ کے سرغنہ اور دوسرے کارندے بھی نشانے پر ہیں۔28فروری کو سرمچاروں نے دشت میں پٹوک چوکی پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا ۔ حملے میں چیک پوسٹ کی سیکورٹی گارڈ کے مورچہ، چیک پوسٹ اور موجود گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں فورسزکو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ 29فروری پیر کی صبح سرمچاروں نے راغے بلوچ آباد میں فورسز کی چیک پوسٹ پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ 2مارچ کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ فورسز نے ڈاکٹر مالک اور نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر ایک سازش، دھمکی و لالچ کے بل بوتے پر کیچ فیسٹیول کے نام پر کھیل و تقریبات کا انعقاد کرکے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ بلوچستان میں امن ہے اور بلوچ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ جب کہ حقیقت میں کچھ ڈیپارٹمنٹس کے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور لالچ دیکر انہی کے ذریعے اس فیسٹیول کا اہتمام کیا گیاہے، جس کیلئے کیچ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک بہت بڑا بجٹ رکھا گیا ہے ایسی حرکات اور ان منصوبوں میں ملوث لوگوں پر ہماری نظر ہے بلوچ طلبا، کھلاڑی اور فنکاروں کو غلط بیانی اور دھوکہ کے ذریعے اکھٹا کرکے فورسز اور پرچم تلے تقریبات کو کامیاب بنانے کی سعی کی جارہی ہے۔ بلوچ طلبا، کھلاڑی اور فنکاروں کو اس بات کا ادراک و علم ہونا چاہئے کہ فورسز بلوچ کے خون اور حالت جنگ میں تقریبات منعقد کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششوں میں مصروف ہے، لہٰذا کوئی بھی ایسی سازشوں کا حصہ نہ بنے۔فورسز نے فسٹیول کے پہلے دن تین لاپتہ بلوچوں کو اپنی بدنام زمانہ ’مارو اور پھینکو‘ پالیسی کے تحت شہید کرکے لاشیں لیویز کے حوالے کرکے فیسٹیول کے دوران بلوچ عوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ہر حالات میں لوگوں پر جبر کرتے رہیں گے، اور کچھ زر خرید غلام ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ اسی لئے یہ واضح ہے کہ اس میں بلوچ قوم کی رضا و منشاء شامل نہیں،اور روزانہ کی بنیاد پر لاشوں کی برآمدگی اوربد ترین آپریشن جیسے برے حالات میں فیسٹیول و جشن بلوچ قوم کو قبول نہیں۔یہ بلوچ قوم کی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، عالمی طاقتوں کو اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔قابض ریاست کی جانب سے ہماری لاشوں پر ڈھول کی تھاپ پر رقص حسب توقع ہے،کچھ نام نہاد قوم پرست اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، ان کا احتساب کرنے کیلئے بلوچ سرمچار لائحہ عمل تیار کرچکے ہیں۔کیچ فیسٹیول اور آنے والے 23 مارچ کی جشن و تقریبات سے بلوچ عوام دور رہیں جس کے لئے فورسز اور خفیہ اداروں نے پہلے ہی بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے افسروں ، اسکول انتظامیہ اور اپنے من پسند عمائدین ودوسرے افسران کو بھی بھاری رقم مہیا کی ہے ۔تاکہ وہ نمائشی تقریبات کرکے اپنی فورسز اور پاکستانی عوام کا حوصلہ بلند کر سکیں اور یقین دلا سکیں کہ بلوچستان فورسز کے کنٹرول میں آگیا ہے ۔ہم واضح کرتے ہیں کہ جدھر بھی فورسز اور اس کے زرخرید وفاق پرستوں نے پاکستان کا جھنڈا زبردستی لہرانے کی کوشش کی وہ بلوچ سرمچاروں کا نشانہ بنیں گے۔انہی منصوبوں کی تکمیل کیلئے فورسز نے کئی اسکولوں پر قبضہ کرکے فورسزکے دستے تعینات کئے ہیں بلوچ عوام ایسی گھناؤنی سازشوں سے دور رہیں، کیونکہ سرمچار کسی بھی وقت ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔بلوچستان میں آج بھی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور اب بھی ہزاروں بلوچ لاپتہ ہیں، جس کے سبب ہزاروں فیملی اور لاکھوں عزیز و رشتہ دار پریشان اور در بدر کی زندگی گزار رہے ہیں، ایسے حالات میں فورسز کی جانب سے صرف دنیا اور بیرونی سرمایہ کاروں کو یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ وہ آکر بلوچ وسائل کی لوٹ مار اور بلوچ نسل کشی میں ان کی مالی و عسکری مدد کریں اس میں چین پہلے ہی شامل ہو چکاہے۔ چین کی ملی بھگت سے بلوچ سرزمین کا سودا، لاکھوں غیر بلوچوں کو بلوچستان میں آباد کرنے کی پالیسی ہمیں اپنے ہی سرزمین پر اقلیت میں بدلنے کی سازشیں ہیں جنہیں بلوچ قوم ناکام بنا دیگی یہ ریاست کی بھول ہے کہ طاقت ، ظلم و جبر سے گھبرا کر بلوچ اپنی شناخت کا سودا لگانے پر تیار ہوگاان سب منصوبوں کا عام بلوچ کو علم ہو چکا ہے اور کسی بھی بلوچ شہدا کے خون کو رائیگاں ہونے سے بچانے اور سرزمین کی دفاع کیلئے تیار ہے۔ 3مارچ کومشکے کے علاقے کھندڑی میں فائرنگ کرکے ریاستی مخبر عیدو ولد صوالی کو ہلاک کیا مزکورہ مخبر نیشنل پارٹی کے ڈیتھ اسکواڈ علی حیدر کی سربراہی میں بلوچوں کی مخبری اور آپریشنوں میں ملوث تھا۔ بدھ 2 مارچ کو سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے پروم سے ریاستی مخبر نواز ولد داد محمد کو گرفتار کیا ہے۔ نواز ولد داد محمد خفیہ اداروں کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ مسلح دفاع کا کارندہ ہے ۔ اس سے پوچھ گچھ اور تفتیش کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ 5مارچ کیچ کے علاقے دشت میں پٹوک کے مقام پر فورسز پر اس وقت حملہ کیا جب وہ دشت کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے بعد واپس تربت کی جانب جا رہے تھے۔ سرمچاروں نے سات گاڑیوں کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ آدھا گھنٹے تک جاری جھڑ پ میں فورسز کی چار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا حملے میں کئی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہلاک و زخمیوں کو لے جانے کیلئے فورسز کو قریبی کیمپ و چوکیوں سے مدد لینی پڑی ہے۔ ہوشاپ میں گوادر کاشغر روٹ پر کام کرنے والی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی پانی بھرنے والی ٹینکروں کو سیکورٹی فراہم کرنے والوں پر سرمچاروں نے اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ بلوچوں کی مرضی و منشا کے بغیر پاکستان چین اقتصادی رہداری سمیت تمام منصوبوں پر کام کرنے والے سرمچاروں کے نشانے پر ہیں اور ان کے خلاف ہر صورت مزاحمت کی جائے گی۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔7مارچ کو سرمچاروں نے خاران میں ڈی سی ہاؤس پر بم نصب کیا جو دھماکے سے پھٹ گیاجس سے عمارت کو نقصان پہنچااور اندرونی گیٹ تباہ ہوا وہاں موجود لیویز کی فائرنگ کے جواب میں جوابی فائرنگ کی گئی۔یہ ڈی سی خاران کے بلوچ دشمن پالیسیوں کو روکنے کیلئے ایک وارننگ ہے۔مزکورہ ڈپٹی کمشنر بلوچ تاجروں و دکانداروں کو تنگ کرنے ، بلاوجہ جرمانہ کرنے اور انہیں فورسز کے ہاتھوں تشدد کروانے سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث ہے۔اس کے علاوہ اس نے فورسزکے اسکول کا افتتاح کروانے میں مدد کی ہے، جو کہ ریاستی مشینری کو براہ راست سپورٹ کرنے اور بلوچ عوام پر جبر میں برابر شراکت داری ہے۔فورسز نے ماڈل اسکول کے ہاسٹل پر قبضہ کرکے اسے اسکول بنا یا ہے۔فورسز کے ہاتھ بلوچ کے خون سے رنگے ہیں اور وہ اپنی بلوچ کش پالیسیوں کو وسعت دینے کیلئے اسکول و ہسپتالوں کے نام پر بلوچ قوم میں انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔ایسے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈی سی ہاؤس پر حملے کے دوران لیویز اہلکاروں کی فائرنگ کے جواب میں انہیں نقصان دے سکتے تھے، لیکن بلوچ ہونے کے ناطے انہیں ایک دفعہ پھر نشانہ نہیں بنایا، مگر لیویز اور پولیس کو آخری وارننگ دیتے ہیں کہ فورسز،ریاستی بلوچ نسل کشی کی کسی بھی عمل میں معاونت سے دور رہیں، بصورت دیگر ان کے ساتھ بھی فورسز جیسا برتاؤ کیا جائے گا۔8پیر کے روز جھاؤ، ڈولیجی میں فورسز کی چیک پوسٹ پر اسنائپر رائفل سے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔بدھ 9 مارچ کو سرمچاروں نے جھاؤ میں فورسزکی چیک پوسٹ پر دو حملے کئے۔ جھاؤ ڈولیجی میں بدھ کی صبح اور دوپہر کو چیک پوسٹ پر خود کارہتھیاروں سے حملہ کرکے فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 11 مارچ کو تمپ میں فورسز کی آزیان چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ کیچ کے علاقے شاپک میں ملا صوالی ولد دوست محمد، ماسٹر بدل ولد ہاشم اور جان محمد ولد دُرا کافورسزکے کیمپ آنا جانا اور معلومات دینے کی خبریں موصول ہوئی ہیں انہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ کے دشمنوں ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں، بصورت دیگر وہ اپنے نقصان کا ذمہ دار خود ہونگے۔ 13مارچ کوسرمچاروں نے پنجگور رخشان میں کریچی کے مقام پر چائنا پاکستان اقتصادی راہداری روٹ پر کام میں مصروف عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) کی مشینری پر حملہ کرکے ایک لوڈر اور ایک ٹرالرگاڑی کو نذر آتش کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان سمیت کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری کے نام پر بلوچ وسائل کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیتے۔ بلوچ سرمچار بلوچ وطن ، ساحل وسائل کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس راہداری کے نام پر ہزاروں بلوچوں کو بے گھر ، شہید اور اغوا کیا جا چکا ہے۔ کوئی بھی منصوبہ آزاد بلوچستان کے جھنڈے تلے بغیر بلوچ قوم کو منظور نہیں۔ 15 منگل کی صبح 6 بجے سرمچاروں نے فورسز کی تین گشتی گاڑیوں پر آواران میں کنیرہ اور منگلی کے درمیان خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا حملے میں تینوں گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جن میں سوار تمام اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ کیچ کے علاقے پیدارک میں خفیہ اداروں کے ڈیتھ اسکواڈ لشکر خراسان جس کے داعش سے بھی تعلقات بتائے جاتے ہیں، کے کیمپ پر حملہ کیا ،یہ کیمپ شاہ میر عزیز کی سربراہی میں خفیہ اداروں کی سرپرستی میں قائم ہے، جو مختلف علاقوں میں مذہبی منافرت پھیلانے، بلوچوں کی مخبری، قتل اور اغوا میں ملوث ہے۔ بلوچ جد وجہد کو کاؤنٹر کرنے کیلئے پاکستانی ادارے مختلف مذہبی انتہا پسندوں کی مدد کرکے بلوچستان میں ان قوتوں کو منظم کرنے میں مصروف ہیں۔خفیہ ایجنسی جو طالبان کی خالق ہے اور اسی کے نام پر پوری دنیا کو بلیک میل کرکے پیسے بٹور رہا ہے، اب یہی کھیل بلوچستان میں لشکر خراسان جیسے تنظیموں کی مدد کرکے دنیا کیلئے ایک اور محاذ کھولنے میں مصروف ہے۔ جب کہ بلوچ قوم ان کے خلاف بر سر پیکار ہے،تاکہ خطہ اور دنیا میں امن قائم ہوسکے۔ دنیا کو بلوچ قوم کی مدد کرنا چاہئے تاکہ پاکستان جیسے دہشت گرد ملک کے سامنا کرکے عالمی دہشت گردی کے خلاف و خطے میں امن کیلئے آزاد بلوچستان اپنا کردار ادا کر سکے۔ 18مارچ کو سرمچاروں نے بالگتر کے علاقے سہاکی میں آسکانی کے مقام پر چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پر کام کرنے والی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) کی مشینری اورفورسزکی چوکی پر حملہ کیا۔ حملے میں تین بلڈوزروں کو نقصان پہنچا۔ قریبی چوکی پرا سنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ 17 مارچ کو ضلع پنجگور کے علاقے گچک میں فورسز کی گاڑیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ایک چوکی کو راشن پہنچا رہے تھے حملے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔18 مارچ کو جھاؤ میں فورسز کے قافلے پر اس وقت حملہ کیا جب وہ لال بازار میںآپریشن کے بعد اپنے کیمپ کی جانب جا رہے تھے۔ جھاؤ، بریت کور میں سرمچاروں نے قافلے پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے متعدد اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔ حملے میں فورسز کے دو موٹر سائیکل ناکارہ ہوئے۔ 20مارچ کو بلیدہ میں فورسز پر اس وقت حملہ کیا جب وہ الندور زیردان میں آپریشن کرکے واپس جا رہے تھے۔اس حملے میں ہمیں بلوچ ریپبلکن آرمی(بی آر اے) کی کمک بھی حاصل رہی۔فورسز نے آبادی پر حملہ کرکے ایک بچی سمیت امیر بخش بلوچ اور رشید بلوچ کو شہید کیا۔ریاست کی بربریت کا شکار ہونے والے شہید وں کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔ سرمچاروں نے فورسزپر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ترجمان نے کہا کہ فورسز تمام جنگی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرکے ایک عرصے سے پورے بلوچستان میں سول آبادی میں گھس کر گھروں کوجلانے ، عام آبادی پر بمباری اور نہتے لوگوں کی قتل و اغوا جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث فورسزکو عالمی قوانین کے مطابق سزا کا حقدار قرار دیا جائے۔ ان حالات میں دنیا کے مقتدرہ قوتوں کی خاموشی بلوچستان میں ایک بڑے انسانی المیہ کو جنم دے رہا ہے۔23مارچ کی مناسبت سے فورسزکے کیمپوں میں تقریبات اور پریڈ کے دوران حملے کرکے فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا۔ یہ تقریبات فورسزکے کیمپوں تک محدود رہیں جبکہ بلوچ عوام ماضی کی طرح فورسز و ان کی تقریبات سے دور رہے۔ یہ تقریبات فورسزو اس کے زر خریدوں تک محدود رہے بلوچستان کی آزادی کی جنگ میں ہزاروں بلوچ شہید، ہزاروں پاکستانی خفیہ اداروں کے خفیہ ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ان حالات میں جشن بلوچ قوم کو منظور نہیں جو انہوں نے ثابت کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کیچ دشت کے علاقے بل نگور میں فورسزی کے کیمپ پر اس وقت ایک بی ایم 12 فائر کیاجب وہ پریڈ کی تیاری میں تھے۔ ایک اور بی ایم 12 آواران میں فورسزکے ہیڈ کوارٹر پر فائر کیا۔ آواران ہی میں پیراندر کراس چیک پوسٹ پر راکٹ حملہ کیا۔ گیشکور میں فورسز کے کیمپ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔بالگتر میں فورسز کے کیمپ اور قریبی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) کے کارندوں کے خیموں پر حملہ کیا۔ کل رات دشت دْرچکو میں فورسزکی چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ان حملوں میں فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے اس کے علاوہ کل رات دشت زرین بگ میں فورسز کی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ بلوچستان کی آزادی تک یہ حملے جاری رہیں گے۔ 23 مارچ کو کیچ کے علاقے گومازی میں فورسز کی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔26مارچ کوبسیمہ کے علاقے راغے،گرائی میں فائرنگ کر کے ریاستی ایجنٹ شے مرید ولد لعل محمد کو ہلاک کیا ہے جو رخشان کا رہائشی ہے۔وہ مسلح دفاع کا کارندہ اور خدا رحم ڈیتھ اسکواڈ کے زیر دست بلوچوں کی قتل ،اغوا اور آپریشن میں ملوث تھا۔ترجمان نے کہا کہ ریاست کے لیے معاون کا کردار ادار کرنے والے اور ڈیتھ اسکواڈ کے کسی بھی کارندے کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ 27مارچ کو سرمچاروں نے کیچ کے علاقے گومازی میں فورسز کی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔28مارچ کو کیچ کے علاقے پیدارک میں ڈیتھ اسکواڈ اور داعش کے لشکرخراسان کی چوکی پر راکٹ حملہ کیا۔ اس چوکی پر بلوچ عوام سے بھتہ لینے کے ساتھ نہتے بلوچوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔یہ گروہ لشکر خراسان کے شاہ میر و میران عزیز کی سربراہی میں فورسز کی کمک و مدد سے علاقے میں مذہبی منافرت پھیلانے، بلوچوں کے اغوا اور فورسز کے حوالے کرنے اور شہید کرنے میں براہ راست ملوث ہے۔ فورسز اور ان کی معاون اور کارندوں پر حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔31مارچ کو کیچ کے علاقے گومازی میں سرمچاروں نے فورسزکی گشتی ٹیم کے راستے پر ایک بارودی سرنگ نصب کیا، جس کی زد میں آکر دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز بالگتر میں ہنگول کے مقام پر چین پاکستان اقتصادی رہداری پر کام کرنے والی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی گاڑی پر اسنائپر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک کیا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز