کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ آج بی این ایم افغان ریجن کے آرگنائزر سہراب بلوچ کی زیر صدارت گیارہ اگست کے حوالے سے ایک پروگرام کابل میں منعقد ہوا۔ جس میں بی این ایم کے ارکان کے علاوہ عورتوں اور بچوں نے شرکت کی۔ شرکا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ اگست 1947 کو برطانیہ نے بلوچستان چھوڑ کر ہماری مکمل آزادی کا اعلان کیا۔ دیدار بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کائنات کی سب سے بڑی اور منفرد نعمت ہے۔ مادر وطن کی محبت دنیا کی تمام آسائشوں سے بڑھ کر ہے۔ اس دنیا میں سب سے خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنی سرزمین میں آزادی اور امن کی نعمت سے مستفید ہے۔ اور دنیا میں باشعور انسان وہ ہے جوکسی بھی حالت میں کسی انسان کو غلام نہیں رکھتا۔ لیکن 1871 سے لیکر اب تک بلوچ کبھی انگریز اور کبھی ریاست اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی پاداش میں جبری قبضہ گیری اور غلامی کی زندگی بسر کر رہاہے۔ ایک گریٹ گیم کے تحت بلوچستان کو برٹش برطانیہ نے افغانستان کے خلاف فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کیا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جرمنوں کے ہاتھوں ہندوستان میں انگریزوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے اور ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تو انہوں نے گریٹ گیم کے تحت محمد علی جناح کی سربراہی میں مسلم لیگ کی پلیٹ فارم سے ہندوستان کی تقسیم کرکے پاکستان کے نام پر ایک ملک بنایا۔ ریاست کے جناح محمد علی جو کہ خان احمد یار خان کا وکیل تھا، بلوچستان کے خلاف سازش شروع کی۔ خان احمد یار خان نے ’’ایوان بالا اور ایوان زیرین‘‘ میں بلوچستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کے بارے میں آگاہی دی اور ایوان کو فیصلے کا اختیار دیا گیا۔ اسی ایوان میں غوث بخش بزنجو نے ایک تقریر میں کہا کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست ہے ، ہم نہ ہندوستان کے حصے تھے اور نہ ہم ریاست میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اسلام کے نام پر کسی کو اکھٹا کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے سوا افغانستان، ایران اور عرب ممالک بھی مسلمان ہیں انہیں بھی ایک ریاست میں لائیں۔ ہم اپنی آزادی برقرار رکھیں گے اور کسی قوم کے ماتحت نہیں ہوں گے۔ ایوان بالا اور ایوان زیرین کے متفقہ رائے کے بعد خان احمد یار خان نے گیارہ اگست 1947 کو بلوچستان کی آزادی کا اعلان کیا اور آزادی کا جھنڈا لہرایا۔ سات مہینے تک بلوچوں نے آزاد بلوچستان کی سرزمین پر ایک آزاد قوم کی حیثیت سے آزاد ماحول میں سانس لیا۔ مگر ستائیس مارچ 1948 کو ریاست نے بلوچستان پر بزور شمشیر قبضہ کر لیا۔ لیکن بلوچ بہادری سے پرنس آغا کریم کی بغاوت سے لیکر نواب نوروز، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی، بالاچ مری، چیئرمین غلام محمد بلوچ اور دیگر ہزاروں شہدا نے جانوں کی قربانی دیکر اس غلامی اور قبضہ گیریت کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ اور آج بھی بلوچستان کے کونے کونے میں بلوچ قوم جن میں بڑے، بوڑھے ، بچے اور عورتیں آپریشن ، ٹارچر سیلوں ، مذہبی انتہا پسندوں ، پارلیمانی ایجنٹوں ، سرداروں کے ہاتھوں جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ بلوچ قوم کا منزل آزاد بلوچستان سے کمتر کچھ نہیں۔ مقررین نے کہا کہ آج کا دن ہمیں تجدید عہد کا درس دیتا ہے کہ ہم قابض کے خلاف اپنی آزادی کی جد و جہد منظم انداز میں جاری رکھیں۔


