کوئٹہ(ہمگام نیوز )بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ اور قابض فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو مند میں سرمچاروں نے دوکوپ اور مکانفر کے درمیان پاکستانی فوج کی چار گاڑیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے چاروں گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ اِن میں سوار ایک درجن سے زائد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ مند ہی میں مہیر اور بلوچ آباد کے درمیان فوجی قافلے پر خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے کئی اہلکاروں کو ہلاک اور زخمی کیا۔ کیچ کے تحصیل بلیدہ میں ناگ کراس پر فرنٹیر کور (ایف سی) کے قافلے پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ 6 ستمبر کو جھاؤ کے علاقے نوندڑہ میں فوجی چیک پوسٹ اور گاڑیوں پر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ جس پر حواس باختہ ہوکر قابض فوج نے نوندڑہ میں عام آبادی پر دھاوا بول کر کئی نہتے شہریوں کو اغوا کیا ہے۔گہرام بلوچ نے کہا کہ جمعرات کی صبح سرمچاروں نے حملہ کرکے تحصیل بسیمہ کے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ سراج کو ہلاک کیا ہے۔ تحصیل بسیمہ کے علاقے راغے میں بیرونٹ کے مقام پر ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں پر حملہ کیا، جس سے دو طرفہ لڑائی شروع ہوئی۔ لڑائی میں ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کمانڈر اور بسیمہ و راغے میں ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور نیشنل پارٹی کے رہنما علی حیدر کے دست راست سراج احمد ولد جمعہ خان محمد حسنی ہلاک اور تین کارندے زخمی حالت میں بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ بیک وقت مسلح دفاع اور نیشنل پارٹی کے علی حیدر کی سربراہی میں بلوچوں کی مخبری، قتل و غارت اور اغوا جیسے مذموم کارروائیاں کر رہاتھا۔ سرمچاروں نے سراج کی بندوق، دوربین اور موبائل قبضے میں لے لئے، جبکہ خراب موٹر سائیکل کو جلا دیا۔ مزکورہ ریاستی اہلکار کافی عرصہ سے ریاستی سرپرستی میں ایک ٹارچر سیل چلا رہا تھا۔ بے گناہ لوگوں کو تنگ کرنا ، خواتین کی بے حرمتی کرنا، چوری ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، گاڑیوں اور دکانداروں سے بھتہ وصولی، خواتین کی زبردستی شادیاں کرانا، بسیمہ ٹو پنجگور روٹ پر گاڑیوں سے ٹیکس لینا اور لوٹنا، غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کرنااور مذہبی شدت پسندی و منافرت پھیلانے جیسے گھناؤنے کاموں میں بھی ملوث تھا۔ سراج احمد مذہبی شدت پسند تنظیم مسلح دفاع کا اہم رہنما ہے۔ حالیہ عرصے میں بسیمہ کے مختلف علاقوں میں لوگوں کی کھڑی فصلوں کو جلانے اور گندم و اناج لوٹنے میں سراج و اُس کاگروہ ہی کار فرماتھا۔ اِس پر سرمچاروں نے پہلے تین حملے کئے ہیں مگر وہ ہر دفعہ بچ نکلے ہیں۔ مگر آج کے شدید جھڑپ میں وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔


