کوئٹہ(ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ 8 جون کو بلوچ اسیرانِ ظلم اور قومی مزاحمت کے دن کے طور پر مناتے ہوئے بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں نے جبری گمشدگیوں، غیر قانونی گرفتاریوں اور ریاستی جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 جون بلوچ قوم کی تاریخ میں محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ بیان کے مطابق یہ دن ان ہزاروں بلوچ نوجوانوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو جبری گمشدگیوں، غیر قانونی قید، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور دیگر مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس کا مقصد سیاسی اختلاف کو دبانا اور معاشرے میں خوف کی فضا قائم رکھنا ہے۔ تاہم مقررین اور مقررہ بیان کے مطابق ان اقدامات کے باوجود بلوچ معاشرے میں مزاحمت اور سیاسی شعور مزید مضبوط ہوا ہے۔
بیان میں متاثرہ خاندانوں، خصوصاً ماؤں، بہنوں اور بچوں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ انصاف اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے جاری جدوجہد کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق جبری گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ صرف متاثرین نہیں بلکہ مزاحمت کی پہلی صف میں کھڑے افراد ہیں۔
مزید کہا گیا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر تشکیل دیے گئے مختلف کمیشنز اور سرکاری اقدامات مسئلے کے حل میں ناکام رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے آواز بلند کرنے والے کارکنوں اور رہنماؤں پر پابندیوں اور گرفتاریوں کو ریاستی بے بسی کی علامت قرار دیا گیا۔
بیان کے اختتام پر بلوچ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف پرامن اور منظم جدوجہد جاری رکھیں۔
بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور رہائی کے لیے جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام لاپتہ افراد اپنے خاندانوں کے پاس واپس نہیں آ جاتے۔یہ انداز خبر نویسی کے اصولوں کے مطابق نسبتاً غیر جانبدار اور صحافتی ہے، جسے کسی نیوز ویب سائٹ یا اخبار میں بطور خبر شائع کیا جا سکتا ہے۔


