سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبی ایس او آزاد کولواہ زون جنرل باڈی اجلاس منعقد

بی ایس او آزاد کولواہ زون جنرل باڈی اجلاس منعقد

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کولواہ زون جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا ۔جس کے مہمان خاص مرکزی جونیئر وائس چیئرمین ڈاکٹر سلیمان بلوچ تھے ۔ اجلاس میں مرکزی سرکلر، زونل کارکردگی رپورٹ، تنظیمی امور،تنقیدی نشست، عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیرِ بحث رہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیمان بلوچ نے کہا کہ بی ایس او آزاد نے ہمیشہ بلوچ آزادی کے واضح موقف کے ساتھ بلوچ عوام کے اندر رہتے ہوئے بلوچ عوام خصوصاََ اسٹوڈنٹس کی حقیقی معنوں میں فکری و نظریاتی تربیت کرتے ہوئے انہیں قومی سیاست میں متحرک کرچکی ہے۔اسی جرم کی پاداش میں بی ایس او آزاد کو ریاست کی جانب سے کالعدم قرار دیا جاچکا ہے اور پچھلے کئی سالوں سے ریاست ایک منصوبے کے تحت بی ایس او آزاد سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور لیڈروں کو اغواء و شہید کررہی ہے۔لیکن اس کے باوجود بی ایس او اپنا تنظیمی پروگرام پرامن طریقے سے آگے لے جاتے ہوئے بلوچ سماج کو منظم اور زیادہ سے زیادہ متحرک کررہی ہے ۔انہوں نے کہا بلوچ قومی آزادی کی سیاست میں بی ایس او آزاد بشمول دیگر آزادی پسندتنظیموں کی مسلسل جدوجہد سے بلوچ قومی تحریک عالمی سطح پر ہر گذرتے دن کے ساتھ پزیر ائی حاصل کررہی ہے جسکی حالیہ مثال ہندوستان کے وزیراعظم نریندرہ مودی کے بلوچستان کے حوالے بیان ہے۔۔انہوں نے کہا کہ چین پچھلے کئی سالوں سے سیندک پروجیکٹ سے بے دریغ وسائل نکال کر پاکستان کی معاونت سے اپنی معیشت کو مضبوط کررہی ہے اور اب گوادرپورٹ کی فعالی سمیت دیگر استحصالی پروجیکٹس کی تعمیر کو بلوچ عوام کی ترقی کا نام دیکر دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے لیکن اس کے برعکس جس دن سے سی پیک جیسے استحصالی معاہدات پر دستخط ہوئے ہیں،پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی کی کاروائیوں میں بے تحاشا تیزی لاتے ہوئے نام نہاد سرمایہ کاریوں کے سامنے مزاحم بلوچ عوام کو ختم کرکے بلوچ سرزمین کو بدستور غلام رکھنے اور مخصوص مفادات کی تکمیل کی کوشش کی جارہی ہے تو دوسری طرف سے بلوچ وسائل پر کنٹرول اور اس اہمیت کے حامل جغرافیہ پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے چین کا بھاری سرمایہ لگایا جاچکا ہے جسکی کامیابی کیلئے طاقت کا انتہائی استعمال کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود بلوچ قومی تحریک نہ صرف جاری ہے بلکہ اب خود کو منوا بھی چکی ہے اگر تحریک کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں کہ بلوچ قوم ایک خوشحال و خود مختار ریاست کے مالک ہونگے۔اجلاس میں تمام ایجنڈوں پر بحث مباحثہ کے بعدتنظیمی پروگرام کو آگے لے جانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز