کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ جمعرات کی شام کو سرمچاروں نے مستونگ میں میونسپل کمیٹی کی دفتر پر دستی بم حملہ کیا۔ حملے میں گاڑیوں اور عمارت کو نقصان پہنچا۔ میونسپل دفتر میں مردم شماری کا عملہ اور ان کی سیکورٹی موجود تھی۔ میونسپل کمیٹی کے دفتر سے مردم شماری کو کنٹرول کیا جا تا ہے۔ کل ہی ضلع کیچ کے علاقے مند میں گوک گاؤں میں مردم شماری کی سیکورٹی پر معمور فوجی اہلکاروں پر دو مقامات پر حملہ کرکے نقصان پہنچایا۔ آج آواران پیراندر میں زیارت ڈن کے مقام پر قابض فوج پر مردم شماری کے وقت حملہ کیا۔ پولیس بھی فوج کے ہمراہ تھی۔ پولیس آفیسروں اور اہلکاروں کو آخری وارننگ دیتے ہیں کہ وہ بلوچ نسل کشی میں ملوث پاکستانی فوج کا ساتھ نہ دیں۔ بصورت دیگر ہم سخت اقدامات اُٹھا نے پر مجبور ہوجائیں گے۔ گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے بتایا کہ اس مردم شماری کو بہت سی وجوہات اور سازشوں کے تحت بلوچ قوم نے مسترد کیا ہے اور اس کا حصہ نہیں بن رہے ہیں۔ پاکستان ایک قابض ملک ہے، اسے بلوچستان میں بلوچ قوم کی مرضی کے بغیر مردم شماری کا کوئی حق نہیں۔ قبضہ کے بعد سے مختلف ذرائع سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے تاکہ بلوچوں کی شناخت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا سکے۔ لاکھوں غیر ملکیوں کو بلوچستان میں آباد کرنا، لاکھوں بلوچوں کو اپنے ہی علاقوں سے بیدخل کرکے در بدر کرنا،ہزاروں بلوچوں کو قتل یا زندانوں میں لاپتہ رکھنا، لاکھوں بلوچوں کو اندراج سے محروم کرنا جیسی سازشوں کے بعد مردم شماری ایک بلوچ دشمن اور بلوچ شناخت کو مٹانے کی پالیسی ہے۔ جسے کوئی بھی ذی شعور انسان بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔


