جمعه, مارچ 13, 2026
Homeخبریںزاہد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تین سال مکمل،مختلف پروگرامز منعقد۔بی ایس...

زاہد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تین سال مکمل،مختلف پروگرامز منعقد۔بی ایس او آزاد

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی طرف سے تنظیم کے سابقہ چیئرمین زاہد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تین سال مکمل ہونے پر مختلف پروگرامز منعقد کیے گئے۔ جرمنی اور جنوبی کوریا میں بی ایس او آزاد کے کارکنوں نے عوامی مقامات پر آگاہی مہم چلائی جبکہ آسٹریلیا میں بی این ایم اور اور بی ایس او آزاد کے کارکنوں نے مشترکہ طور پر مظاہرے کیے ۔ کراچی پریس کلب میں اس حوالے سے بی ایس او آزاد نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ایشین ہیومین رائٹس کمیشن اور دیگر عالمی اداروں سے زاہد بلوچ کی بازیابی میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بی ایس او آزاد کی جدوجہد سیاسی اور جمہوری بنیادوں پر ہورہی ہے۔ بی ایس او آزاد پر پابندی اور سینکڑوں کارکنوں کی شہادت تنظیم کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ہماری جدوجہد عالمی قوانین کے عین مطابق ہے، اس لئے فورسز بی ایس او آزاد پر پابندی، لیڈران کی ٹارگٹ کلنگ اور اغواء کو جواز فراہم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ زاہد بلوچ سمیت بی ایس او آزاد کے کئی کارکن سالوں سے فورسز کی عقوبت خانوں میں بند ہیں، پچھلے 10سالوں کے دوران بی ایس او آزاد کے سینکڑوں لیڈران سیاسی وابستگی کی بناء پر فورسز کے ہاتھوں اغواء کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں۔ زاکر مجید، شبیر بلوچ، عمران، مشتاق، آصف سمیت تمام لاپتہ کارکن سیاسی جدوجہد کررہے تھے، ان کی گمشدگی اقوام متحدہ سمیت سیاسی و قومی حقوق کے محافظ عالمی ادارو ں کے لئے پاکستان کی طرف سے ایک چیلنج ہے۔بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ زاہد بلوچ کی بازیابی کے لئے جاری لطیف جوہر بلوچ کی تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کو ایشین ہیومین رائٹس کمیشن کی یقین دہانی پر ختم کردیا۔ لیکن تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کمیشن اپنی وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرسکا ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرکے زاہد بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف آواز اٹھائے تاکہ زمہ دار ادارے پر ہمارا بھروسہ قائم رہے۔ اس پریس کانفرنس کے دوران بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے تنظیم کے شہید اور لاپتہ کارکنوں کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی ایس او آزاد کے لاپتہ کارکنوں سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سول سوسائٹی اور انسان حقوق کی تنظیمیں انسانی بنیادوں پر آواز اٹھائیں کیوں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ انسانی بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور جرمنی میں بھی بی ایس او آزاد کے کارکنوں نے عوامی مقامات پر پمفلٹ اور مکالمے کے ذریعے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی۔چیئرمین زاہد بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف لندن میں بی این ایم اور بی ایس او آزاد مشترکہ مظاہرہ کریں گے جبکہ کینیڈا میں چیئرپرسن کریمہ بلوچ زاہد بلوچ کی اغواء کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز