ہمگام رپورٹ:مقبوضہ بلوچستان کے علاقے جو کہ اس وقت ایران کے قبضے میں ہیں مقبوضہ مغربی بلوچستان میں ایرانی فورسز اور بلوچ سرمچاروں کے درمیان ایک لڑائی میں ایران کے پاسداران انقلاب کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے بین الاقوامی خبر رسا اداروں کے مطابق یہ جھڑپ مقبوضہ مغربی بلوچستان کے علاقے سراوان میں پیش آیا ،
یاد رہے کہ ایران بلوچستان کے بڑا حصہ پر 1928ء کوقبضہ کیا تھا جو کہ تاحال قابض ہیں اور مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قوم پر ہر طرح ظلم و جبر تشدد کیا جا رہا ہیں بلوچوں کو جبراََاغواء سے لیکر ایرانی ملا ملٹری کی بلوچوں کی پھانسیوں تک یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بلوچ قوم اس وقت سے لیکر آج تک قابض ایران کے خلاف اس ناجائز قبضے کو چھڑانے کے لئے کئی جنگیں لڑ چکے ہیں اور یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ موجودہ جھڑپ ان بلوچ مسلح افراد کی جانب سے جوکہ مغربی مقبوضہ بلوچستان کو ایران سے آزاد کرنے کے لئے آزادی کی جنگیں لڑ رہی ہیں ۔
ایران کے اسلامی نام نہاد انقلاب کے بعد تو بلوچوں پر ایرانی ملا رجیم نے عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے سینکڑوں بلوچوں کو سر عام پھانسیاں دی گئی ہیں ایرانی حکومت اور خفیہ ادارے بلوچ اور ایرانی فوج کے درمیان بلوچوں کی اس جنگ کو تو مذہبی رنگ دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کیونکہ دنیا کے دیگر جمہوری و مذہب ممالک و اقوام اس جنگ کو مذہبی جنگ سمجھ کر بلوچوں پر دھان نہ دیں اس لیئے ایرانی سرکار کی کوشش رہی ہے کہ بلوچوں کو سنی عقیدہ کے طور طریقوں میں الجھا کر اسے آزادی کی نہیں مذہبی رنگ میں رنگ دیا جائے کیونکہ بلوچ سنی ہیں اور ایرانی سرکار کی کوشش جو ہے وہ شعیہ ہے لیکن در اصل بات یہ ہے کہ یہ شعیہ سنی یا کسی فرقے کا جنگ نہیں بلکہ یہ بلوچوں کے قومی بقاء کی جنگ ہے اسی لئے بلوچ آزادی پسند ایرانی اس سازش کو ناکام کرنے کے لئے ہمہ وقت اٹھ کھڑے ہیں ،
دوسری جانب یہ بات دیہان میں رہے کہ اگر ایران اور بلوچوں کی جنگی تاریخوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ایران بلوچوں کا تاریخی دشمن رہا ہے تاریخ میں بلوچوں نے ایرانی حکمرانوں ،شہنشاہوں اور باشاہوں ظلم کے خلاف سینکڑوں جنگ لڑ کر اپنے دھرتی کا دفاع کیا ہے،ایک اور جو کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ سالوں میں مالک ریکی کو پھانسی دے کر سوچ لیا تھا اب بلوچ خاموش ہوگئے (مالک ریکی ایک بلوچ مسلح تنظیم کا سربراہ تھا جو ایرانی فوج اور حکومت کے خلاف لڑتا تھا اسے پاکستانی سرکار کی مدد کے ذریعے گرفتار کرکے ایران نے پھانسی دی تھی )لیکن اور اسکی ملا فورسز کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلوچ اپنی وطن کی حفاظت کے آپ سے صدیوں سے لڑ رہے ہیں وہ کیسے مالک ریکی کو پھانسی کے بعد خاموش رہے گے :


