فن لینڈ نے اپنے صد سالہ یوم آزادی کی مناسبت سے جاری ہونے والے یادگاری سکے پر سمندر میں ڈوب کر شہید ہونے والے ننھنے شامی ایلان کردی کی وہ تصویر شائع کی ہے جس میں ترکی فوجی ننھنے فرشتے نعش ہاتھوں میں اٹھائے نظر آ رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایلان کردی کی لاش 2015 کو ترکی کے ایک ساحل پر ملی تھی۔ ایلان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شام میں جاری خانہ جنگی کے ہاتھوں تنگ آ کر یورپ پناہ کی تلاش میں سمندر کے راستے محو سفر تھا۔
ترکی سے نشریات پیش کرنے والے ‘NTV’ کے مطابق ننھنے ایلان اور ترکی فوجی کی تصویر کو فن لینڈ کے یادگاری سکے پر شائع کرنے کا مقصد انسانی حقوق کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

یہاں اس امر کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ شامی لڑکا ایلان الکردی ترکی علاقے بودروم میں 2 ستمبر 2015 کو سمندر میں ڈوب کر شہید ہوا۔ یورپ ہجرت کا خواب آنکھوں میں سمائے سمندری سفر کرنے والا خاندان کا صرف ایک فرد یعنی ایلان کا والد ہی بے رحم سمندری موجوں کے تھپیڑوں سے محفوظ رہ سکا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ایلان کردی کی ساحل سمندر پر پڑی لاش کی تصاویر شائع ہونے پر عالمی سطح پر وسیع پیمانے کا ردعمل دیکھنے میں آیا جس میں شامی جنگ سے جان بچانے کی خاطر یورپ جانے کے خواہش مند مہاجرین سے اظہار یکجہتی کیا جاتا رہا ہے۔


