کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی کاروائیوں کو نسل کشی کی پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا مکران کے علاقے تمپ میں گزشتہ چند دنوں سے فورسز کی بربریت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پل آباد اور ملانٹ سے فورسز نے تین دنوں کے دوران برکت بلوچ،زاہد بلوچ سمیت متعدد افراد کے گھروں کو جلانے اور بلڈوز کرنے ساتھ ساتھ دودرجن سے زائد افراد کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں پر ریاستی کا جبر کا سلسلہ بغیر کسی توقف کے جاری ہے۔ طاقت کے بے رحمانہ استعمال سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں خاندان نکل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ نکل مکانی کرنے والے خاندان ایران کے سرحدی علاقوں سمیت بیلہ اور حب چوکی میں رہائش پزیر ہیں۔گوادر کے قریبی کے علاقے دشت کی آبادی کا زیادہ تر حصہ اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ فورسز کے اہلکار لوگوں کو ڈر دھمکا کر علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ چند رو ز قبل مشکے میں بھی مساجد میں اعلانات کرکے متعدد خاندانوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ چند دنوں کے اندر ہی اپنے گھروں کو خالی کردیں۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں فورسز کو سرکاری سطح پر باقاعدہ یہ اختیار دیا جاچکا ہے کہ وہ بلوچستان میں کسی بھی شخص کو اغواء یا قتل کرسکتے ہیں اور عام لوگوں سے کسی بھی قسم کا رویہ اپنا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بلوچستان میں نہ لوگوں کا عزت نفس محفوظ ہے اور نہ ہی لوگ اپنی جان و مال کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا اس تمام صورت حال پر خو د کو شعوری طور لاعلم رکھ رہی ہے تاکہ بلوچستان کی اصل صورت حال مہذب ممالک اور داروں کی نظروں سے بدستور غائب رہے۔ بی ایس او آزاد نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فیکٹ فائنڈنگ مشن بلوچستان بھیج صورت حال کی حقائق کا جائزہ لے۔ اگر عالمی اداروں نے ریاستی بربریت روکنے میں اپنا کردار اب بھی ادا نہیں کیا تو بلوچستان میں ریاستی طاقت کا جارحانہ استعمال مزید ہزاروں لوگوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔


