کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے تنظیم کے سابقہ سیکرٹری جنرل رضا جہانگیر بلوچ اور امداد بجیر کی چوتھی برسی کے موقع پر اُن کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نوجوانوں نے ہمیشہ وطن اور قوم کی آزادی کے لئے مصلحت پسندی کا شکار ہوئے بغیر جدوجہد کا راستہ اپنایا۔رضا جہانگیر بلوچ کو بی این ایم کے رہنماء امداد بجیر کے ساتھ14اگست 2013کو اس وقت شہید کردیا گیا جب رضا جہانگیر تنظیمی سرگرمیوں کے سلسلے میں تربت میں امداد بجیر کے گھر میں موجود تھے۔ نوجوانوں کی بے لوث جدوجہد کی بدولت ہی طاقت ور حملہ آوروں کی حملوں اور سرزمین پر قبضے کے باوجود بلوچ قوم اب تک اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ برطانیوں، ایرانیوں اور دیگر حملہ آوروں کے خلاف مذاحمت کی طرح بلوچ عوام پاکستانی سامراج کے خلاف بھی جدوجہد کررہے ہیں۔ پاکستان نے بلوچ شناخت، زبان، زمین اور آبادی پر مسلسل حملے کیے ہیں لیکن بلوچ عوام کی وطن سے محبت اب تک پاکستان کی سازش کو مکمل کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ طاقت ور میڈیا اور فوج کے ذریعے پاکستانی ریاست بلوچ شناخت کو مٹانے اور وسائل لوٹنے کی سعی کررہا ہے۔ اگر نوجوان جدوجہد نہیں کرتے تو قبضہ گیر اور اس کے مقامی گماشتے کب کے بلوچی و براہوئی زبان، بلوچ ثقافت کو ختم اور آبادی کو اقلیت میں بدل چکے ہوتے۔ ترجمان نے کہا کہ عظیم جہدکار اور شہدا قوم کے محسن ہیں، جنہوں نے بغیر کسی لالچ کے اپنی نوجوانی اور زندگیاں قومی مستقبل پر قربان کردیں۔ رضا جہانگیر بلوچ بھی انہی لیڈروں میں سے ایک تھے جو جدوجہد اور عوام پر یقین رکھتے تھے۔ عام بلوچوں کی آزادی اور خوشحالی کا مقصد لئے رضا جہانگیر نے قومی تحریک کے لئے لازوال کردار ادا کردئیے۔ رضا جہانگیر جیسے انمول کرداروں کی زندگیوں سے نہ صرف بلوچ عوام مستفید ہوں گے، بلکہ قومی آزادی اور انسانی برابری کے لئے جدوجہد کرنے والے اقوام بھی استفادہ حاصل کرسکیں گے۔ بی ایس او آزاد نے رضا جہانگیر اور امداد بجیر سمیت تمام بلوچ شہدا کی ارمانوں کی تکمیل کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر ریاستی مظالم و جبر کے باوجود بی ایس او آزاد بلوچ عوام اور آزادی پسند پارٹیوں کے ساتھ مل کر شہدا کی ارمانوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچائے گی۔


