کراچی (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق اختر بلوچ ولد اکبر بلوچ کو پاکستانی رینجرز اہلکار گزشتہ ہفتے رات تین بجے لیاری کے علاقے میرا ناکہ گلی نمبر 7 میں واقع انکی رہائش گاہ سے جبری طور حراست میں لے کر اغوا کر کے لے گئے تھے۔ اختر بلوچ کو رینجرز اہلکاروں نے تین روز شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نیم مردہ حالت میں اسلحہ اور منشیات کے جھوٹے الزام میں بغدادی پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ اختر بلوچ کے خاندانی زرائع کے مطابق گزشتہ دنوں جب پولیس اختر کو عدالت میں پیشی کے لئیے مفلوج حالت میں لائے تو اہلخانہ نے جج سے ان کے فوری علاج و معالجے کے لئیے منت سماجت کی کہ اختر کو اسپتال منتقل کیا جائے، مگر جج نے ان کی درخواست رد کردی۔ پیشی کے بعد جب پولیس اختر بلوچ کو جیل منتقل کررہی تھی تو وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔انسانی حقوق اور بلوچ قوم دوست سیاسی و سماجی کارکن اس اہم انسانی مسئلے اور بلوچ قوم کے ساتھ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ریاستی سطح پر ہونے والے مظالم کو عالمی دنیا کو آگاہی دے تاکہ بلوچ قوم کو آئندہ ایسے غیر انسانی مظالم سے معفوظ رکھاجائے۔


