سب سے آخری بات کو سب سے پہلے ہی نمٹاتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچ قومی تحریک کی ہئیت، تکنیک اور موضوع خالص قومی آزادی ہے، ایک قوم اسکی سلب کی ہوئی آزادانہ حیثیت کی پھر سے حصول کی کوششیں اور اور ان کوششوں کے لیے لائحہ عمل کا مرتب کرنا جو حصول آزادی میں معاون و مددگار ثابت ہوں، لہٰذا اس کی اس خالص فطرت میں اگر آپ زبردستی کوئی اور شئے گھسیڑنے کی کوشش کروگے تو فطرتاً ایک مزاحمتی شکل ابھرے گا جو آج بلوچ قومی تحریک میں قبائلی و درمیانانہ طبقے کی لاحاصل، بے منطق، لغو اور بے بنیاد مباحثوں و وقت گزاریوں کے سامنے ایک مزاحم کی شکل میں موجود ہے یہ مزاحمت تحریک کے اپنے ہی فطری ڈھانچے سے ابھرتی ہوئی مظہر ہے جسے دیکھ اور محسوس کرکے ہمارے بہت سارے فاضل دوست گھبرائے ہوئے ہیں، بلوچ قومی تحریک کی بنیادی، مرکزی اور واحد ایجنڈا “آزادی” کے گرد گھومتی ہوئی اس جد و جہد میں بہت سارے دیگر ذیلی و ضمنی ایجنڈے ہوسکتے ہیں جنہیں ہم مسقبل کے ریاستی خدوخال کے وضاحت کی خاطر بیان کرتے یا ضبطِ تحریر میں لاتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت سند رہیں مگر یہ بات ہمیشہ زہن میں رہے کہ مرکز و محوری مدار محض آزادی کی حصول ہے، چاہے وہ کسی بھی حالت میں ملے مگر اسکی صحت، اسکی بنیادی تعارف اور قومی امنگوں سے اسکی سر مو انحراف نہ ہو، یعنی کامل قومی آزادی کا حصول اور ہی اس جد و جہد کا بنیادی مظہر اور ہئیت ہے، یہ کوئی لینن کی روسی تحریک نہیں جہاں آپ زار کو زارینہ سمیت اقتدار سے بے دخل کرکے اسے عوام کے سپرد کرنے کی بات کریں، نہ ہی یہ کیوبا ہے جہاں آپ کیوبن مگر امریکی حمایت یافتہ عوام پر جابر فلجنسیو بتستا کو مار بھگانے کی بات کریں، یہاں نہ کوئی زار و زارینہ ہے اور نہ ہی کوئی بتستا، یہاں مسئلہ خالص آزادی اور کامل قومی حق حاکمیت کی ہے اس تصویر میں نہ سردار کو حاکمیت حاصل ہے اور نہ ہی عوام کو، دونوں دشمن کے نگاہ میں اتنے ہی مجرم ہیں جتنا کہ کوئی اور قابل، کارآمد اور اثرپذیر جہد کار ہے، یعنی یہ عوام و خواص دونوں کا ہی تحریک ہے اور یہاں معتبر بن جانے کا بنیادی نقطہ فطری و متعارف کردہ قانون، اصول و ضوابط اور طریقہ کار کے بنیاد پر جد و جہد کی اصل بنیادوں سے جڑجانا ہے اور دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہونا ہے، اسکے علاوہ اگر تمام ذیلی و ضمنی ایجنڈوں کو مالا بناکر گلے میں لٹکاتے ہوئے جب بنیادی ایجنڈا “آزادی” کو کنارے لگا دیا جائے تو صورتحال پھر ایسی ہی ہوگی جو آج ہم بلوچوں کا ہے، جہاں جسے کوئی اختلاف ہو وہ ضمنی و ذیلی ایجنڈوں کا ہار گلے میں لٹکا کر نکل پڑے اور نعرہ لگاتا پھرے، مڈل کلاس و سردار کا، ہاری و زمیندار کا، منیشیات فروش و نشے کرنے والوں کا، مسائل کے تصفیہ کے نام پر خاندانوں کے معاملات میں الجھنے کا اور یا پھر قبائلی و عام سماج کا اسکے علاوہ اس پیکج میں کافی کچھ موجود ہے جس میں گالم گلوچ اور عزت سادات کے گریبانوں کو چاک کرتے طنز و تشنیع شامل ہیں، مگر بات سیدھی سی ہے قومی تحریک آزادی کے اس سفر میں ہم کسی سے اسکا سماجی و معاشی نظریات کا امتحان نہیں لیتے، چاہے وہ سرمایہ دارانہ طرز معیشت کا حامی ہو چاہے تو لبرل ازم و نیو لبرل ازم کا ہو یا پھر مارکسی نظریات کا حامی بن کر شوشلسٹ اکانومی کا خواہش کا اظہار کرے یہ اسکی شخصی صوابدید پر مبنی ہے جب تک وہ اسکو آزادی کی تحریک اور قوم کے مستقبل کے ساتھ بزور شمشیر نتھی کرنے کی کوشش نہ کرے، جیسا کہ ہم دیکھ رہے کہ کچھ لوگ ایسی ہوائی باتوں سے اپنی نظریاتی بھڑاس اتارنے کی کوششوں میں جتھے ہوئے ہیں، اسکے برعکس کسی بھی فرد کا اسکی سماجی و معاشی حیثیت اور مقام کے حساب سے مالدار، تمندار، سردار زادہ، ٹکری و میر ہونا یا کوئی بھی لاحقہ رکھنا قومی آزادی کے اس لشکر میں اسکے مقام و حیثیت کا تعین نہیں کریگا بلکہ اس شخص کے فطری و سیاسی رویوں کے اعتبار سے اسکے مقام کا تعین ہوجائے گا اگر وہ ان اعتبار سے جد و جہد کا ساتھ دے سکتا ہے تو پھر اسکا پیدائشی و فطری لاحقے بے معنی بن جاتے ہیں، اور نہ ہی آپ کسی بھی بلوچ کو اسکی ان لاحقہ و القابات کی وجہ سے تحریک سے جڑ جانے سے روک سکتے ہیں، بس ایک ہی لاحقہ ہوگا جو کسی بھی انسان کو کسی بھی تحریک کے ساتھ چلنے سے جبراً روک سکتا ہے وہ یہ کہ وہ انسان اس تحریک سے جڑے مفادات کی برخلاف دشمن کے ساتھ نہ چلتا ہو اور بس، آگے کامل آزادی ہے اور ہر انسان کی اپنی قابلیت، تندہی، فطری رجحانات اور سیاسی رویے انکی مقام کی تعین کرتے ہیں.
بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں جو طبقاتی چونا لگانے کا واویلا اور طوفان بدتمیزی شروع کر دیا گیا ہے اسکا براہ راست تعلق انتشار پسند زہنیت، ہٹ دھرم اور اخلاقیات سے عاری گروہ سے ہے جو ہر قیمت اور ہر حال میں بلوچ آزادی کی اس تحریک میں اپنی قباحت زدہ فرسودہ طرز کی من مانی کو بلوچ حقیقی قوتوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں بلوچ حقیقی قوتیں ہی قومی امنگوں کا ترجماں بن سکتی ہیں باقی چور دروازوں سے دبے پاؤں داخل ہونے والے لوگوں کا یہ واویلا بہت ہی زیادہ نقصان دہ صحیح مگر وقتی اور عارضی ہے، وقتی طور پر یہ لوگ اپنی جھوٹ، سیاسی بد اخلاقی و بے اصولی اور ہٹ دھرمی کو سرداریت کے لبادے، قبائلییت کے آڈ اور ڈکٹیٹرشپ جیسے لفظوں میں لپیٹ کر قوم کے سر تھوپنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، سرداریت و قبائلیت کی فطری و پیدائشی نسبت اگر کسی بلوچ کو قومی دھارے سے نکالتی تو سب سے پہلے بلوچ جدید نیشنلزم کے بانی مانے جانے والے یوسف عزیز مگسی کو بلوچیت کے دھارے و دائرے سے باہر نکالیں، یوسف عزیز مگسی، مگسی قبیلے کے سردار زادے اور جدید بلوچ قوم پرستی کے بانی مبانی قرار پائے، اسکو اسکی نسبت اور لاحقے سے، جو اسے پیدائشی بنیادوں پر ملے ہوئے تھے، کسی نے نہ جوڑا نہ جوڑنے کی کوششیں کی اور نہ آج تک کوئی اس کے حوالے کوئی ایسی بات کرنے کا سوچ رہا ہو، گو کہ وہ بھی قبائلی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ایک سردار کے فرزند ہونے کے ناتے وہ سردار زادہ بھی تھے آج بھی لوگ اسے جب جب یاد کرتے ہیں تو اسکے نام کے ساتھ بہ لحاظ احترام آگے اور پیچھے دونوں لاحقوں کو بلا خوف استرداد و تردد استعمال کرتے ہیں، وہ حقیقت میں سردار تھے مگر فطرتاً نہیں تھے، وہ پیدائشی قبائلی تھے مگر عملاً پوری زندگی اسکے برخلاف کام کرتے رہے سو قوم کے نگاہوں میں تا ابد معتبر ٹہرے، پس اس سے یہ ثابت تو ہوجاتا ہے کہ رویے و رجحانات کسی انسان کے کردار کا فیصلہ کرتے ہیں نہ کہ پیدائشی نسبت و لاحقے، یوسف عزیز مگسی کا ایک مشہور قول کا غالبا ملغوبہ یہ ہے کہ ” اب ان سرداروں کے سدھرنے کا کوئی امید نہیں” چونکہ وہ اپنے کردار و گفتار کی حقانیت کے وجہ سے جانے جاتے ہیں اور انہی بنیادوں پر معتبر ٹہرے ہیں تو کم از کم اسکی ان باتوں کا اپنے اوپر اطلاق اتنا ہی ہونا لازم بنتا تھا جتنا کہ دوسرے کسی شخص کے اوپر، اور وہ اس حقانیت کے حوالے اپنی کردار و گفتار دونوں بنیادوں پر کھرے اترے، سو یہاں سے بات نکلتی ہے کہ وہ اپنی سردار زادگی و قبائلی ہونے سے کیا انکاری تھے، کیا وہ اپنی پیدائش یا خاندانی نسبتوں کو نہیں مانتے تھے، نہیں، نہ وہ انکاری تھے اور نہ ہی وہ ان نسبتوں سے خار کھاتے تھے، بلکہ وہ ان تمام خونی و خاندانی نسبتوں کے باوجود اپنے کردار و عمل نفسیات و کیفیات کو ان راہوں سے نکال چکے تھے جن راہوں پر کھٹر قبائلی اور بوسیدہ سرداری سسٹم کے نفسیات پر سوچنے والے لوگ چلتے ہیں، یہی انکی کامیابی تھی، خاندانی نسبتوں کو بنیاد بنا کر باتیں اچھالنا سیاسی کم ظرفی ہے سیاسی میدان میں اور تحریکی راہوں میں رویے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، چاہے غریب ہو کہ امیر، سردار زادہ ہوکہ چرواہا اپنی سیاسی رویوں اور اقدار سے ہی معتبر ٹہرتا ہے.
یوسف عزیز مگسی کے علاوہ بلوچ مزاحمتی جنگ کے سب سے پہلے مینارے کے طور تاریخی حوالوں سے خان محراب خان کو یاد کیا جاتا ہے، وہ تو شکر ہے کے ہم حضرت نوح علیہ السلام کی طرح ہزار سالہ جیون سے بہرہ ور نہیں ہوئے وگرنہ آج کے یہ نام نہاد مڈل کلاسی دھن میں مست لوگ اگر اس وقت خان محراب خان کے ساتھ مزاحمت میں شامل ہوتے تو یقیناً آج یہ کہتے ہوئے پائے جاتے کہ ” ہم نے اسی سرداریت و شخصی کنٹرول کی وجہ سے اٹھارہ سو انتالیس میں فکری حوالے سے اپنی راہیں خان محراب خان سے جدا کی تھیں” کیا پھدی اور کیا پھدی کا شوربہ، آج کے یہ مڈل کلاسی دریدہ دہن کس منہ سے اپنی ماضی کو دھتکاریں گے، اپنی کونسی جھوٹ کو پردے کے پیچھے چھپائیں گے، کچھ فکر کرو تو تصویر صاف ہوکر سامنے آجائیگی، آخر اتنی جھوٹ کیونکر بولی جارہی ہے، اس جھوٹ کا فائدہ کس کو ہے اور اس فائدے کا معیار یا حجم شخصی یا گروہی حساب سے کیا ہے، محض اپنی انا کی خاطر اصولوں و آدرشوں کی قربان گاہ میں بڑی بے دردی سے بھلی چڑھائی جارہی ہے، کون کون سے جھوٹ کو ثابت کرنا پڑے گا ہر جھوٹ کا پلندہ اپنے پیچھے ہزار ہا نقش و نشان چھوڑ چکا ہے، میر محراب خان خالص سردار، خالص قبائلی اور ایک قبیلے کے سردار تاریخی موقع سے مفرور نہیں ہوئے، اپنی قومی زمہ داریوں سے انحراف نہیں کیا، انگریز کے لاؤ لشکر سے تادم شہادت جوان مردی سے لڑتے ہوئے امر ہوگئے اور بلوچ اجتماعی مفادات کی نگہبانی کے مینارے کے طور پر تاریخ کا حصہ بن گئے، کردار ہی نے اسکو امر کردیا وگر نہ اس وقت کتنے سردار تھے جو انگریزی راج پر براجمان حکمرانوں کی بھگیاں کھینچتے تھے، ایسے کتنے سردار، تمندار، میر، نواب، ٹکری، زئی و ٹک تھے جو انگریز سرکار کی امان میں جاکر جان کی امان پا گئے اور تاریخ کے ہاتھوں گمنامی کے اندھیروں میں رخصت ہوئے، وہ سب لوگ محض وقتی مفادات کی خاطر بلوچ اجتماعی قوت کے سامنے دیوار بن گئے اور بلوچ قوم کو غلامی کے طویل سیاہ رات کے سپرد کر گئے، اگر چہ اس وقت کے انگریزی حکمرانوں کے کاسہ لیس مڈل کلاس و سرداریت و قبائلی کا راگ نہیں الاپتے تھے کم از کم وہ بہت ساری ایسی کرداروں کے ساتھ سامنے آئے تھے کہ جن سے بلوچ اجتماعی قوت کو گزند پہنچ گیا، آج بھی معاملہ مختلف نہیں بس توصیف و تصریح میں فرق ہے، یہ تحریک کو من و تو میں بانٹنے والے کیا ان سے کم ہیں، ہر گز نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی اس تحریک میں سب آزادی چاہنے والے، باکردار، بااصول، اجتماعی مفادات کے تابعدار اور وضع کردہ طریقہ کار پر چلنے والے لوگوں کو ساتھ لیکر چلنا ہی بنیاد ہے کیونکہ یہ اجتماعی مفادات (یعنی آزادی) کی حصول کے لیے کی جانے والی جد و جہد ہے.
ویسے تو ایسے بہت سارے گمنام سپاہی ہیں جو ان تمام بلوچ سماجی و معاشی ناہمواریوں و جبر کے باوجود اپنی کردار و عمل کے تحت بلوچ آزادی کی تحریک میں انفرادی طور پر خالص جہد کار ہوکر اپنی حیثیت منواتے رہے ہیں اور ہنوز ایسے کئی لوگ ہونگے جو آج بھی بر سرِ پیکار ہیں، کوئی طمع کوئی لالچ کوئی عنوان یا نام و نسب و لاحقہ انکے راہ میں دیوار نہیں بن سکتی وہیں حالیہ تحریک میں ایک اور نمایاں نام میر بالاچ مری ہیں جو دوران مزاحمت نہ صرف نام و نسب سے سردار زادہ و قبائلی سرخیل تھے بلکہ وہ پاکستانی بند و بست کے اندر موجود پارلیمنٹ کے رکن بھی تھے، آج کے ان قلابازیاں کھانے والے مڈل کلاسی راگ الاپتے سیاسی شعبدہ بازوں سے صرف ایک سوال ہے کہ کیا وہ بالاچ مری کی دوران مزاحمت پارلیمنٹ کے رکن رہنے کی حقیقت پر کیا ویسے ہی سوال اٹھا سکیں گے جس طرح وہ انکے بھائی چنگیز مری سمیت دیگر کے قومی تحریک حوالے کردار کے بابت اٹھاتے ہیں؟ پہلے تو یہ گمان گزرنا بھی محال تھا سوال اٹھانا تو خیر اپنی جگہ لیکن اب ہو سکتا ہے کہ کوئی مڈل کلاسی خود نما کمانڈر اٹھ کر کہہ دے کہ ” ہم نے فکری حوالے سے دو ہزار چھ کو ہی بالاچ مری سے اپنی راہیں جدا کی تھیں” جس طرح وہ نواب خیربخش مری کے حوالے بعد از مرگ ننگی دروغ گوئی پر اتر آئے ہیں،مگر اب یہ آسان نہیں، قوم کو اتنی جھوٹ ہضم نہیں ہوسکتی، ہونگیں کچھ چیلے کچھ چمچے چپاٹے وہ سر ہلاتے ہونگے مگر قوم اس دروغ گوئی کے واضح حوالوں کو کبھی قبول نہیں کریگی، جوش اترنے دو ہوش کو غالب آنے دو پھر دیکھیں گے کہ اپنے دروغ گوئیوں کی قلعی یہ لوگ از خود کس طرح کھولیں گے.
خان محراب خان، یوسف عزیز مگسی اور بالاچ مری کے حوالے سے اگر ہمارا یقین اس لئیے پختہ تھا کہ وہ جہاں سے بھی نسبت رکھتے ہوں مگر وہ اپنی کردار کی پختگی اور عزم کی مضبوطی کی وجہ سے اپنے لئے قوم کے سامنے اپنی حیثیت منوا چکے ہیں تو آج بھی کلیہ تبدیل نہیں بلکہ کلیہ آج بھی وہی ہے، عمل ہی بنیاد ہے اور کردار کی پجتگی ہی کسوٹی ہے تو پھر آج کیوں طبقاتی بنیادوں پر قوم کو تقسیم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، تو اسکا جواب انہی کے اعمال و کردار میں مخفی مگر عیاں ہے، چلیں کچھ ماضی کے جھروکوں سے دیکھتے ہیں، بی ایل اے کے “معطل شدہ” کمانڈر اسلم بلوچ اپنے کالم “مری قبیلے کے سربراہ کا چناوٗ زمینی حقائق اور حقیقی پہلو” میں لکھتے ہیں کہ “پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف مری قبیلے نے اپنے مزاحمتی کردار کو لیکر تمام جنگی احساست کے باوجود اپنے بیچوں بیچ لندن گروپ اور استاد واحد قمبر اور میر عبدالنبی بنگلزئی کے لیے قیادت کے حد تک مواقع فراہم کیے یہ ایسے اقدامات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ شروع سے ان میں قومیت اور اجتماعیت کا نہ صرف تصور موجود تھا بلکہ اس کیلئے عملا راہ ہموار اور مواقع بھی فراہم کیے اور موجودہ مزاحمتی لہر میں اس کی وسعت اور جدت بی ایل اے کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور باقی آزادی پسند قوتوں کے تشکیل و تکمیل میں مثبت کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور بلوچوں کی خوش قسمتی مری مزاحمتی مرکز شروع دن سے لیکر آج تک بلوچوں کے اجتماعی مفادات کی راہ میں کسی بھی مقام پر رکاوٹ نہیں بنی” یہ ماضی کی گزارشات ہیں جب پسند و ناپسند کے چرچے عام نہ تھے، مگر یہ طبقاتی بنیاد پر قوم کو بانٹنے کا عمل کہاں سے شروع ہوا اور اس وقت ان صاحب کو یہ لکھنے کی نوبت کیوں پیش آئی تو وہ بات بھی سبھی کو معلوم ہے اور اس وقت جب کرشماتی و اداروں کے حامل وژنری لیڈر اور اسکے کے ماتحت لوگ درمیانی طبقے کی بے وقت راگنی گارہے تھے تو آج کے منحرف و اصولوں سے بھاگی ہوئی ٹولی ان کی اس عمل پر کھلم کھلا تنقید کے تیر داغ رہی تھی، اس بے بنیاد وسوسے و اندیشے کے خلاف دلائل دئیے جارہے تھے کہ قبائلی لوگ اور سردار بلوچ تحریک کے دوست نہیں یا انکی الگ مفادات ہیں اور وہ کسی بھی وقت بلوچ مفادات کو پس پشت ڈال کر دشمن سے ہم پیالہ و نوالہ بن جائیں گی اس ضمن میں وہ ایک ہی شخص کو ہدف بنائے ہوئے تھے، اور انکی اس عمل کی حوصلہ شکنی کھلے بندوں کوئی اور نہیں بلکہ آج کے انکے اپنے مبینہ و نام نہاد اتحادی کررہے تھے، مگر آج وہ خود انہی کے ساتھ مل کر پھر سے طبقاتی و قبائلی کے نام پر قوم کے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب آپ لوگوں کی عملی صداقت و کرداری معتبریت کہاں ہے، آپ کل کی اپنی ہی باتوں پر دوبارہ واپس مڑکے جارہے ہیں، اپنے ہی لفظوں کو روندھ کر قوم کو بیوقوف بنانے کی سعی سے کیا حاصل، آپ لوگ جس راستے سے جارہے ہیں اسی راستے پر آپ کے ماضی کے کہے اور لکھے ہوئے الفاظ جلی حروف میں نقش آپکے قدموں تلے آکر چیختے چلاتے آپکی جھوٹ کی گواہی دے رہے ہیں، یہ طبقاتی و قبائلی کا گھناؤنہ کھیل جتنی جلد بند ہو قوم کا اتنا ہی فائدہ ہے، اور اسکو انگیخت کرنے اور اس طبقاتی بے بنیاد آگ کو بھڑکانے والے لوگوں کی قوم کے ہاتھوں سیاسی درگت اور بے بسی کی تصویر مستقبل کے نوشتہ دیوار ہے اگر کوئی پڑھ رہا ہو تو اسکا بھلا.















