(ہمگام ویب نیوز) سعودی معاشرہ جو کہ قدامت پسند و رجعت پسندی میں ایک خاص پہچان رکھتی ہے ۔ گذشتہ 35 سالوں سے سنیما گھروں پر پابندی تھی اور پوری ریاست میں کئی دہائیوں میں کھلنے والا یہ پہلا سنیما گھر ہوگا۔دنیا میں سنیما گھروں کی سب سے بڑی کمپنی AMC نے اعلان کیا ہے . کہ اس ماہ کی 18 تاریخ کو وہ سعودی عرب میں اپنا پہلا سنیما گھر کھولے گی۔Amc کی کمپنی اس وقت تک دنیا میں قریبا 1000 کے قریب سینما گھر چلارہی ییں۔اس سوال پر کہ کیا سینما گھروں میں خواتین کو جانے کی اجازت ہوگی یا ان کے علیحدہ سیٹوں کا تعین کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہیں.اسی حوالے سے سعودی وزارتِ اطلاعات اور ثقافت نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔کمپنی کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں ملک کے پندرہ شہروں میں 30 سے 40 سنیما گھر کھولے جائیں گے جبکہ سنہ 2030 تک ان کی تعداد 100 تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔گذشتہ برس سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد تھی۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تھی تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔سعودی عرب میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ نوجوان روشن خیال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ سعودیز کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ان کے ان کاوشوں کو دنیا کےترقی یافتہ ممالک g8 نے بھی سراہا۔


