ہمگام نیوز کالم
مان لو مارکیٹ میں بہت سارے دوکانوں کے بیچ آپکا بھی ایک دکان ہے، مگر آپکے بغل میں جو دکان ہے اگر اس پر قدرے زیادہ بھیڑ ہو، گاہکوں کی آمد و رفت ہو، تو یقینا ایک لمحے کو آپکا بھی یہی سوچ ہوگا کہ ” کاش ” میری دوکان پر بھی ایسے ہی گاہکوں کی بھیڑ لگی ہوتی، اگر آپکا بیٹا اسکول میں پڑھتا ہے اور وہ دوسرے بچوں کے نسبت کم نمبر لاتا رہے تو یقینا آپ یہ سوچتے ہونگے کہ ” کاش ” میرا بیٹا بھی ایسے ہی اچھے دل موہنے والے نمبروں سے پا س ہوجاتا، اگر اپنے علاقے میں گزرتے ہوئے کسی نکڑ پر آپ اپنے بچوں کی اسکول سے قدرے بہتر اسکول دیکھیں تو کوئی بعید نہیں کہ آپ کے دل میں یہ بات آجائے کہ ” کاش ” میرے بچے بھی ایسی ہی کسی اسکول میں پڑھتے، اگر کہیں کسی پرانے دوست کے ہاں برسوں بعد جانے کا اتفاق ہو اور اسکے عالی شان گھر کو دیکھ کر یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ یہ نہ سوچتے ہوں کہ” کاش ” اپنا بھی ایسا ایک ارمانوں کا محل ہوتا، کبھی آپ کسی ایسے بندے سے ملیں جو غلامی کا پختہ شعور رکھتا ہو تو اس سے یہ امید رکھنا بالکل بے جا نہ ہوگا کہ وہ آپ سے کہہ اٹھے کہ ” کاش ” ہم آزاد ہوتے، منظور پشتین کا پشاور جلسے میں ولولہ انگیز خطاب دیکھا تو دل بول اٹھا کہ ” کاش “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم قومی بنیادوں پر متحد ہوتے، ایک قوت بن کر ابھرتے، منظم انداز میں تشکیل پاتے، انا کو قربان گاہ میں لے جاکر اسکی بھلی چڑھاتے، اور آج منظور پشتین کی للکار سے محظوظ ہوئے بنا بڑے مان سے یہ سمجھتے کہ ” ہمارے جسے جگر رکھتے تو مان لیتے، ” ائے کاش ” کی ایسا ہوتا، اک حسرت سی رہ جاتی ہے دل میں اور پھر حقیقت مہیب سا شکل بناکر سامنے کھڑی دہائی دے رہی ہوتی ہے کہ ہم مشعل راہ کیا بنتے، ہم دوسروں کی جذبات کیا ابھارتے اتنی قربانیاں دینے کے بعد جب پشتون تحفظ مومنٹ کی یکسوئی، پختگی، منظم انداز، قومی پرتوں کو جوڑنے اور خاص کر اپنی بات پر نہ صرف ڈٹے رہنے بلکہ اپنے بنیادی موقف کو کسی اور جذبات، احساسات، موضوعی و شخصی ضد و خنص کا شکار نہ ہونے دینے کی جو پختگی اس کم عرصے میں اس کمسن تحریک نے دکھائی ہے وہ ہمارے لیئے واقعی قابل رشک و باعث ندامت ہے، کیونکہ ہم محروم ہیں، ہم بحیثیت قوم قربان گاہ میں قتل ہوتے ہوئے بھی حسرتوں کی تصویر بنے ہوئے ہیں، آج لہو کی موسلادھار پھوار سے لہلہاتے اس لالا زار سروں کی کھیت میں ہمیں فخر کے سایے میں ہونا چاہئیے تھا مگر ہم ” فقر ” کے سایے میں محرومیوں اور حسرتوں کی تصویر بنے ہوئے ندامت سی محسوس کررہے ہیں ، اپنے گزشتہ کالم میں میں نے لکھا تھا کہ پشتونوں کا سفر لمبا ہے اور تھکان و مشکلات کا بھرپور آئینہ دار ہے، کل کو کیا سے کیا ہوجائے گا بتا نہیں سکتے، لیکن لمحہ موجود میں جوکچھ جس طرح کیا جارہا ہے وہ غضب ہے، ہم کن بلند پروازوں سے پھسل کر کن تاریک پاتالوں میں جا گرے ہیں وہ رونے اور سر پیٹنے کا مقام ہے،بلوچ قومی تحریک میں ان گنت سروں کی کٹائی میں جو تحریکی فصل بوئی گئی تھی اب اسکو ندامت کے آنسو بھی سیراب کرنے کو بمشکل میسر آرہے ہیں، پشتون اپنے لوگوں کو جوڑ رہے ہیں، اور ہم جوڑتے جوڑتے اب اپنی لوگوں کو بڑی سرعت کے ساتھ کھورہے ہیں، یہ شاید انا سے زیادہ بے اصولی کا مسئلہ ہے، اور اصولوں کی پاسداری میں انا بار بار آڑے آتی جارہی ہے، ہم لوگوں کو شاید طبعی حوالے سے نہیں کھورہے ہیں لیکن انکی نفسیات، حمایت، انکی گرمجوشی ہم بڑی تیزی سے کھوئے جارہے ہیں، یہ تلخ گھونٹ ہم کو پینا پڑے گا اور یہ کہنا پڑے گا کہ اب لوگوں کی امیدوں کا محور ہم نہیں رہے، ” کاش ” کہ ایسا نہ ہوتا، لیکن ایسا ہوا ہے اور کئی بار ہوا ہے، پے در پے ہوا ہے، دن دھاڑے اور بڑی سینہ زوری و ڈھٹائی سے ہوا ہے بلوچ قومی تحریک کے ساتھ یہ شب خون مارا گیا ہے، قربانیوں کے امین مانے جانے والے لوگ خود قربانیوں کی مقتل میں ڈاکہ ڈالتے اور فخریہ سینہ تانے ہوئے بلوچ قومی بیچارگی کے خون آشام منظر سے محظوظ ہورہے ہیں، ” کاش ” کہ یہ دن دیکھنے نہ پڑتے، لیکن پھر سوچتا ہوں کہ اس ” کاش ” کی کہانی کیا ہے، یہ ” کاش ” ہے کیا اور یہ انسانی تخیل میں تخلیق کیونکر ہوتی پے، ویسے تو اردو میں ” کاش ” کی دیگر مترادفات میں تمنا، حسرت، آرزو، خواہش، طلب وغیرہ شامل ہیں، ” کاش ” کی کہانی یہ ہے کہ آپ کونسی شئے کی سب سے زیادہ چاؤ رکھتے ہیں، آپ کس چیز سے حقیقی انداز میں پیار کرتے ہیں، اپنے اولاد سے، اپنے گھروالوں سے، اپنے علاقے سے، اپنی مال و دولت، دوکان یا کارخانے سے، اپنے آپ سے، اپنی اقدار، رویات، زبان اور تہذیب سے، انسانیت سے، یا پھر اپنی وطن سے، آپ جس سے بھی محبت کریں وہ آپکی مرضی مگر یہ آفاقی حقیقت ہمیشہ موجود رہیگی کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں یا اسکا خیال رکھتے ہیں تو اسکے لئیے بہت کچھ کرنے بالفاظ دیگر اپنی بساط سے بڑھ کر کچھ کر گزرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں، انہی بہت سارے ارادوں میں کئی ایک ارادے انسانی نارسائی، نا دست رسی، مجبوریوں اور کم وسیلتی کی نظر ہوجاتی ہیں، جنہیں پھر ہم ایک موہوم سی حسرت کے ساتھ ہمیشہ بیان کیئے دیتے ہیں، کہ ” کاش ” یہ ہوتا اور ” کاش ” وہ ہوتا، یہ ” کاش ” انہی نا رسائیوں اور محرومیوں کی کہانی ہے، ” کاش ” حسرتوں کا نمائندہ ہے اور حسرتیں ہمیشہ لاحاصل و غیر موجود کے بارے میں ہوتی ہیں، جو چیز موجود ہے یا حاصل کیا جاچکا ہے اسکے لیئے اسکی حسرت نہیں رہتی، ہم کہتے ہیں کہ کاش ہمارا اپنا ایک آزاد و خود مختار ملک ہوتا، جو کہ نہیں ہے، ایک آزاد وطن کے دیش واسی کبھی ایسا نہیں کہتے کیونکہ وہ پہلے ہی سے آزاد ہیں، ہمیں آزاد ہوجانے کی ایک آرزو ہے، ہم کہتے ہیں ” کاش ” پمارے پیارے بھائی بہن بچے بزرگ جو ریاستی عقوبت خانوں میں مرگ و زیست کے کشمکش میں ہیں وہ چلتے چلے آتے، لیکن ایسا ہو نہیں پارہا، انہی حسرتوں و نارسائیوں کو سچ کرنے کی ایک جد و جہد ہے جسے آج کس بے دردی سے مسخ کیا جا چکا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اس ڈگر کو بدلنے کے لیئے ” کاش ” یا تمنا و آرزو کا کوئی علاقہ نہیں، پریکٹیکل ہونا پڑیگا اور لاحاصل کو پانے کے لیئے حسرت و تمنا کی نہیں بلکہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے اور عمل وہ جو نتائج کی ساتھ نتھی ہو، زبانی کلامی و اخباری سطح تک تو ہم بہت کرچکے ہیں، آذادی بھی لی ہے، گمشدہ لوگ بھی بازیاب کروائے ہیں، دشمن کی کمر بھی توڑ دی ہے، لیکن اخباری سرخیوں تک۔
آئے روز دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ بلوچ قومی متحدہ محاز کی باتیں دہراتے رہتے ہیں، میں بھی ایک دن سوچوں کی روانی میں بہتا ہوا اسی اتحاد کی ساحل پہ آن پہنچا، دل نے یکا یک کہہ دیا کہ “” کاش ” ہم بھی متحد ہوتے، ہم پیالہ و ہم نوالہ ہوتے، ایک ساتھ مل کر دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیتے، لیکن پھر سوچا کہ کیا حسرتیں دل میں لے کر، تمناؤں کی اس بھیڑ میں کوئی حقیقی نتیجہ نکل بھی سکتا ہے، آیا ہمارے کہنے یا تمنا کرنے سے کوئی چیز ” کن فی یکون ” کے مانند اپنے آپ تخلیق ہوپائے گا، کیا یہ جد و جہد تصور و تخیلات پر بھروسہ مند ہے یا پھر آہن و آتش کی بارش میں ہر لمحہ عمل اور نتائج کی بارآوری پر ٹکی ہوئی ہے، اتحاد کہ جہاں زہنی ہم آہنگی، فیصلوں کا معیار، نتائج پر مسقبل کے فیصلوں کا انحصار، نیک نیتی، سیاسی سوجھ بوجھ اور باصولی لازم و ایک دوسرے پر موقوف ہوں کیا کوئی ایسی چیز صرف تمنا کرنے یا حسرتوں کی ٹھنڈی آہیں بھرنے سے ممکن ہو سکتا ہے، پھر خیال آیا کہ ایسا آج کی دنیا میں ممکن نہیں، کیونکہ بہتیرے تجزیہ کاروں اور محققوں کے نزدیک یہ ایک تصوراتی و تخیلاتی سوچ ہے اور بس، اسکا عملی شکل میں سامنے آنا نا ممکنات میں سے ہے، گو کہ ہم پر امید ہیں کہ بلوچ کم سے کم نکات کو لے کر ایک دن اپنی متحدہ محاذ کی تشکیل میں ضرور سرخرو ہوگی، لیکن اس کے لیئے زمینی حالات کا موافق ہونا بھی لازمی امر ہے، وہ ناموافق نامساعد حالات کے جن کے ہوتے ماضی کی اتحادوں کا شیرازہ بکھر گیا تھا اگر اب بھی موجود ہوں تو اتحاد کا رٹ لگانے سے ہم کبھی متحد نہیں ہوسکتے، اور یہی زمینی حالات کی موافقیت ہی وہ نقطہ ہے کہ جس کے بغیر ہم چاہیں تو لاکھ اتحاد کی دہائی دیں لیکن ہم اپنی آج کی حالت، مقام، مورچہ و محل سے ایک جوتا بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے، اور جو عدم موافقیت کی فضا آج موجود ہے یہ دشمن کی حسرت بھری ” کاش ” کا ماحصل تو بالکل نہیں ہے بلکہ اسکے پیچے ایک پوری سیاسی تاریخی عمل اپنی مکمل ثباتیت کے ساتھ کھڑی ہے، وہ حالات کیسے پیدا ہوئے، کس نے پیدا کیئے اور کیونکر پیدا کیئے، ان سب باتوں کو بغیر لگی لپٹی کے سبھی سیاسی کارکن سمجھ چکے ہیں،یا کم سے کم انکو انکی وضاحت کردی گئی ہے، اتحاد ہوتا کیا ہے، اس کی اپنی ہئیت میں کردار کیا ہے اور یہ اتحاد بکھرتا کیوں ہے، کیا یہ ہم ماضی کی اپنی سیاسی بندوبست میں یہ سب تجربہ نہیں کرچکے، وہ اتحٓد جو موجود تھے، کن کے درمیان میں تھے اور کیوں بکھر گئے، اگر یہ سب ہمارے ہاں عملی بنیادوں پر وقوع پذیر ہونے والے ماضی قریب کے پے در پے واقعات ہیں اور آپ ان سے واقف ہیں تو سمجھ لو کہ اتحاد کسی کی دہائی دینے سے نہیں ٹوٹی ہے بلکہ وہ ایک مکمل سیاسی عمل کی غلط، بے ہنگم، اور بے اصولی کی بنیاد پر کیئے جانے والے فیصلوں کی تاریخی سچائی کی نظر ہوکر ٹوٹی ہے، تو اس بکھری کو جوڑنے کے واسطے حسرتوں کی آہ میں لپٹی ہوئی ” کاش ” سے کوئی افاقے کی گنجائش نہ موجود ہے اور نہ ہی آئیندہ ایسا کوئی کرشمہ ہونے والا ہے، یہ عمل مکمل ٹھوس و تاریخی سچائیوں کے روبرو ہو کر انکو قبول کرنے ہی سے ممکن ہے، ابھی بلوچ کے پاس بحیثیت ایک قوم کے کوئی ایسا قابل ذکر متحدہ محاذ موجود نہیں ہے، گو کہ اخباری سطح پر میں تمہیں تھام لوں اور تم مجھے تھام لو کی ایک تکرار ضرور ہے مگر نتائج کسی بھی اتحادی عمل کی اصل کسوٹی ہے، اگر نتائج وہی یاس و ناامیدی کی کہانی پیش کررہے ہیں جو کہ پہلے تھا تو سمجھ جائیے کہ اتحاد کے نام پر قوم سے دھوکہ دہی کی جارہی ہے، اتحاد کی عدم موجودگی کی وجوہات نہ سادہ ہیں اور نہ ہی عام ہیں، سیاسی قوت کو تابع رکھنے واسطے سیاسی پارٹیوں و تنظیموں کو جس طرح دست نگر رکھنے کی کوششوں میں انکی داخلی معاملات پر آزادی کو سلب کرکے اپنے ہاتھ میں لیا گیا، پارٹی و تنظیموں میں جس طرح اپنے سنتری و پہرہ دار بٹھائے گئے، مخلص سیاسی لوگوں کو جس طرح ڈرا دھمکا کر انہیں انکے کردار سے دست بردار کرایا گیا، سماج، سیاست، جنگ اور معیشت و مذہب کو جس بھونڈے انداز میں ضم کیا گیا اور سیاسی فضا میں جس طرح ایک دوڑ اور مقابلے کی ماحول کو پروان چڑھایا گیا، بلوچ اجتماعی قوت کو جس طرح قوم کے خلاف موڑا گیا، تحریک کو جس طرح گروی رکھا گیا، وہ سب مل کر بلوچ تحریک کی یگانگت کو ختم کرنے میں بتدریج کردار ادا کرتے رہے، سو موجود غیر مرتب اتحاد کے حصے بخرے ہونے شروع ہوئے، اس میں ذاتی و گروہی مفادات کا اہم ترین عمل دخل تھا، اب اس انتشار کی کیفیت میں جب جب کوئی غیر معمولی سانحہ رونما ہوجاتا ہے، یا اپنے آس پاس کوئی غیر معمولی نقل و حرکت کو منظم بنیادوں پر پروان چڑھتے دیکھتے ہیں تو ہمیں اتحاد و متحدہ محاذ کی یادیں ستانے لگتی ہیں اور ہم لگاتار اسکی دہائی دینے لگتے ہیں کہ، اسکی وجوہات یہی ہیں کہ ہم نے اب تک یہ سمجھا ہی نہیں کہ اتحاد ہوتا کیا ہے، کیوں ضروری ہے، اور اسکی اساس کیا ہے، کیا ساتھ جڑنے، ہاتھ ملانے، ساتھ ساتھ چلنے زبانی کلامی دعوے کرنے اور کسی کے ضد میں کسی سے مل جانے کا نام اتحاد ہے یا پھر پالیسی و فیصلوں کا آپس میں جڑجانا اور زہنی و فکری ہم آہنگی کا عملی بنیادوں پر اظہار حقیقی اتحاد ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا سانحہ رونما ہوجائے جہاں اس بکھری ہوئی قوت کی انتشار کے وجوہات کو کھل کر سمجھا جائے اور وہ سانحہ ان تمام موجود وجوہات کا قلع قمع کردے، اور سب طاقت کے کوریڈورز کو مجبور کردے کے وہ اپنی اختلافات کو ” بھول کر نہیں ” بلکہ منطقی بنیادوں پر حل کرکے ایک ساتھ سامنے آجائیں اور قوم کے سارے لوگ اور سبھی طاقت کے محور ایک مدار میں گردش کرنے لگ پڑیں، ایسا ہوتا ہے، لیکن وہ اس سانحے کی وجہ سے متحد نہیں ہوتے بلکہ اس سانحے یا نقصان عظیم کی شکل میں اس سیاسی ٹھوس سچائی کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ جو برسوں تک بغیر تسلیم شدہ جوں کے توں پڑی ہوئی تھی یعنی وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلیتے ہیں یا پھر اس عظیم نقصان کی وجہ سے وہ اپنے کردار کے ساتھ غیر متعلقہ بن جاتے ہیں، چونکہ چھوٹی چھوٹی اور پے در پے نقصانات اس سیاسی ٹھوس سچائی کی حقیقت تک پہنچنے میں مددگار ثابت نہیں ہوپارہے تھے، ایسے سانحات قوموں کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اپنی حیثیت و مقام کی از سرِ نو جائزہ لیں، سابق امریکی صدر جان ایف کنیڈی کہتے ہیں کہ
“In a time of domestic crisis, men of goodwill and generosity should be able to unite regardless party or politics of.”
بہت سارے امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ نائن الیون اس قول کا بہترین مظہر ہے جہاں سب امریکی لوگوں، سیاستدان، بیوروکریسی، فوج، انتظامیہ مقننہ سب نے اپنے اپنے فروعی اختلافات و مسائل کو بھلا کر اسکا بھر پور انداز میں جواب دیا، کیونکہ خود نائن الیون پر یا اسکے حوالے سے کوئی اختلاف یا مسئلہ وجود نہیں رکھتا تھا یعنی انکے اختلافات نائن الیون سے الگ نوعیت کے تھے سو وہ سب بھول کر نائن الیون کے سانحہ کے جواب ڈھونڈنے میں لگ پڑے لیکن بلوچ مسئلے میں اختلافات ہی تحریک کے پرتوں سے جڑے ہیں اسی تحریک کے تاریخی پروسس سے ابھر کر سامنے والی اختلافات و تضادات کو حل کئیے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا، کیونکہ ہمارا قومی سانحہ بھی غلامی ہے اور یہ موجودہ تضادات و اختلافات کی بنیادیں بھی اسی غلامی کے خلاف چلنے والی تحریک سے برآمد شدہ ہیں، بات کا لب لباب یہ ہے کہ اتحاد یا متحدہ محاذ کی تشکیل چاہے کسی بھی حالت میں کسی بھی وقت میں ہو اسکے لیئے بنیادی ٹھوس سیاسی حقیقتوں کو سمجھنا ہے، ان حقیقتوں کے راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے، اور یہی اساس ہیں، بسا اوقات یہ سننے کو ملتا ہے کہ ” آؤ اپنی اختلافات کو بھلا کر ایک ہوکر دشمن کے خلاف جد جہد کریں ” اس سے بڑھکرغیر سیاسی رویہ اور کیا ہوسکتا ہے، کیا واقعی میں سیاسی تلخ حقیقتیں اور تاریخی ٹھوس سچائیاں اتنی ہی سادہ سی ہیں، یہ کوئی دو رشتہ داروں کا آپسی وراثت کا جھگڑا ہے جسے بھلا کر بغل گیر ہوا جائے، یا پھر یہ کسی روٹھے ہوئے گھر چھوڑ کرجانے والے بیٹے کی کہانی ہے کہ جس میں باپ اپنے بیٹے کو معاف کردے اور بیٹا باپ سے اپنی رویہ درست کرلے اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگ جائیں، کیوں ایسا رویہ اپنایا جاتا ہے کہ جہاں عام بندے کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اختلافات سیاسی نہیں بلکہ شخصی ہیں، اختلافات تاریخی نہیں بلکہ بدنیتی کی ہیں، یہ بکھری و انتشار کوئی ٹھوس تاریخی سچائیوں کا تدریجی عمل نہیں بلکہ یہ کسی ایک فرد یا کچھ افراد کا زاتی پسند و ناپسند کا مسئلہ ہے اور انا کے پیدا کردہ مشکلات ہیں، یہ ایک طرح سے ان تمام تاریخی سچائیوں سے روگردانی کا مترادف ہے جو پچھلے کئی سالوں سے بتدریج سامنے آتے رہے ہیں اور بلوچ قومی اجتماعی قوت کی اتنتشار کے سبب بن چکے ہیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اگر یہ انتشار و بکھری کسی دشمن کی شور و فغاں اور داد خواہی کا مرہون منت نہیں ہے تو ضرور اسکے پیچجے کچھ ٹھوس حقیقتیں کارفرما ہیں، جو اس بکھری کا سبب بن گئے ہیں اور اب تک اتحاد کا عملی معنوں میں غائب ہونا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ ٹھوس حقیقتیں جو اس انتشار کا سبب بنی ہیں وہ اپنی جگہ اسی طرح موجود ہیں اور شاید ان میں اضافہ ہوچکا ہے، تو یہ تاریخی تلخ و ٹھوس سچائیاں کسی ” کاش ” سے حل نہیں ہونے والے، بلکہ اس کے لیئے ان تمام رستوں پہ دوبارہ سفر کرکے جہاں جہاں اور جس جس سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان تمام کا محاسبہ کیا جائے اور انکو قوم کے سامنے جوابدہ اور سزا کا حقدار بنایا جائے، چونکہ اتحاد دو گروہوں، دو لوگوں، یا دو پارٹیوں کا آپس میں زہنی ہم آہنگی اور پالیسی و فیصلوں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ عملی بنیادوں پر اس زہنی ہم آہنگی کو ثابت کرتے رہنے کا نام ہے، بھول چوک انسان سے ہوجاتی ہیں لیکن ان بھول چوک کو اپنی انا کا مسئلہ بناکر جوابدہی سے بھاگنے کا عمل کم از کم متحدہ محاذ کی ضمانت نہیں دے سکتا، ہر غلطی پر امید و یقین کے ساتھ ساتھ اعتبار و اعتماد کے رشتے کا ڈور بھی سکڑنے لگتا ہے، چاہے ایک تنظیم ہو یا پھر کئی ایک تنظیم ہوں ان میں اصول پر سختی سے کاربند رہنا ہی بنیادی حل ہے، غلطیاں کرنا بے اصولی نہیں بلکہ انسانی جبلت ہے، مگر غلطیوں کو بار بار دہرانا اور انہی غلطیوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی ایک ساتھی، کامریڈ، یا پارٹی و گروہ کو کمزور کرنے کے لیئے استعمال کرنا انتشار کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں دے سکتا، اختلاف اگر موجود ہیں تو کیوں موجود ہیں ، اس پر بات کرنے کے بجائے راہ فرار اختیار کی جاتی ہے، کیوں کہ اس پر بات کرنے سے یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ اختلافات کو بھول کر اتحاد نہیں بنائے جاسکتے بلکہ اختلافات کو حل کرکے اتحاد بنائے جاتے ہیں، اگر اس پر بات ہوئی کہ اختلافات کیوں موجود ہیں تو ان اختلافات کی بنیادی خالق و مالک کا نام بھی سامنے آئیگا جو کہ سیاسی بنیادوں پر گھاٹے کا سودا ہے، سو اسی طرح قوم کو جھولا جھلاتے رہو اور ہر مہینے ڈیڑھ بعد یہ تکرار کرتے جاؤ کہ آیئے بیٹھیئے اتحاد کیجئے اختلافات پر بات نہ کیجیئے انہیں بھول جائیے، جب بلوچ قومی تحریک نے سر اٹھائی غالبا 1998 میں یہ شور دھیمے انداز میں اٹھنی شروع ہوئی تھی، تو اس وقت اتحاد کے الجھاؤ کا مسئلہ کیوں درپیش نہ تھا اسکی ایک سادہ سی وجہ یہی ہے کہ وہی لوگ جو آج اس ابتدائی یگانگت و متحدہ قوت بازو کو مروڑ کر اپنے لیئے ایک حصہ نکالنے کی سعی میں مصروف تھے تو وہ سیاسی و عسکری بنیادوں پر کافی نحیف و ناتواں اور دست نگر تھے، سو رفتہ رفتہ جب انہوں نے اجتماعی بلوچ قومی قوت کو نوچ نوچ کر اپنی طاقت پکڑنی شروع کی تو انکی مفادات آڑے آگئے، زہنی ہم آہنگی پہلے سے ایک ڈھکوسلے اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں تھی وہ طاقت ملنے کے بعد اپنا رنگ دکھانا شروع ہوگیا اور آہستہ آہستہ یہ بد اعتمادی و بد عہدی کا بیج وہ اس تحریک کے سبھی پرتوں میں بونے میں کامیاب ہوگئے، اب وہ بارگینگ پوزیشن پر متمکن ہے، وہ چاہ رہا ہے کہ اسے بلوچ سیاست کے سیاہ و سفید کا مالک تسلیم کیا جائے، اور وہ جو بھی کرے یا کررہاہے اس پر سوال کھڑے نہ کیے جائیں، بلوچ سیاسی اساس کہ ہر فرد کی برابر کی بنیاد پر رائے کی حق اور اس رائے کی اکثریت کی احترام کی جمہوری قانون سے بھاگنے والے جمہوری اداروں کی نام کو ایک سیاسی کارڈ کے طور پر بغیر کسی سوال کے استعمال کرنے کا حق مانگتے ہیں، غلطیوں کو بھول بھال کر آگے کی راہ نکالنے کی پاکستانی سیاست کے وطیرے کو یہ اب بلوچ قومی سیاست میں اجتماعی بنیادوں پر داخل کرنے کے خواہاں ہیں، جب ان سے جواب طلب کی جاتی ہے تو پھر وہ بھاگ جاتے ہیں، اپنا ایک الگ مقام تلاش کرتے ہیں، بلوچ کی سیاسی حوالے سے ناپختہ زہن کو یہ ویسی ہی استحصال کرکے اپنا مقصد نکالتے ہیں جیسے کہ پاکستانی استحصال کو ہم دیکھ رہے ہیں، جب انکو حمایت ملتی ہے طاقت حاصل ہوجاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم بلوچ اجتماعی سیاست کے اسٹیک ہولڈرز ہیں سو آئیے اب بیٹھ کے بات کرتے ہیں اور اختلافات پر راہ نکالتے ہیں، انکو یہ معلوم ہے کہ اختلافات و تضادات کی بنیاد ہی انکی وجود ہے، کیونکہ جب آپ اصولوں سے روگردانی کرکے طاقت پاتے ہیں تو اس طاقت کو برقرار رکھنے واسطے ہمیشہ اصولوں کی بھلی چڑھانی پڑے گی، سو بے اصولی کی تعین وہ خود کرنا چاہتے ہیں سو وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ آؤ تضادات کو حل کریں وہ ہمیشہ کہتے ہیں چلو اختلافات کو بھلا کر ساتھ چلتے ہیں، کیونکہ اگر حقیقی بے اصولی کی تشریح پر اگر وہ راہ نکالنے پر راضی ہوجائیں تو یہ انکی سیاسی تابوت کی آخری کیل ہوگی جو کہ انکو معلوم ہے، سو وہ لوگ جو طاقت کے مسند پر بیٹھے ہیں وہ یہی راگ الاپتے جائیں گے کہ ” آؤ اختلافات بھلا کر آپس میں اتحاد کرتے ہیں ” جو مکمل غیر سیاسی ہے اور اصولا ناقابل عمل ہے، اور ساتھ ساتھ عام بلوچ اتحاد و متحدہ محاذ کی حسرت و آرزو دل میں لیئے ہمیشہ یہی دہائی دیتے رہیں گے کہ ” کاش ” ہمارے لیڈر متحد ہوجاتے، اور وہی عام عوام (ہم سب) جب تک سمجھنے اور حقیقت تک پہنچ کر اس تلخ سچائی کو تسلیم نہیں کرلیتے تب تک ہم ” کاش ” کی آرزو اور تمناؤں کی بحر بے پایاں سے چھٹکارا نہیں پاسکتے، سو اصولوں پر کاربند رہ کر اکیلے ہی لڑو کامیابی کی ضمانت تاریخ خود دیتی ہے اور بے اصولیوں کے میدان میں چاہے پوری قوم کو جمع کرلو تو ایک بے ہنگم ہجوم کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں۔















