کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) نماہندہ ہمگام کے اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں پندرہ ستمبر دو ہزار پندرہ سے جبری طور پر حراست میں لئے گئے مہر گل مری کے بازیابی کیلئے ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے عید کے دن ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے قابض پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس اداروں نے جبری طور پر اغوا کیئے گئے مہر گل مری کے عزیز و اقارب کی جانب سے میڈیا اور عوامی آگاہی کیلئے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے لے کر کوئٹہ پریس کلب تک پیدل ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں مہر گل مری کی فیملی سمیت دیگر انسان دوست وقوم دوست بہت سے افراد شامل تھے۔
واضع رہے کہ مہر گل مری محکمہ زراعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت کے پوسٹ پر تعینات ایک عام اور شریف النفس شہری تھے۔ جنہیں 15 ستمبر 2015 کو کو ئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے جبری طور پراغواء کیا گیا تھا جو تاحال ان کے حراست میں قید ہے، ان کے عزیز و اقارب کا کہنا تھا کہ ہم انصاف کیلئے اکثر و بیشتر تمام سرکاری اداروں کے دروازوں پر دستک دی ، لیکن ہمیں کئی کچھ بھی انصاف نہ ملا۔ ہر جگہ ہمیں جھوٹی طفل تسلیاں دی گئی اور ہم سے یہی کہا گیا کہ مہر گل مری ایک بڑے آفیسر ہے ہم انھیں کچھ دن کیلئےتفتیش کے بعد چھوڑ دینگے اسی دن سے لیکر آج تک ہمیں جھوٹی طفل تسلیاں دی کر ہماری قیمتی وقت ضائع کی گئی لیکن مہر گل مری پھر بھی بازیاب نہیں ہوئے اور لواحقین نے پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم سخت گرمی میں سریاب مل سے لیکر پریس کلب کوئٹہ تک پیدل مارچ کیئے جبکہ میڈیا کے نماہندے اپنی گاڑیوں میں ہمارے سامنے سے گزر کر ہمیں بے بڑی بے انصافی سے نظر انداز کیئے رکھا۔ لیکن میڈیا کے کسی ایک بندے نے بھی ہمیں کوریج دینے کی زحمت نہ کی۔ مہر گل مری کے عزیزو اقارب نے کہا مہر گل مری ریاستی فورسز و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے غیر قانونی حراست میں لے کر انھیں جبری طور اغواکیا ہے۔اور وہ انھی کی تحویل میں قید ہے۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہمیں انصاف دینے میں مدد کرے۔


