ایرنشہر (ہمگام نیوز )ہمگام نمائندے کے مطابق گزشتہ دنوں ایرانی زیر قبضہ مغربی بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں 41 معصوم عورتوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے پر عوام سراپا احتجاج ہیں اس دن سے لیکر تا دم تحریر ہر مکتبہ فکر کے افراد کا غم و غصہ احتجاج، ریلیوں اور مظاہروں کی شکل میں جاری ہے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کے حق میں اب تک کئی مظاہرین کو قابض ایرانی، خفیہ ایجنسیوں، پولیس اور نام نہاد پاسداران انقلاب نے گرفتار کرکے خفیہ ٹارچر سیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے ـ گرفتار ہونے والے افراد ایسے بھی لوگ شامل ہیں جو کہ ان کا ابھی تک کوئی نام و نشان نہیں ملا ہے
سوشل میڈیا میں سرگرم بلوچ کارکنوں کے مطابق آج ایرانشہر میں ایک اور بلوچ مظاہرین حبیب زین دینی کو نام نہاد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اس سے پہلے عبداللہ بزرگ زادہ کو بھی متاثرہ خواتین کے حق میں مظاہرہ کرنے کی پاداش میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جو اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے ـ
ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک اور پیش امام مولوی طیب کو مسجدِ نور کے سامنے خواتین کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کرکے قید خانے میں ڈال دیا گیا سماجی کارکنوں کے مطابق اب تک گرفتار شدہ افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ آئے روز مظاہرین پر تشدد اور گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے ـ


