منطق سے گریزپا اور استدلال سے فرار ” مناظرے ” سے معذور کرداروں کی نقاب کشائی

داد شاہ بلوچ ہمگام:اردو کالم مناظؑرے کی اہمیت و ضرورت اور خاص الخاص بلوچ کے حالیہ سماجی و سیاسی اتنشاری کیفیت کے تناظر میں ہم نے اس امید کا برملا اظہار اپنے گزشتہ ایک مضمون میں کیا تھا کہ بلوچ آزادی پسند حلقوں سے تعلق رکھنے والے منتشر قوتیں بلوچستان میں جاری خون ریز جنگ، اس میں پھیلی ہوئی انتشار اور اس مجموعی موقع کی حساسیت اور ضرورت کو سمجھتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے اور اپنی طرف سے عائد کردہ الزامات کو ثابت کرنے اور انکے حق و مخالفت میں استدلال سے مزین اور علمی انداز میں جواب دینے کے لیئے آگے آئیں گے، لیکن شومئیِ قسمت کہ ایسا کچھ ہوکر نہ رہا مناظرے کی دعوت نامہ اسی طرح لفافے میں بند پڑی ہوئی ہے اور نامہ بر جواب آں غزل کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے طاقِ نسیاں کی مانند انتظار کی شدید کرب کا شکار ہورہا ہے، لیکن نامہ بر کی اتنی بھلی قسمت کہاں کہ اسے کوئی اپنا ہم پلہ سمجھ کر رد کلام سے نواز دے، نامہ بر اسی طرح مسلسل انتظاری کیفیت میں راہ تکتے ہوئے اب اس کیفیت کی شدت کوشاید نہ سہہ سکے اور نتیجتا یہ نادر موقع بھی مجموعی سیاسی طفلانہ روش کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے،گو کہ امید کی لو مکمل طور پر ابھی بجھی نہیں ہے لیکن آثار و قرائن یہ پتہ دے رہے ہیں کہ طاق میں رکھے امیدوں کے چراغ آہستہ آہستہ اور ایک ایک کرکے بجھتے چلے جائیں گے اور صاحب کی دستار کی شان اور غرور کی استقامت نے سلامت رہنی ہے سو وہ ہوکر رہیگی، قوم جلے کٹے مرے یا خاک ہوجائے، عورتوں کی عزتیں تار تار ہو یا پھر بستی اور بھرے بازار ہجرت کی جان کن لمحات سے ہم آغوش ہوں، جن سے مفلوک الحال مگر جیتی جاگتی انسانوں کی امیدیں بندھی ہیں وہ خواب خرگوش کے مزے سے ابھی تک چھٹکارہ نہیں پا سکے ہیں، امیدوں کے مرجھا جانے سے بھلا کوئی صاحبِ مجلس و دستار کیونکر اپنی دستار کی شان و شوکت کو کم کروائے، یہ ہم ہیں جو امیدیں باندھتے ہیں اور امید بر نہ آنے کی صورت میں یا خود سے مایوس ہوجاتے ہیں یا پھر صاحبِ دستار و فضیلت جیسے لوگوں کے مفت میں منکر بن جاتے ہیں اور انکے حوالے اپنی زہنوں میں شک کے بیج بھو جاتے ہیں۔ لیکن اس نقطے کی وضاحت میں بھی چند سطریں سیاہ کرلیں کہ ہم جیسے امیدوں کے دامن گیر کیوں وابستہِ شجر رہ کر امیدِ بہار کی دامن تھامے رہتے ہیںَ؟ اسکی آسان ترین توجیح یہی ہے کہ کسی بھی بیماری کو ختم کرنے یا اسکی مدافعت کے واسطے اسکے خلاف بنائی گئی کارآمد دوا کا استعمال ہی وہ امید ہے کہ اس سے بیمار کو شفا نصیب ہوگی، کیونکہ یہ ایک تجرباتی حقیقت ہے نہ کہ کوئی حادثاتی واقعہ، ایسا نہیں کہ کسی بیماری کی دوا لینے سے کوئی حادثاتی طور پر تندرست ہوگیا ہو اور باقی لوگوں پر اس کی اثر ظاہر نہ ہوئے ہوں بلکہ ہر مرض کے لیئے ایک مخصوص دوا ہے سو اسی سے ہی اسکی علاج ممکن ہے بشرطیکہ وہ مرض اس دوا کی استعداد مدافعت سے آگے نہ بڑھ چکی ہو، بالکل اسی طرح بلوچ آزادی پسند حلقوں کی سیاسی میدان میں یہ انتشاری روش ایک بیماری ہے جو کہ ہمارے سماجی ڈھانچہ نما جسم میں سرایت کر چکی ہے سو اس کی مدافعت کے لیئے بہترین دوا مکالمہ و مناظرہ سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا، لیکن پہل کرنے میں بخل سے کام لیا جارہا تھا، یہی سمجھا جارہا تھا کہ سب چونکہ مجرم ہیں اور کوئی اپنی بات ثابت کرنے کے حالت میں نہیں ہے، لہذا الزامات برائے الزامات کے چکر میں سب ڈوبے ہوئے سمجھے جارہے تھے، لیکن آخر کار یہ جمود ٹوٹا اور سنگت حیربیار کی طرف سے اس خاموشی کی پراسرار سناٹے میں ایک ارتعاش پیدا کی گئی اور سب متحارب اور آپس میں گھتم گھتا فریقوں کو قوم کے سامنے اپنی بات رکھنے اور اسے ثابت کرنے کی دعوت دے لی، امید ہم نے اسی لیئے باندھی تھی کہ اب لوگوں کو ایک موقع میسر آگیا ہے جہاں وہ اپنی بات رکھ سکیں اور اسے دلیلوں کی روشنی میں قوم کے سامنے سچائی کے ساتھ واضح کرسکیں تاکہ تذبذب اور بے یقینی کے گہرے بادل چھٹ جائیں۔ امید باندھنے سے پہلے ہم یہ حقیقت تسلیم کرچکے تھے کہ اس سماجی و سیاسی انتشار کی بیماری کا ہم سب فریقین بیک وقت شکار ہیں، گو کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کے اسباب میں ہم جیسے نادیدہ اور سیاسی ریشہ دوانیوں کے سلسلے میں سست الوجود لوگوں کے کرتوت شامل نہیں ہیں مگر پھیلاؤ جہاں سے بھی ہوا ہو جس نے بھی کیا ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ پھیلاؤ آج ہم سب کے دامان تک بھی پہنچ گیا ہے یعنی اس بیماری کے اثرات سے کوئی بھی ذی فہم و ذی حیات نہ بچ سکا، لہذا ہم جیسے سادہ لوح اور امید کے دامن گیروں نے یہ بھی فرض کرلیا کہ وہ جو اس بیماری کے حقیقی والی وارث ہیں وہ بھی اسی سماج کے باسی ہیں اور اس زاویے سے دیکھ کر ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی اس بیماری کے شکار ہیں اور اب اس بیماری سے تنگ آکر اسکے سدباب کے متلاشی ہونگے کہ کہیں کوئی حکیم اپنی حمکت سے اس بیماری کو بھگانے کا سامان کرلے، کیونکہ یہ چیز تعقل پسند زہنی استعداد کے لیئے قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ کوئی اپنی بیماری کی تشخیص کروانے میں کامیابی حاصل کرچکا ہو، اور اس کے خلاف طرح طرح کی حکمتیں بروئے استعمال لاچکی ہو اور اپنی بیماری سے تنگ آکر اس سے بازیابی پانے کی جستجو کی برملا اظہار بھی کررہا ہو اور جب اسے بیماری سے نجات کے رستے، دوا کی ترکیب اور حکمت کے طریقے بتائے جائیں تو وہ دوا لینے اور حکمت آزمانے سے انکار کردے یہ چیز عقل و منطق کے دروازے سے داخل نہیں ہوسکتی تھی سو اسی بنیاد پر ہم نے امید کا اظہار کیا تھا کہ انتشار کے مارے اس مریض سماج میں زندہ لاعلاج مریضوں کو بالآخر ایک حکمت اور دوا ہاتھ آچکی ہے جس سے وہ اپنی اس انتشاری مرض کا علاج بطریق احسن کرسکتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ انتشار ہے، بے یقینی ہے، ناموافقیت ہے، جھگڑے ہیں، علیحدگی ہے، خدشات ہیں، تکرار ہے، الجھنیں ہیں، ابہام ہے، اختلافات ہیں، پھوٹ ہے، تضادات ہیں، ناتوانی ہے، خامیاں ہیں، خصومت ہے، الزامات ہیں، قضیہ ہے، شکوک و شبہات ہیں، تفریق ہے، دراڑیں ہیں، رخنہ ہے، لغزشیں ہیں، اب کوئی بتائے کہ اگر اس ساری صورت حال میں معاملات کو سلجھانے کے لیئے مکالمے یا مناظرے کی قبولیت کے لیئے امید نہ رکھی جاتی تو اور کیا کیا جاتا؟ کیونکہ ان تمام مندرجہ بالا بیماریوں کی سدباب یا مدافعت کا ایک ہی رستہ ہے مل بیٹھ کر گفت و شنید کرنے کا، مکالمہ کرنے کا اور مناظرے کی صورت ایک دوسرے کے باتوں کو شائستگی سے سننے اور انکو احسن انداز میں رد کرنے اور اپنی بات رکھنے کا، اس میں سیاہ و سفید کا پتہ باآسانی چل جانا تھا، دو ہی صورتیں تھیں ایک جو کہا ہے اس پر ثابت قدم رہو، دوسرا جو کہا ہے اسکو ثابت کرو، استقامت اور اثباتیت، دو ہی نقطے ہیں جن پر مکالمے، مناظرے یا مذاکرے میں شامل سبھی فریقوں کو قائم رہنا تھا، یہ قانون سبھی فریقوں کے لیئے یکساں ہے، یہاں پلڑا کسی فریق کا بھی بھاری نہیں ہوتا، کسی بھی فریق کے پاس کوئی ایسا الہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ اسکے رگڑنے سے جن نکل آئے اور آقا کی حکم کی تعمیل میں دوسرے فریق کو پچھاڑ ڈالے، میدان ہموار ہے اور یکساں ہے اور سب کے لیئے برابر ہموار ہے، جو آپ کہہ رہے تھے مخالف فریق کے سامنے ثابت کرتے اگر وہ نہ مانتے اور دلیل و منطق کے مدار سے ہٹ جاتے تو آپ سرخرو ہوجاتے اور جو وہ کہہ رہے تھے وہ آپکے رو برو ثابت کرتے کہ ہم نے کیا کہا اور کیوں کہا، اگر وہ منطق کے محور سے نکل جاتے، ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہتے تو بھی میدان آپکی ہوتی، چاہے بعد میں سرپٹ گھوڑے دوڑاتے یا آپس میں کشتیاں لڑتے یا پھر سیاست کی گلی ڈنڈا کھیلتے، آپکی کرداری خلوص سے خار کھانے والے مخاصمانہ زہنیت کے لوگ انگشت بدندان کہیں کسی کونے میں کھسک کے بیٹھ جاتے، کچھ کہنے کا لائق ہی نہ رہتے، کیونکہ آپ ان سے اپنی حیثیت و حقیقت منوا چکے ہوتےٍ۔ لیکن ایسا نہ ہوا، کیوں نہ ہوا، اس امر کا وقوع پذیر نہ ہونا بذات خود ایک برسرپیکار آزادی پسند قوم کے لیئے لمحہ ہائے فکریہ ہے، اور اسی امر کا وقوع پذیر نہ ہونا آج حقیقی تشریح و توضیح کا متقاضی ہے، کیونکہ مناظرے و مذاکرے میں ایک فریق کا پلڑا بھاری نہیں رہ سکتا، پلڑا صرف ثبوت کا، استدلال کا، منطق کا اور حق و سچائی کا ہی بھاری رہ سکتا ہے، ایک بہت ہی سادہ سی مثال میں بات یوں ہے کہ اگر ایک فریق بضد رہے کہ کوا سفید ہے تو دوسرا فریق اس بات کا تکرار نہیں کرتا کہ کوا سیاہ ہے بلکہ وہ اسکی تصویر دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ کوا کالا ہے اگر مخالف فریق پھر بھی اپنی بات پر اڑے رہے تو سامنے والا فریق کہیں سے کوا پکڑ کر انکے سامنے چند ہی لمحوں کے اندر اندر لاکر انہیں دکھائے گا کہ وہ کس رنگ کا ہے، اگر وہ پھر بھی اصرار کرے کہ نہیں یہ تو سفید ہے، اب کہنے والے کو کون روکے مگر سننے اور دیکھنے والوں کو بھی سچ اور جھوٹ، اچھے اور برے کے فیصلہ کرنے سے کوئی نہیں روک پائے گا، مناظرے یا مذاکرے میں تو ،تو میں ، میں کی گنجائش کم ہوتی ہے یا یوں کہیئے کہ تکرار کی گنجائش ہی نہیں بچتی جو ہے وہ ثبوتوں، تاریخی سچائیوں، ماضی کے تجربات اور منطق و استدلال پر ثابت ہے جو فریق جھوٹ، منافقت، لغویات اور تکرار سے کام لے تو دیکھنے والے لوگ اور فیصلہ کرنے والے عوام یہ بآسانی سمجھ جائیں گے کہ جو تکرار کررہا ہے بات گھما رہا ہے وہ منطق و استدلال سے بے بہرہ اور حقائق و سچائیوں سے تہی دامن ہے، اس میں فیصلہ بہت ہی ذود اور آسان ہوتا ہے، کیونکہ اس میں سیاسی اصطلاحات کی بھرمار، چالاکی و چاپلوسی، و لغویات اور سیاسی بیان بازی جیسی گھما پھرا کر باتیں بنانے کی جگہ کم ہی ملتی ہے، جو ہے وہ سچائی ہے، جو ہے وہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہے، ہمارے سماجی ڈھانچے میں ماشااللہ سے اخلاقی قدریں اتنی کھوکھلی ہیں کہ ہم ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیئے دس اور جھوٹ تو بول لیتے ہیں لیکن اپنی غلطی کوتاہی اور خامی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک جھوٹ کی حقیقت کوتسلیم نہیں کرسکتے، جب ہمارے پاس استدلال کی کمی ہوگی، سچائی ناپید ہوگی تو ہم دوسروں پر الزام دھر کر سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ حقیقی مجرم ہے، یعنی ہم کبھی اس اخلاقی زمہ داری کا احساس نہیں کرپاتے کہ جو الزامات ہم عائد کررہے ہیں انکو ثابت کرنے کا بوجھ بھی اخلاقی، سیاسی یا قانونی حوالے سے ہمارے ہی کاندھوں پر ہے، چونکہ بلوچ ابھی تک اپنے خود کی انتظامی مملکت سے محروم ہے سو ہمارے مابین جو معاملات ہونگے انکو قانون سے نافذ کروانے کے برعکس اخلاقی حوالے سے ایک دوسرے پر ثٓابت کرنے کا ہی ایک رستہ بچتا ہے، اب جن جن حلقوں میں اخلاقی قدریں صفر سے آگے بڑھ ہی نہیں پائیں تو ان سے کیا گلے اور کاہے کے شکوئے۔ لیکن ہم سمجھنے سے یقینا قاصر نہیں ہیں کہ یہ نادر موقع کیونکر بلوچ کے ہاتھ سے پھسلتا جارہا ہے، اسکی چند وجوہات ہیں جو کہ قومی مفادات سے زیادہ سیاسی و گروہی مفادات کے تابع ہیں، اوپر ہم نے اس حوالے سے بلوچ لیڈرشپ کی طرف سے پہل کرنے میں بخل کے حوالے بات کی تھی، لیکن وہ بھی ختم ہوگیا، اسکا مطلب ہی یہی تھا کہ کوئی ایک اپنے آپ کو بلا غرض و غایت احتساب اور پرسش احوال کے لیئے قوم کے سامنے پیش کررہا ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ جو جو الزامات آپ لوگ عرصہ دراز سے لگاتے ہوئے آرہے ہیں ان تمام الزامات کے حوالے سے میں یکطرفہ آپ کو ثابت کرنے کا زمہ دار نہیں ٹہراتا ( گو کہ آپ زمہ دار ہیں) بلکہ خود ہی ان تمام الزامات کے سامنا کرنے کو بھی تیار ہوں، جہاں بیٹھنا ہے، جس جگہ اور جس طرح قوم کے سامنے بیٹھ کر ان تمام باتوں پر گفت و شنید اور دلیل و منطق کی بنیاد پر گفتگو کرنی ہے میں حاضر ہوں، لیکن دوسری جانب کی مدعی ہے کہ اس نے پراسرار انداز میں چھپ سادھ لی ہے، جو نہ الزامات پہ بات کرنے پہ راضی ہے نہ ہی ان الزامات کی حقیقت کو قوم کے سامنے لاکر آشکار کرنے کو آگے بڑھ رہی ہے، لیکن الزامات کا سلسلہ تادم تحریر اسی طرح سے جاری و ساری ہے، انکی کیا وجوہات ہیں کیوں اس طرح سے بلوچ قومی جنگ کی لہو سے چکائی ہوئی قیمت کو بے توقیری کی نظر کیا جارہا ہے؟ جو الزامات لگائے گئے ہیں یا ابھی تک لگائے جارہے ہیں میری دانست میں وہ قوم کے حافظے میں محفوظ ہیں اور ان پر مزید قلم آزمائی کی ضرورت نہیں ہے، آپ کسی بھی شخص، گروہ، پارٹی یا تنظیم پر کسی بھی قسم کا الزام لگاتے ہیں تو پھر اس میں یہی ہوتا ہے کہ الزامات حقیقت ہوتے ہیں یا پھر کسی بغض و عناد کے مارے شخص یا گروہ کی زہنی اختراع ہوتے ہیں، یعنی ان الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اگر الزامات حقیقت ہیں تو ان الزمات کو لگانے والے گروہ یا شخص کا ملزم یا اس فریق کی حوالے سے نیت یا ارادے کی بنیاد پر اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ وہ کیوں الزام لگا رہا ہے، اگر نیت صاف ہو اور خلوص دل کے ساتھ ان خامی کمزوریوں کو سامنے لایا جاتا ہے تو اسکا براہ راست مطلب یہی نکلتا ہے کہ الزام لگانے والے فریق کے نیت اور خلوص میں یہ بات واضح ہے کہ وہ الزمات لگا کر کسی کو نیچا دکھانے کے بجائے ان الزامات کی وجہ سے جو کمی خامیاں سماج یا سیاست میں سرایت کرچکی ہیں انکی بہتر انداز میں تشخیص کرتے ہوئے انکا تدارک کرنا ہے اور انتشار کو یکسوئی کے طرف مائل بہ سفر کرنا ہے، جب الزام لگانے والے فریق کے لیئے مجموعی عمل بہت ہی زیادہ معنی رکھتا ہو اور وہ اس مجموعی سیاسی و سماجی ماحول میں در آنے والی انتشاری کیفیت سے بالکل زہنی و شعوری معنوں میں بے چین رہتا ہو تو اس کے لیئے کسی بھی طرح کا کوئی بھی موقع جو اس انتشاری کیفیت کی سدباب میں مددگار ثابت ہو وہ نعمت ہی سمجھی جائیگی اور ایسے میں پر خلوص اور نیک نیت لوگ لپک کر اس جانب آئیں گے جہاں سے ان الزامات کو حقیقی معنوں میں ثابت کرنے اور انکی وجہ سے پیدا شدہ انتشاری ماحول کو ختم کرنے میں مدد مل سکے، لیکن دوسری طرف ایسا بھی ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا کہ سیاست میں ایک دوسرے کی سیاسی قوت اور عوامی پذیرائی کو نکیل ڈالنے کی خاطر سیاست کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں، الزام برائے الزام کی طرح ایک سیاسی لیڈر یا عوامی پذیرائی سے فیضیاب شخص کو اسکی پائیدان سے نیچے گرانا مقصود ہو یا پھر اپنی سیاسی بساط کو کچھ اوپر کی طرف دھکیلنا ہو یا پھر صریح بد نیتی کے ساتھ ایک بے داغ انسان کی کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوششیں ہوں تو ایسے میں الزام لگانے والے فریق کبھی بھی کھلے دل کے ساتھ عوامی سطح پر آکر ان تمام باتوں یا الزامات کی دفاع نہیں کرنا چاہے گا، کیوں کہ انکے پاس ان تمام باتوں کی بنیادیں موجود نہیں ہوتیں، آسان لفظوں میں سب کچھ جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے، جھوٹ ہی تمام چیزوں کو ختم کرنے کے لیئے کافی ہے، کیوں کہ جو بات جھوٹ ہو تو اسکی بنیادیں نہیں ہوتیں یعنی وہ بات جس سے منسوب کی جاتی ہے وہ اسکی بات، کردار، یا تعریف ہی نہیں ہوتی تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ کہیں سے کسی کی زہن سے اختراع کی گئی کوئی منصوبہ بندی ہوسکتی ہے تو ایسے میں استدلال، منطق، ثبوت اور گواہ ڈھونڈنے کی باتیں کوئی معنی نہیں رکھتیں یعنی کسی شخص پر یہ الزام ہو کہ اس نے مسجد میں جاکر کسی بندے کے جوتے چرائے تو اس میں سب سے پہلے تو اس ملزم شخص کا مسجد جانا ثابت ہو، اگر یہ بات ہی ثابت نہ ہو کہ وہ مسجد گیا تھا تو باقی سب باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں، جب استدلال اور منطق و اثبات سے انسان تہی دامن ہو تو اس کا راہ فرار اختیار کرنا ہی واحد منزل ٹہر جاتا ہے۔ اب پوری تحریک یا قومی جد و جہد میں سرایت کرچکی انتشار کی طرف آئیں تو یہاں بھی چیزیں اسی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، تحریک و جد و جہد کو لے کر بہت ہی حساس لوگوں سے انتشار کی سدباب اور اسباب کو ڈھونڈنے اور انہیں ختم کرنے کی باتیں کریں تو وہ سیخ پا ہوجاتے ہیں، لاشیں گر رہی ہیں، لوگ مررہے ہیں، بستیاں ملیا میٹ کی جارہی ہیں، بذور قوت لوگوں کی نقل مکانی کی جارہی ہے، مسخ لاشیں مل رہی ہیں، سیاسی میدان سکڑتی جارہی ہے، بھوک ہے افلاس ہے بیماریاں ہیں، لوگ بے سروسامانی کی عالم میں لڑ رہے ہیں اور آپ لوگوں کو مناظرے و مذاکرے کی پڑی ہوئی ہے، اگر یہ راہ فرار نہیں ہے تو کوئی بتائے کہ اس سے کیا اخذ کیا جا سکتا ہے، یہ تحریک اور اسکی کمزوریاں کیوں ہیں، انکے اسباب و علل کیا ہیں، دشمن کیوں اپنی کمین گاہوں سے نکل کر بستیوں بازاروں کو روندتا ہوا اب محفوظ تصور کی جانے والی پہاڑی پناہ گاہوں تک پہنچنے کی جتن میں مصروف ہے، اگر ان تمام سوالوں کا جواب انتشار و شکست و ریخت میں نہیں تو اور کس چیز میں ہے، لیکن اس انتشاری ماحول کے جنمائے ہوئے کردار کیوں کر اس انتشار کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے جب وہ خود اسی انتشار سے ہی اور انہی الزامات در الزامات کی کھیل میں اپنے لیئے سیاسی میدان و کردار بنانے کی سعی کررہے ہیں، انکو سب معلوم ہے کہ وہ ہی اس انتشار و شکست کی بنیادی زمہ دار ہیں اور انہی کی مہربانیوں سے یہ انتشار برقرار ہے، کیونکہ انکے لیئے انتشار ہی زندگی ہے، انتشار کے پیداوار لوگ محض انتشار در انتشار در انتشار اپنے لیئے زندگی دھونڈتے ہیں، قومی تحریک، اجتماعی مفادات، لہو کی توقیر، نصب العین اور نظریات سب کچھ اپنی جگہ پر مگر ذات اور ذات سے جڑی ہوئی مفادات اور شخصی و گروہی نام و نمود کے مارے ہوئے یہ لوگ اس تحریک اور اس میں بہنے والے بے کراں لہو کی سمندر کو ہر اس جگہ بروئے استعمال لائیں گے جہاں جہاں سے انکی اپنی مفادات کی زچ ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو بصورت دیگر مناظرے کے لیئے خلوص نیت سے دی جانے والی دعوت کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کوئی محض یہ سوچے کہ مناظرے سے کیا کیا ہونے کے امکانات موجود تھے، لوگ آپس میں بیٹھ جاتے، ثبوتوں، دلیلوں، اور ماضی کے یادداشتوں سے بھری ہوئی پلندے اور فائلیں اپنے سامنے رکھتے ہوئے قوم کے روبرو انہی فائلوں میں موجود ریکارڈز، دلائل اور ثبوتوں سے باتیں نکال کر دوسرے فریق کو زچ کرنے کی کوشش کرتے، اسے غلط ثابت کرتے، اسکی ہر ثبوت اور دلیل کو اپنے پاس موجود بہتر اور جامع دلیل و ثبوت سے کاؤنٹر کرتے، اسے جھوٹا اور بد نیت ثابت کرتے، اسے غلط، خلاف حقیقت اور بے جا ثابت کرتے، ہلہ گلہ ہوتا، شور ہوجاتا، دلیلوں کی بھر مار ہوتی اور قوم سوشل میڈیا پہ براہ راست یا دیگر فورمز پر بیٹھ کر انکو دیکھتی اور ہر ثبوت، دلیل اور منطق اور انکے بہتر انداز میں کاؤنٹر ہوجانے کے ساتھ ساتھ وہ آہستہ آہستہ اپنے منطقی فیصلے کی طرف بڑھ جاتا کہ کون اچھا ہے کون برا، کون سچا ہے کون جھوٹا، کون مدلل ہے کون منطق سے بے بہرہ، کون میری رہبری کا قابل ہے اور کون ناقابل یقین بندہ ہے، حقیقت کیا تھی اور سراب کس کا تھا، ماضی کی چپقلشوں کی خاکہ میں کونسے کردار آج تک رنگ بھرتے رہے ہیں، تضادات کیوں پیدا ہوئے اور کس نے جنمائے ایسے اور کئی جہات نکلتے اور قوم کو ان تمام جہات پر سوچنے اور سمجھنے کا موقع ملتا، اس سے یہ فائدہ ضرور ہوتا کہ قوم کے ان تمام لوگوں کا جن کا کسی نہ کسی لیڈرشپ یا حلقہ سیاست سے وابستگی ہوتی تو وہ سمجھ جاتے، سر بستہ راز کھل جاتے، کون غلط ہے اور کون راہ راست پر ہے ان سب کا معلوم پڑتا اور وہ تمام اسرار جو پوشیدہ تھے وہ یک بہ یک گرہ کھلتے جاتے اور پردہ نشینوں کے چہرے قوم کے سامنے عیاں ہو جاتے، لیکن یہ نقاب کشائی بہت سارے کرداروں کو اس لیئے منظور نہ تھی کہ نقاب اور پردوں کے پیچے چھپے بھیانک سچ آشکار ہوتے ہوئے قوم کے سامنے مہیب سی سیاسی شکلیں نمودار کرتے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجموعی نہیں تو اکثریتی اعتبار سے لوگوں کا سیاسی اعتبار یا یقین سچائیوں کی بنیاد پر ہے، سچائی یا تو حقیقی سچائی ہوگی یا پھر وہ جھوٹ کے تہہ دار پردوں میں لپٹی ہوئی صناعی کی سچائی ہوگی اور کسی بھی فرد کا سیاست کے اعتبار سے اپنے لوگوں پر یقین و اعتماد صرف اور صرف تب تک قائم و دائم رہ پائیگی جب تک کہ سچائی اپنی جوہر کے ساتھ برقرار ہے جیسے ہی سچائیوں کے پردے میں لپٹی ہوئی باتیں اور کردار آشکار ہوئے تو لوگوں کا یقین بھی اس شخص، گروہ، پارٹی، تنظیم یا بند و بست سے چھومنتر ہوجائیگا، کیونکہ اس جد و جہد میں کوئی کسی کا رعایا یا زرخرید غلام نہیں ہے بلکہ سب کے سب اپنی رضا و رغبت سے اس تحریک کا حصہ ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جو بہت سارے لوگوں کو روک رہی ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے اور اپنی طرف سے لگائے ہوئے الزامات کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں جھٹا پارہے ہیں، وگرنہ مناظرے سے معذوری کے اور کوئی قابل قبول توجیح بنتی ہوئی نظر نہیں آتی، وہ لوگ جو اس مناظرے کی دعوت کو تضحیک کے نشانے پہ رکھے ہوئے بچگانہ روش پہ اتر آئے ہیں وہ اس انتشار کا ایک حل بھی پیش کرکے ہماری رہنمائی فرما دیں، کیا اگر مکالمہ نہیں کرنی، بات نہیں کرنا، گفت و شنید نہیں کرنا، دلائل نہیں دینے تو کیا جنگ کرکے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے؟