کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ وطن موومنٹ، بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلو چ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ قومی جہد کارآغاعبد الکریم خان احمدزئی کو قومی آزادی کی جدوجہد میں بے لوث اور غیر معمولی کردارکے حوالہ سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہداء نے نوآبادیاتی ڈھانچہ سے نجات پانے کے لئے جدوجہد کی ان کی انتھک جدوجہد کا محور آزادی تھا انہوں نے جدوجہد کے اصولی اور ٹھوس مطالبہ کے ساتھ سطحی مراعات سے بالاتر یک نکاتی ایجنڈاکو لے کر بلوچ قومی جدوجہد کا بنیادی پروگرام سمجھتے ہوئے فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی سیاست اورسبز باغ دکھانے والے نام نہاد قوم پرست سوچ کی مخالفت کی آج قوم پرستی کے نام سے چندسطحی نقاط اور مطالبات کو بلوچ شہداء کی قربانیوں اور موقف کے ساتھ جوڑ کر بلوچ قوم کو گمراہ کیا جارہاہے اگر بلوچ قومی جدوجہد چند سطعی مطالبات کے گرد گھومتا تو پھر اتنی قربانیوں کی ضرورت نہیں اور یہ مسئلہ کب کا حل ہوچکاہوتا ساٹھ سالوں سے بلوچ کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان کی حیثیت کو تسلیم اور بحال کیا جائے لیکن بلوچ پارلیمنٹیریں جو بلوچ ہے اور بلوچ سرزمین سے ان کا مادی، خونی، قومی ،لسانی اور جغرافیائی رشتہ ہے وہ بھی بلوچ قوم سےدھوکہ کررہے ہیں بلوچ قومی مفاد اور موقف سے ان نام نہاد قوم پرستوں کاکوئی اخلاقی یا سیاسی تعلق نہیں ترجمان نے کہاکہ آغا عبدالکریم سمیت جملہ شہیدان آزادی تادم شہادت آزادی کے فکر سے وابسطہ رہے آغا عبدالکریم خان کا کردار رہنمایانہ تھا۔ جب بلوچستا ن کا الحاق کیا گیا تو آغا نے الحاق کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے آزادی اور وطن کی سلامتی کے لئے ہراول دستہ کے طور پر سامنے آئے ریاستی امور کے سربراہ ہوتے ہوئے ان کا کردار رہنمایانہ تھے جو محض اقتدار یا گورنری کو مقصد نہیں سمجھے وگرنہ وہ اپنے بھائی کی طرح خاموشی اختیار کرتے تر جمان نے کہاکہ کوئی قوم کسی دوسرے قوم کی آذادی سلب کرے تو کوئی مہذب اور انسانیت سے آشنا قوم غلامی قبول کر کے اپنی اجتماعی موت پر دستخط نہیں کرے گی آج بلوچ قوم کو بہکایا جارہاہے کہ وہ آزادہے یہ اس تاریخی وزمینی سچائی کو مسخ کرنے کی کوشش ہے ترجمان نےکہاکہ شہدإ کو یاد کرنے کا مقصد ان کے فکر کودہرانا اور مشعل راہ بناناہے آزادی کے بغیر بلوچ سیاسی و سماجی و اقتصادی طور پر ترقی نہیں کرسکتا۔


