چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںایران ایک قابض ریاست کے طور پر کسی بھی بلوچ گروہ کی...

ایران ایک قابض ریاست کے طور پر کسی بھی بلوچ گروہ کی حمایت نہیں کریگا :حیربیار مری

لندن (ہمگام نیوز ) “بلوچ رہنما اور فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیربیار مری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر اپنے ایک بیان میں امریکہ کی ایرانی رجیم پر پابندیوں کی بحالی اور ،،شیطان کے ساتھ معاہدے کو منسوخ کرنے کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مذہبی ریاست بلوچستان، کردستان، احوازی اور جنوبی آذربائیجان میں ہزاروں لوگوں کی قتل کا زمہ دار ہے جس نے شام ،یمن اور عراق میں بھی مداخلت کرکے پراکسی جنگوں کو اکسایا ۔ایران نے ہزاروں معصوم لوگوں کو پھانسیاں دی ہیں اور اس وقت 120 بلوچ صرف زاہدان کے مرکزی قیدخانوں میں قید ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئیں ہیں۔

حیربیارمری نے کہا ایرانی ملا رجیم کو تحفظ دینے کے بجائے یورپی ریاستوں کو اپنی سرزمین پر ایران کی جانب سے اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی کوششوں پر غور کرنا چاہیے۔ جون کے مہینے میں ایرانی انٹیلیجنس کی جانب سے پیرس میں اپنی ایک مخالف گروہ کو قتل کرنے کی منصوبے کو فرانسیسی پولیس نے بے نقاب کیا۔ جولائی کے مہینے میں فرانسیسی کی قتل کے منصوبے سے وابستہ ایک ایرانی سفارتکار کو گرفتار کرلیا گیا۔ اسی طرح ستمبر میں سویڈش سیکورٹی فورسز نے ایک ایرانی نژاد نارویجن شخص کو گرفتار کیا جس نے ڈنمارک میں ایک عرب لیڈر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی.

انھوں نے کہا یورپی ممالک کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر ایران یورپ کے دارالحکومتوں میں اپنے مخالف گروہوں کے خلاف قاتلانہ سازشوں میں ملوث ہو تو پھر ایران کی قبضہ اور ظلم کے ماتحت قوموں کی حالت کیا ہوسکتی ہے؟
ایرانی انٹیلیجنس سروسز آئی آر جی سی اور بسیج فورسز نے بلوچستان کی سرحد پر 700 کلو میٹر کی دیوار تعمیر کرکے بلوچستان کو ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے.

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق- 2004 سے لیکر 2009 کے دورانیے میں ایرانی حکومت نے 75 ملین آبادی میں سے 1481 افراد کو پھانسیاں دیں ہیں. اسی مدت بلوچستان میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے رپورٹ کیا کہ ایران نے 800 بلوچوں کو قتل کر دیا ہے ان اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ ان پانچ سالوں میں اسلامی حکومت کی طرف سے ہلاک ہونے والے 55 فیصد افراد بلوچستان سے ہیں.

انھون نے کہا کہ امریکی پابندیاں ان بلوچوں کے لئے بھی سبق ہیں جو اب بھی ایران سے توقعات رکھتے ہیں. مصنوعی سرحد کے دونوں اطراف کے تمام بلوچوں کو یہ سمجھنا چاہے کہ ایران ایک قابض ریاست کے طور پر کسی بھی بلوچ گروہ کی خطے میں ایک آزاد اور جہموری ریاست قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت نہیں کریگا ۔بلوچستان کے اتحادیوں کو خطے کے بدلنے والے جیوپولیٹکل منظر کو سمجھنا چاہئے. ساتھ ساتھ یہ بلوچستان کے بین الاقوامی دوستوں کے لئے آگہی مہم ہے جو ہمیشہ چاہتے تھے کہ ہم ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف ایرانی ظلم و ستم پر خاموش رہیں. وقت آ گیا ہے کہ انہیں ایران کے بارے میں حقیقت پسند ہونا چاہئے. وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ ایران نہ ان کے دوست ہیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے۔”

یہ بھی پڑھیں

فیچرز