ہمگام کالم تحریر : حفیظ حسن آبادی سال (2011) کو جب میں نے ریڈیو بلوچستان لندن کے زریعے 13 نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان منانے کی تجویز دی تو اُس وقت اس کے محرکات بی۔ایس۔او آزاد کے نوجوان کامریڈز سے بات چیت اور عام بلوچ جہد کے ہمدردوں کی مسلسل یہ اسرارتھی کہ ہر گذرتے دن کیساتھ ایک بے گناہ بلوچ کو شہید کیا جاتا ہے ،ان کی فہرست بہت لمبی ہے نہ اتنے شہداء کے دن منائے جاسکتے ہیں اور نہ شہروں بازاروں کو بند کیا جاسکتا ہے۔ساتھ میں یہ نزاکت بھی ہے کہ اگر ایک شہید کا دن منایا جائے اور دوسرے کا نہ منایا جاسکے تو اس سے اُس شہید کیساتھ بے انصافی ہونے کیساتھ خود اپنا ضمیر سوال کرنے لگتا ہے ۔اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے کہ کیوں ایک شہید کادن منا رہے ہو دوسرے کا نہیں جبکہ ہمارے لیئے ایک، ایک شہید عظیم اور اُسکی قربانی لازوال ہے۔تب اس بات پربہت سنجیدگی سے غور کرنے لگے کہ ایک دن ایسا چُنا جائے کہ وہ نہ صرف بہت ہی اہم دن ہو بلکہ اس دن کے منانے سے شہداء کے مقصدکی جد و جہد کو مہمیز ملے ۔بلوچستان کے تمام شہدا معراب خان ، سردار دوست محمد خان بارانزئی،نواب نوروزکے ساتھ قریبی سرمچار رفیق،نواب اکبر خان بگٹی،شہید بالاچ خان مری،واجہ غلام محمد اپنے ساتھیوں کی یوم شہادت اپنے طور پر بہت اہم اور بلوچ آزادی کی جد و جہد میں تاریخ ساز اہمیت کی حامل ہیں ۔اگر میر معراب خان و سردار دوست محمد خان کی شہادت کے بعد بلوچوں کی حاکمیت کا چراغ گُل ہوکر غلامی کے اندھیروں کا دور شروع ہوتا ہے تو بعد کے شہداء کی قربانیاں اُنکی تسلسل کو برقرا رکھتی ہیں ۔کس کی کتنی اہمیت ہے اسکا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ابتداء نہ ہو تو تسلسل کا وجود ممکن نہیں اور اگر سلسلہ برقرار نہ رکھا جائے تو ابتداء کی قربانیاں رائیگاں جائیں۔اگر نوروز خان نے اپنے ساتھیوں سمیت ایک عہد کو جگایا تو نواب بگٹی نے تاریخ کو نئی کروٹ دی اُس نے اپنے آپکو پیرانہ سالی میں مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے تین چیزیں ثابت کیں پہلا یہ کہ اگر ایمان پختہ اور ارادہ مصمم ہو تو کوئی بہانہ مانع نہیں ہوسکتا دوسرا یہ کہ یہ جنگ مراعات کی جنگ نہیں قومی نجات کی جنگ ہے اگرمراعات کی جنگ ہوتی تو ایک صاحب ثروت نواب اَسی سال کی عمر میں ایک ایسے معرکہ کی کمان کبھی نہیں کرتے جس سے (اُسکے اپنے )سو فیصد زندہ واپس لوٹنے کے امکانات نہ ہوں۔آپ کسی سے بھی بہتر سمجھتے تھے کہ پاکستان سے آزادی اتنی آسانی اور اتنی جلدی سے ممکن نہیں کہ میں اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھوں یا اُسکے ثمرات سے ذاتی طور پر مستفید ہو جاؤں اسکا مطلب ہے وہ وطن کی آزادی پر شعوری طور پر سب کچھ نچھاور کرنے گئے تھے تیسری اور سب سے اہم یہ کہ درست راستے پر آنے کیلئے عمر اورانجانے راستوں کی مسافت کی طوالت کوئی معنی نہیں رکھتا جہاں کہیں محسوس کیا کہ ابھی تک جو کچھ کیا وہ درست نہیں تھا اور اصل راستہ یہ ہے اُس وقت ماضی کی کوتائیوں اور غلطیوں کو بوجھ بننے نہیں دینا بلکہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر صحیح سمت لینا اور نہ اس بات کی پرواہ کرنا جو دشمن اور اُنکی زبانی کچھ دوست نما د شمن بھی اُپکو یاد دلاتے رہیں کہ کل آپ کیا تھے آج کیسے انقلابی بنے ۔اس میں شرط صرف اتنا ہے کہ آپ کو اپنے آج کے اُٹھائے ہوئے قدم کی درستگی پر یقین ہو یہ وہ معجزاتی فارمولہ ہے جو آج اور مستقبل میں ہر اُس شخص کو صحیح راہ پر چلنے کی حوصلہ دے کر اُسکی رہنمائی کرتی رہیگی جو کسی بھی موڑ پر قبضہ گیریت سے نجات کے معنی سمجھ کر اُسکے لیئے کوششوں کا آغازکرناچاہتا ہے۔شہید بالاچ مری کی شہادت بھی ایک ایسے ہی سنگ میل ہے جہاں سے حقیقی معنوں میں شعوری جدوجہد کو جلا ملتی ہے اور اسکی جغرافیہ میں وسعت کی راہیں کھلتی ہیں بالاچ مری نے پہلی بار حقیقی طور پر قبائلی قوت کو شعوری جد و جہد کے طابع کرنے کی کوشش میں نواب بگٹی جیسے مہا ہستی کو اس بات پر قائل کیا کہ آپ نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ رستہ چن لیا جس نے نہ صرف بلوچ جد و جہد کو ایک نئی زندگی دی بلکہ خود نواب بگٹی کو تا ابد بلوچ قوم کے قومی ہیروز کی پہلی قطار میں جلوہ افروز ہونے کا موقع فراہم کیا۔بالاچ مری نے پہلی بار بلوچ جہد میں قبائلی قوت کو وسیع بلوچ قومی جنگ کا ہراول دستہ بنانے میں کامیاب ہوا جسکی و جہ سے آج یہ جنگ سابقہ ادوار کی طرح صرف ایک دوقبائل پرمشتمل نہیں بلکہ پورا بلوچستان اس میں بھرپور قوت کیساتھ شامل ہیں ،اس عظیم کام کیلئے آپکے ذہنی تیاری کا اندازہ نواب بگٹی کے بلائے گئے جرگہ میں اجلاس کے سامنے تاریخی تقریر سے ہوتا ہے جس میں آپ عام بلوچ کو بگٹی قبائل کے ساتھ میدان میں نکلنے کا کہتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ مری اور بگٹی قبائل نے بلوچ قوم کے وسیع تر مفاد میں جنگ کی ہے آج وقت کا تقاضا ہے کہ اُنکا ساتھ دیا جائے ۔اسکے معنی یہ تھے کہ جو لوگ اپنے سیاسی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ آگے آئیں اور اس قوت کو بلوچ قوم کے مجموعی قوت کا حصہ بنائیں اور اسکے لیئے آپ نے واضع روڈ میپ دیا کہ سب بلوچ قوم کی آزادی کیلئے اکھٹے ہوجائیں۔یہی ویژن دراصل اُس حکمت عملی کی بنیاد بنی جس نے پورے بلوچستان کو اس جنگ کا حصہ بنایا ہے ۔اسی طرح شہید غلام محمد بلوچ اپنے سیاسی جد وجہد کے حوالے سے ایک ایسی تحریک کا نام ہے جس نے شہید بالاچ مری کے اس شعوری کوشش کو عملی جامہ پہنایا اگر نواب بگٹی اور بالاچ مری بلوچوں کو اس قومی جنگ میں شامل ہونے کا کہہ کر اُسے مضبوط و وسیع بنیاد فراہم کرنا چاہتے تو غلام محمد وہی شخص تھا جس نے اس خواب کو تعبیر دیتے ہوئے بلوچستان کے اُن علاقوں کو اس تحریک کا حصہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی بدولت لاکھ کوشش کے باوجود دشمن آج دنیا کو یہ باور کرانے میں ناکام ہو رہا ہے کہ یہ بلوچ قوم کے آزادی کی جنگ نہیں ایک دو قبائل کا مسئلہ ہے ۔مندرجہ بالا مختصر بحث سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان عظیم شہداء میں سے ہر ایک کے شہادت کا دن اپنے طور پر اس قابل ہے کہ اِسے بلوچستان کے تمام شہداء کی قربانیوں سے جوڑ کے اِسے یوم شہداء بلوچستان کے طور منایا جائے۔لیکن ہم نے13 ،نومبرکو مشترکہ طور یوم شہداء بلوچستان منانے کی وکالت کی تھی اُس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔ 1) یہ وہ تاریخی دن ہے جس سے نہ صرف بلوچستان کے فرمانروا کی شہادت کا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے بلکہ اس دن سے بلوچستان کے غلامی کی غیر رسمی ابتداء ہوتی ہے۔غیر رسمی اس لیئے کہ انگریز نے کبھی بھی بلوچستان کو اپنا کالونی نہیں کہا بلکہ اسکے ساتھ مختلف معاہدات کیساتھ باہمی تعاون کو یقینی بنایا لیکن عملی طور پر یہاں وہ تمام سازشیں کرتا رہا جس سے بلوچ کی مرکزیت ختم ہو اور اُسے آہستہ آہستہ مکمل کالونی میں تبدیل کیا جائے۔اس دن کو یا رکھنے سے دو مطلب بیک وقت بھر آتے ہیں پہلا اُس عظیم فرمانروا اور اُسکے ساتھیوں کی شہادت کو یاد کرنا دوسرا اُس بڑے المیہ کو یاد کرنا جس کے بعد بلوچ قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جھکڑا گیا ۔بلوچ قوم چونکہ ایک تحریک آزادی لڑ رہی ہے جو دراصل اُسی مزاحمت کا تسلسل ہے۔ 2) آج بلوچ قوم نہ صرف پہاڑوں ،میدانوں اور شہروں میں اپنی نجات کی جنگ لڑ رہی ہے بلکہ وہ عالمی طور پر مہذب دنیا کے سامنے تاریخی تناظر میں بھی اپنے آزادی کیلئے دلائل کی بنیاد پر رائے ہموار کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔13 ،نومبرکی قربانیاں نہ صرف اس جد وجہد کو تاریخی بنیادیں فراہم کرتی ہیں بلکہ بلوچ قوم کے اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ بلوچستان کے آزادی پسند فرمانروا کی شہادت کے بعد انگریز نے جتنی حکومتیں بنائی اور اُنکے ساتھ معاہدات کئے وہ تمام کے تمام غیر قانونی ہیں ،وہ معاہدات دیگر گماشتہ حکمرانوں نے اس خوف کی بنیاد پر کئے کہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہمارا انجام معراب خان جیسا ہوگا ۔یوں انگریز نے بلوچوں کی زمینوں کو جہاں چاہا ادھر اُدھر بخش دیا یا اُنکے ساتھ معاہدات کئے اور داخلی طور پرمحلاتی سازشوں کے تحت بلوچ قبائلی طرز زندگی کی کوکھ سے’’ سرداریت ‘‘پیدا کی جس نے اُس وقت انگریز اور اب انگریز کے جانشین پنجابی کو بلوچ وطن پر قبضہ کرنے میں مدددے رہی ہے ۔ 3 )۔یہ کہ میر معراب خان کے شہادت کی بنیاد ہے بعد میں جتنے بھی مہا ہستیاں آئی ہیں وہ اُسکا تسلسل رہی ہیں اور اگر غور سے دیکھا جائے تو اُس دن سے آج تک اس میں نشیب و فراز ،گرمی سردی ضرور آئی ہے لیکن یہ سلسلہ ہرگز نہیں رُکا ہے ۔ 4 ) اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم بلوچستان کے 12 اگست 1947 کے پوزیشن کی بات کرتے ہیں اور ریاست قلات کی بحالی پر زور دیتے ہیں ۔اُس ریاست کی والی بھی خان معراب خان تھا جو انگریز کے ہاتھوں 173 سال قبل شہید ہوا ۔جیسے کسی عمارت کی تعمیر سے پہلے اُسکی بنیاد رکھ دی جاتی ہے اِسی طرح کسی تحریک کو اُسکی بنیا د سے الگ رکھ کر تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکتا عین اِسی طرح یہ واقعہ اس تحریک کے عمارت کی مضبوط بنیاد ہے جسے یاد کرنا اور اُسکے بارے میں جاننا ازحد ضروری ہے۔ یوں یہ دن مناتے ہوئے ہم نہ صرف اُس فرمانروا کی شہادت کو یا د کرتے ہیں بلکہ اُس سے منسلک تمام تاریخی واقعات و حقیقتوں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں جو ہماری رواں تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کیلئے بہت لازمی ہے.