معیت، کامیابی کی ضمانت
تحریر: شے بجار بلوچ
ہمگام: اردو کالم
بلوچ قومی سوال گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان کے کونے کونے میں سرایت کر چکا ہے بلوچ قومی مزاحمت اپنے زور بازو سے آج بھی بیش بہا قربانیوں کے ساتھ جاری و ساری ہے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ ماؤں کے لخت جگر سرکاری زندانوں میں غیر انسانی اذیت برداشت کر رہے ہیں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ دنیا کے دیگر ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں. پانچویں بار کی قومی مزاحمت کے سلسلہ گزشتہ مزاحمتوں کی نسبت کچھ زیادہ وسیع پیمانے پر ہیں مگر بلوچ جانباز مزاحمت کو اپنے لہو سے ایندھن فراہم کر رہے ہیں جو بلوچ قومی شعور کا جیتا جاگتا ثبوت ہے.
جبری طور پر اغوا کیے گئے بلوچوں کے لواحقین گزشتہ دس سالوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگر گرفتاریوں کا سلسلہ بلوچستان کے کونے کونے میں جاری ہے مکران بیلٹ سمیت کوہلو کاہان زبردست فوجی کار روائیوں کی زد میں ہیں آج ہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کاہان کے مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی افواج جارحیت کرکے ظلم و جبر میں مصروف ہیں مکران کے علاقے دشت سے بھی فوجی جارحیت کی اطلاعات موصول ہو رہے ہیں.
گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں لاپتہ اسٹوڈنٹ اور بی ایس او آزاد سے منسلک شبیر بلوچ کی بہن سیمہ بلوچ نے ٹوکن ہڑتال و احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عام بلوچوں سمیت لاپتہ کیے گئے افراد کے لواحقین نے بھی شرکت کی، ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں اور باقی انسانیت دوستوں کے احتجاج نے پاکستانی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے وزیروں کے کرسیوں کو لرزا کے رکھ دیا تو ری ایکشنری ہو کر ریاستی خفیہ ایجنسیوں نے احتجاج کرنے والوں کو دھمکیوں کی زور سے اپنے پُر امن احتجاج ختم کرنے کو کہا. جس کا ذکر لاپتہ افراد کیلئے سرگرم عمل تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین اور شہید جلیل ریکی بلوچ کے والد ماما قدیر بھی کر چکے ہیں کہ ایجنسیاں احتجاج ختم کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور دھمکیوں سے باز نہ آنے پر احتجاج کو سپورٹ کرنے والے نوجوانوں کو پابند سلاسل کر دیا جا رہا ہے جس کی واضح مثال بہاولدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے اسٹوڈنٹ جیئند بلوچ اور ان کے کمسن بھائی حسنین بلوچ کی اغواء نما گرفتاری تھی اور بعد میں کمسن حسین بلوچ کو کراچی چینی کونسلیٹ پر نامزد کرنا تھا جو اب تک لاپتہ ہیں.
بلوچستان وہ واحد خطہ ہے جہاں پسے ہوئے بلوچوں کیلئے آواز اُٹھانے والوں کو بھی لاپتہ کیا جا رہا ہے ریاستی کریک ڈاؤن اس حد تک شدت اختیار کر گیا ہے کہ کسی کو بھی لاپتہ افراد کے بارے میں کچھ بولنے پر راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے. لاپتہ افراد کے کیمپ کے حوالے سے کوئٹہ میں موجود کسی دوست سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ کیمپ میں موجود بلوچ ماں اور معصوم بچیاں شدید سردی میں کسمپرسی کی حالت میں وقت گزار رہے ہیں. پوائنٹ اسکورنگ والے ہر روز آتے ہیں مگر عملی طور پر کام کرنے والے ابھی تک کوئی نظر نہیں آیا بس تسلی دے کر چلے جاتے ہیں اور جو کوئی بھی اظہار یکجہتی کیلئے آتا ہے تو اسے لاپتہ کرکے سالوں تک پابند سلاسل کر کے خاموش کرایا جاتا ہے اسی وجہ سے کیمپ میں موجود افراد کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے جو ریاستی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو پُر امن احتجاج کو بھی برداشت نہیں کرتے.
پاکستان ایشیاء میں ایک ایسے ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کسی بھی قومیت سے تعلق رکھنے والا شخص محفوظ نہیں. نام کی حد تک تو پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے مگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو پاکستان میں نہ اسلام کے اور نہ جمہوریت کے آثار نظر آتے ہیں ریاست گزشتہ ستر سالوں سے فوجی ڈکٹیٹر شپ کے ہاتھوں چل رہا ہے جو اپنی مرضی سے حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں اور نافرمانی کرنے والوں کو سالوں سال غائب کرتے ہیں جس کا اظہار بلوچستان حکومت سمیت وفاقی حکومت بارہا کر چکی ہے.
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو بیساکھی دینے والی واحد قوت فوج ہے جو سیاہ اور سفید کا مالک بن کر بیٹھا ہے. اسی لیے قومی مسئلوں کو طاقت کے بل بوتے پر نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے. فوجی اداروں سے امید رکھنا میرے خیال میں پاگلوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہوگا.
نومولود پشتون تحریک کچھ سالوں سے تیزی کے ساتھ جاری ہے پشتون دوستوں کا یہ ماننا ہے کہ ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے مگر دوسری جانب یہی دوست خود یہ اقرار بارہا کر چکے ہیں کہ پاکستان میں آئین اور قانون کو فوج آئی جیک کر چکی ہے فوجی قیادت کے خلاف بولنے پر اغواء نما گرفتاریوں اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے سوا کچھ نہیں ملنے والا اسی لیے پشتون دوستوں کو چاہیے کہ وہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرکے عالمی منظر نامے کو اپنے لیے ہموار کریں اسی میں پشتون قومی شناخت ممکن ہے.
پاکستان میں بلوچ عوام سمیت دیگر اقوام پشتون، سندھی، مہاجر بھی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ان اقوام کے سینکڑوں افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں. ایک کا درد سب پسے ہوئے اقوام کا درد ہوتا ہے اگر واقعی بلوچ سمیت پشتون و دیگر اقوام کو اپنے قومی مفادات عزیز ہیں تو انہیں مشترکہ کام کرنے کی حکمت عملی تربیت دینا چاہیے کیونکہ عالمی سطح تک یک آواز ہو کر ہی ہم اپنا مسئلہ حل کر سکتے ہیں جس کی واضح مثال گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں بلوچ، پشتون، سندھی، مہاجر، ہزارہ برادری کا کمپین تھا جو پہلی مرتبہ پاکستان میں ٹرینڈ نمبر ایک پر آیا تھا. مشترکہ کام کرنے کے ثمرات بیش بہا ہیں بس اس کی اہمیت سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے.


