پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںارمان لونی کے ریاستی قتل کے خلاف قندھار،کابل،جلال آباد ،پکتیا،خوست میں غائبانہ...

ارمان لونی کے ریاستی قتل کے خلاف قندھار،کابل،جلال آباد ،پکتیا،خوست میں غائبانہ نماز جنازےاور مظاہرے

کندھار (ہمگام نیوز ڈیسک) افغانستان کے مختلف صوبوں (ولایت) میں بروز اتوار پشتونوں کی طرف سےاظہار یکجہتی کے طور پر ارمان لونی کی غائبانہ نماز جنازہ اور مظاہروں کی اہتمام کی گئی۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق کل افغانستان کے مختلف صوبوں ننگرہار جلال آباد، قندھار، کنڑ،خوست،پکتیکا سمیت بیشتر چھوٹے بڑے شہروں میں پی ٹی ایم کے سرگرم رکن ابراہیم ارمان لونی کی پاکستانی پولیس کے ہاتھوں ریاستی دہشتگردی کے ناروا قتل کے خلاف اظہار یکجہتی کے طور پر غائبانہ نماز جنازہ اور مظاہرے کیئے گئے۔ جنازے اور مظاہروں میں سینکڑوں لوگوں نے شمولیت اختیار کی ۔ ننگرہار میں جنازے کے بعد شریف اللہ ناصری نے کہا کہ” اس طرح کے قتل ہمیں مصنوعی سرحد کے دونوں اطراف کبھی بھی جدا نہیں کرسکیں گی، اور ہم مزید یک راہ ہونگے اور غیر فطری ڈیورنڈ لائن ہمیں کبھی جدا نہیں کرسکتی ۔
اسی تعزیتی پروگرام میں ڈاکٹر عرفان نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی ایسے پشتون نوجوان پاکستانی افواج کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جا چکے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی پشتونوں کی نسل کشی اور ظلم و ستم اور ارمان لونی کی بے رحمانہ قتل کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔بلوچستان کے ضلع لورالائی میں مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران قتل ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما ارمان لونی کا تعلق  بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی سے تھا۔

ارمان لونی کے قریبی جاننے والوں کے مطابق ان کا اصل نام ابراہیم لونی تھا جبکہ وہ شاعری میں ارمان تخلص استعمال کیا کرتے تھے۔

پشتون قبیلے پنرڑی افغان کی ذیلی شاخ لونی سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ ارمان اپنے جاننے پہچانے والوں میں ارمان لونی کے نام سے ہی مشہور تھے اور خود کو ارمان لونی لکھنا اور کہلوانا زیادہ پسند کیاکرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز